بلوچ وطن موومنٹ کے سنٹرل کمیٹی کے ممبراور بلوچ دانشور قلم کار شہید رحمت اللہ شاھین بلوچ اوربلوچ قومی جہد کار اور گلزمین بلوچستان کے بہادر سپوت شہید کمال بلوچ کو خراج تحسین پیش کی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
1.4.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ وطن موومنٹ کے مرکزی باسک بلوچ دانشور قلم کار شہید رحمت اللہ شاھین بلوچ اوربلوچ قومی جہد کار اور گلزمین بلوچستان کے بہادر سپوت شہید کمال بلوچ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء نے ہمیں آزادی سے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا ان کی غیر معمولی جدوجہد اور قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے شہداء جس عظیم مقصد کی خاطر آزادی کی قربان گاہ پر ا پنی جان سے گزر کر بر سرپیکار رہتے ہیں ان کا یہ عمل انہیں ہزاروں اور لاکھوں خود غرض انسانوں کے صفوں سے الگ اور انہیں منفرد مقام دلاتاہے تاریخ کے کتبہ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور ان کی قبریں صدیاں گزرنے کے بعد بھی نہ ہموار ہوتی ہے نہ مٹ جاتی ہے ترجمان نے کہا کہ شہداء نے نہ صرف ہمیں آزادی کا فکروفلسفہ دیا بلکہ انہوں نے راستہ اور جدوجہد کے تعین کرتے ہوئے جہد آزادی کے لئے تمام سختیوں اور مصائب کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اوراس سفر میں انہوں نے جن مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے غلامی جیسے وحشیانہ نظام کے خلاف انتھک جدوجہدکی ان کی قربانیا ں رائیگاں نہیں جائیں گے قبضہ گیر اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ شہادتوں سے کسی تحریک کو کمزور کیا جاسکتاہے بلکہ شہادتیں ہی تحریکوں میں ابال پیدا کرتی ہے اور انہیں آکسیجن ،قوت اور طاقت ملتی ہے ترجمان نے کہا کہ قبضہ گیر کا یہ فطرت ہے کہ وہ آزادی کی تحریکوں کے خلاف کاؤنٹر انسرجنسی کے حربہ استعمال کرتا ہے بلکہ وہ اپنی قبضہ کو بنیاد فرائم کرنے کے لئے بے پناہ تشدد اوردہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھتا ہے نہ صرف ہتھیار کا استعمال کرتی ہے بلکہ ہر محاذ پر مقبوضہ قوم کے خلاف مسلح اور غیر مسلح خاموش دستوں کے زریعہ تشدد کرنے کی پالیسی پر گامزن رہتی ہے جو کھبی بھی کسی مقبوضہ کو تعلیم اور ترقی نہیں دیتاترقی اور تعلیم کی بات کرنے والے بلوچ قوم کے آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ترجمان نے کہا کہ قبضہ گیر ڈھونڈواور ماروپالیسی کے تحت اب تک کئی بلوچ جہدکار دانشور صحافی سیاسی اور بلوچ سکلڈ اور ہنر مند افراد کو شہید کردیا ہے اورپارلیمانی جماعتوں اور نوآبادیاتی تعلیم کے زریعہ بلوچ قوم کا نظریاتی سیاسی تاریخی ادبی اور ثقافتی استحصال کررہاہے ترجمان نے کہا کہ پروکسی پارلیمانی پارٹیاں آج بلوچ شہداء کے مقدس لہو کا پاس رکھنے کے بجائے ان کی لہوسے غداری کرکے ریاستی قبضہ کے مینار پاکستانی پارلیمنٹ کی زریعہ ریاست کے لئے بطور سٹپنی کردار ادا کررہے ہیں ترجمان نے کہا کہ پارلیمانی پارٹیاں ریاستی قبضہ کو براہ راست سپورٹ کرنے کے لئے نام نہاد الیکشن کو کلیدی آلہ کے طورپر استعمال بلوچ قوم سے دھوکہ کررہے ہیں جب کہ بلوچ تحریک آزادی کی جدوجہدنے عالمی سطح پر نہ صرف ریاست کا مورال گرادیا ہے بلکہ ان کے لئے عالمی رائے عامہ میں ہمدردیاں بھی کم ہوگئی ہے بلکہ علاقائی سطح پر بھی بلوچ عوام کی تحریک آزادی میں شمولیت اور شرکت نہ صرف ریاست کو خوف زدہ کردیا ہے بلکہ ان کی عملداری اور قبضہ غیر مستحکم ہونے جارہاہے لیکن گماشتہ پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کے نام پر اس ڈرامہ میں ریاستی پالیسیوں کا حصہ بننے کے اس مکروہ عمل کو جو مکمل بلوچ آزادی دشمنی پر مبنی ہے بلوچ قوم ان کے مکروہ پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر اپنی تمام تر ہمدردیا ں بلوچ تحریک آزادی کو دیں۔ ترجمان نے کہا کہ شہداء کا ارمان پاکستانی الیکشن نہیں بلکہ آزاد بلوچستان ہے


