×

ؓؓروزنامہ توار کے دفتر پر حملہ کو آزادی صحافت پر حملہ ہے توار ایک قومی اخبار کی حیثیت سے بلوچ قومی کی ترجمانی میں اہم کردا ادا کر رہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ

ؓؓروزنامہ توار کے دفتر پر حملہ کو آزادی صحافت پر حملہ ہے توار ایک قومی اخبار کی حیثیت سے بلوچ قومی کی ترجمانی میں اہم کردا ادا کر رہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ

10.4.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں روزنامہ توار کے دفتر پر حملہ کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ روزنامہ توار ایک قومی اخبار کی حیثیت سے بلوچ قومی کی ترجمانی میں اہم کردا ادا کیا گزشہ ایک دہائی سے حقیقی بلوچ ترجمان کی حیثیت سے بے بہا اورجرائت مندانہ کردار کے ساتھ صحافت جیسے اعلی پیشہ کے ساتھ حقیقی طورپر انصاف کیا اخبار کے مدیر اور ان سے منسلک سٹاف اور علاقائی رپورٹرون کی انتھک محنت اور قربانیوں کو بلوچ آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں جگہ ملے گی روزنامہ توار نے قبضہ گیر کے ظلم اور جبر کو بے نقاب کرنے ساتھ ساتھ بلوچ قومی شعور و آزادی کے تبلیغ میں اہم کردار اد کیا زرد صحافت کے اس ماحول میں جہاں اخبارات چارسینٹی گریڈ کے اشتہارات کے گرد گھومتے ہوئے حکمرانوں کی مرضی کے خبریں شائع کرتے ہیں اور بلوچ قومی پر ریاستی ظلم و جبر کو آشکار کرنے کے بجائے انہیں چھپانے میں عافیت ڈھونڈھتے ہیں اس کے برعکس روزنامہ توار نے آزاد صحافت کے علمبردا ر کی حیثیت سے ریاستی دھمکیون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلوچ قومی آواز کو قومی اور بین االقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار اداکیاترجمان نے کہا کہ روزنامہ توار کو شروع ہی دن سے دھمکیون اور حملوں کا سامنا رہا ان سے منسلک افراد کو اغواء اور شہید کیا گیا لیکن روزنامہ توار نے ثابت قدمی کے ساتھ قبضہ گیر کے ہتکھنڈوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کھبی بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوا اور نہ ہی آزاد صحافت کے اصولون پر سمجھوتہ کیا بلکہ ایک میگزین سے لے کر ایک روزنامہ تک کے سفر میں اخبارکو قدم قدم مشکلات کا سامنا رہا لیکن اخبار نے کھبی بھی آزاد اور حقیقی صحافت کا دامن نہیں چھوڑا ترجمان نے کہا کہ روزنامہ توار کے دفتر اور اخبار کے ریکارڈ کو جلانے سمیت کمپیوٹر اور دیگر سامان کی چوری سے لگتا ہے کہ بلوچ میڈیا نے قبضہ گیر کے اعصاب مجروح کردیا ہے وہ حقیقی بلوچ میڈیا کی وجود سے خوف زدہ ہے اخبار پر حملہ ان کی اضطراب اور نفسیاتی شکست کی عکاسی ہے لیکن اس قسم کی مجرمانہ ہتکھنڈوں سے بلوچ آواز کو دبا یا اور خاموش نہیں کیا جا سکتاترجمان نے کہا کہ عالمی صحافتی تنظیمیں قابض ریاست کے اس گھناؤنے کردار کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنا متحرک کردار ادا کرکے قابض ریاست کے خلاف بڑے پیمانے پر آواز اٹھائیں اور اس مجرمانہ ریاستی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ واقعہ سے انٹر نیشنل کمیونٹی کو اندازہ ہوگا کہ خطہ میں صحافت کی آزادی کی واویلا کرنے والی ریاست جو دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر آزادی صحافت کی ڈھونگ رچاتے ہیں حالیہ واقعہ ان کی دروغ گوئی سے پردہ اٹھایا ہے

Previous post

بلوچ قوم سے اپیل ہے کہ وہ ریاست کے زیر تسلط الیکشن کو مسترد کرکے ووٹ کاسٹ نہ کریں ووٹ کاسٹ کرنا اور الیکشن کا حصہ بننا غلامی پر دستخط کرنے کی مترادف ہے بانک حانی بلوچ با نک زمور آزاد بلوچ

Next post

شہدائے مرگاپ شہید غلام محمد بلوچ شہید لالامنیر بلوچ اور شہید شیر محمد بلوچ کو سرخ و سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے مرگاپ نے قومی آزادی کے لئے جس راہ عمل کا انتخاب کیا وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ