شہدائے مرگاپ شہید غلام محمد بلوچ شہید لالامنیر بلوچ اور شہید شیر محمد بلوچ کو سرخ و سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے مرگاپ نے قومی آزادی کے لئے جس راہ عمل کا انتخاب کیا وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
8.4.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شہدائے مرگاپ شہید غلام محمد بلوچ شہید لالامنیر بلوچ اور شہید شیر محمد بلوچ کو سرخ و سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے مرگاپ نے قومی آزادی کے لئے جس راہ عمل کا انتخاب کیا وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان کی بے لوث جدوجہد عمل تجربات اور غیر معمولی قربانیوں سے رہنمائی حاصل کرکے آزادی کے حصول کوممکن بنا یا جا سکتا ہے ترجمان نے کہا ہے کہ شہدائے مرگاپ کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس لئے منفرد ہے کہ کہ یہ حملہ کسی فرد پر نہیں بلکہ ایک فکر اور مشن پر حملہ تھی کیونکہ ریاست شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ سمیت اس نظریہ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس انقلابی ماحول کوبھی منتشر کرنا چاہتاتھا جو دشمن اور ان کے مقامی گماشتوں کے لئے مکران سمیت پورے بلوچ وطن میں رکاوٹ اور مشکلات کھڑی کردی تھی اس لئے ریاست غلام محمد اور ان کی ساتھیوں کو راہ سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ قومی آزادی کی فکر کی وسعت اور پھیلاؤ کو روکنے کے لئے شہدائے مرگاپ جیسے دل دہلانے والی واقعہ کو جنم دیا لیکن اس واقعہ کے بعد تحریک آزادی میں مزید شدت پیدا ہوئی جو دشمن کی گمان کو غلط ثابت کیا جس کے بعدبوکھلائٹ کا شکار ریاست تسلسل کے ساتھ مارو اور پھینکو کی بے رحم دہشت گردی کاسلسلہ جاری رکھاترجمان نے کہا کہ شہید فدا بلوچ کے بعد مکران میں آزادی کی سوچ کو زندہ کرنے میں شہید غلام محمد اور ان کے نظریاتی اور ہم خیال ساتھیوں نے تاریخی کردار اداکیاجنہوں نے مکران میں پارلیمانی جماعتوں کی ساکھ اور وجود کو کمزور کرکے فکر آزادی کو وسعت دیکر زرخرید پارلیمانی جماعتون کے گرد گھیرا تنگ کرکے ان کی رجعتی اور پاکستانی سوچ کا صفا یا کردیا تھا ترجمان نے کہا کہ شہید غلام محمد اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے تحریک کمزور نہیں ہوا بلکہ ان کے بہتے لہونے تحریک کی بنیادوں کوطاقت دی اوران کی شہادت نے بلوچ سماج میں انقلابی روح کوپیداکیا ترجمان نے کہا کہ شہادتیں جدوجہد کے ابھار کے دوران معمول کا حصہ ہوتے ہیں جو تحریک کے ساتھ مشروط طور پر جڑی ہوئی ہوتی ہیں تحریک کے ہر مرحلہ میں شہدائے مرگاپ کی فکری رہنمائی ہرلمحہ ہمارے ساتھ رہے گی ترجمان نے کہا کہ شہید غلام محمد اور ان کے ساتھیوں کی وجود اور ثابت قدمی دشمن اور ان کے باج گزار جماعتوں کی موت تھی اس لئے انھیں راستہ سے ہٹاکر شہید کیا گیا اگرچہ شہید غلام محمد جسمانی طور پر ہم سے جداہے لیکن ان کی فکر آدرش اور حوصلے آزادی کے حصول تک دشمن کا پیچھا کرتے رہیں گے ترجمان نے سندھ دھرتی کے نڈر اور بہادر سپوت بشیر قریشی کو ان کی پہلی برسی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھی قوم بشیر قریشی کی تقلید کرتے ہوئے سندھ کے آزادی کے جدوجہد میں شامل ہوکر بشیر قریشی کے ادھوری مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے آزاد سندھو دیش کے لئے صف بندی کریں ترجمان نے کہا کہ سندھ کی اپنی الگ تاریخ ہے وہ پاکستان کا حصہ نہیں اسے ہندوستان کی جبری بٹواراکے بعد بلجبر پاکستان میں شامل کیا گیاجبکہ اسی جبری بٹوارا میں شامل بنگلہ دیش پہلے ہی پاکستان سے الگ ہو گیا سندھی قوم آزاد سندھو دیش کی جدوجہد کو وسعت دینے کے لئے بشیر قریشی کی فکری رہنمائی سے استفادہ حاصل کریں ترجمان نے روزنامہ توار کے دفتر پر حملہ کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دے کر کہا ہے کہ روزنامہ توار ایک قومی اخبار کی حیثیت سے بلوچ قومی کی ترجمانی میں اہم کردا ادا کیا گزشہ ایک دہائی سے حقیقی بلوچ ترجمان کی حیثیت سے بے بہا اورجرائت مندانہ کردار کے ساتھ صحافت جیسے اعلی پیشہ کے ساتھ حقیقی طورپر انصاف کیا اخبار کے مدیر اور ان سے منسلک سٹاف اور علاقائی رپورٹرون کی انتھک محنت اور قربانیوں کو بلوچ آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں جگہ ملے گی روزنامہ توار نے قبضہ گیر کے ظلم اور جبر کو بے نقاب کرنے ساتھ ساتھ بلوچ قومی شعور و آزادی کے تبلیغ میں اہم کردار اد کیا زرد صحافت کے اس ماحول میں جہاں اخبارات چارسینٹی گریڈ کے اشتہارات کے گرد گھومتے ہوئے حکمرانوں کی مرضی کے خبریں شائع کرتے ہیں اور بلوچ قومی پر ریاستی ظلم و جبر کو آشکار کرنے کے بجائے انہیں چھپانے میں عافیت ڈھونڈھتے ہیں اس کے برعکس روزنامہ توار نے آزاد صحافت کے علمبردا ر کی حیثیت سے ریاستی دھمکیون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلوچ قومی آواز کو قومی اور بین االقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار اداکیاترجمان نے کہا کہ روزنامہ توار کو شروع ہی دن سے دھمکیون اور حملوں کا سامنا رہا ان سے منسلک افراد کو اغواء اور شہید کیا گیا لیکن روزنامہ توار نے ثابت قدمی کے ساتھ قبضہ گیر کے ہتکھنڈوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کھبی بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوا اور نہ ہی آزاد صحافت کے اصولون پر سمجھوتہ کیا بلکہ ایک میگزین سے لے کر ایک روزنامہ تک کے سفر میں اخبارکو قدم قدم مشکلات کا سامنا رہا لیکن اخبار نے کھبی بھی آزاد اور حقیقی صحافت کا دامن نہیں چھوڑا ترجمان نے کہا کہ روزنامہ توار کے دفتر اور اخبار کے ریکارڈ کو جلانے سمیت کمپیوٹر اور دیگر سامان کی چوری سے لگتا ہے کہ بلوچ میڈیا نے قبضہ گیر کے اعصاب مجروح کردیا ہے وہ حقیقی بلوچ میڈیا کی وجود سے خوف زدہ ہے اخبار پر حملہ ان کی اضطراب اور نفسیاتی شکست کی عکاسی ہے لیکن اس قسم کی مجرمانہ ہتکھنڈوں سے بلوچ آواز کو دبا یا اور خاموش نہیں کیا جا سکتاترجمان نے کہا کہ عالمی صحافتی تنظیمیں قابض ریاست کے اس گھناؤنے کردار کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنا متحرک کردار ادا کرکے قابض ریاست کے خلاف بڑے پیمانے پر آواز اٹھائیں اور اس مجرمانہ ریاستی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ واقعہ سے انٹر نیشنل کمیونٹی کو اندازہ ہوگا کہ خطہ میں صحافت کی آزادی کی واویلا کرنے والی ریاست جو دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر آزادی صحافت کی ڈھونگ رچاتے ہیں حالیہ واقعہ ان کی دروغ گوئی سے پردہ اٹھایا ہے


