فدا بلوچ کو شہید کرنے والے جان لیں کہ ایک انقلابی و نظریاتی سپوت کو جسمانی طور پر اگر چہ علیحدہ کیا جاسکتاہے لیکن اس کی فکر و فلسفہ اور نظریات کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلوچ سالویشن فرنٹ
2.5.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں شہید فدا بلوچ اورشہید نصیب اللہ بلوچ کو قومی جدوجہد میں ان کی لازوال اور بے لوث قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فدا بلوچ کو شہید کرنے والے جان لیں کہ ایک انقلابی و نظریاتی سپوت کو جسمانی طور پر اگر چہ علیحدہ کیا جاسکتاہے لیکن اس کی فکر و فلسفہ اور نظریات کو ختم نہیں کیا جاسکتا شہید کھبی نہیں مرتاوہ اپنی فکر اور آدرش کے شکل میں ہمیشہ زندہ رہتاہے ان کا کردار سماج کے لئے مثال بن جاتا ہے ایسی آئیڈیل کردا ر جو اپنے فکر و آدرش کے زریعہ کسی بھی سماج میں ابال کا زریعہ بنتے ہیں قبضہ گیریت کے خلاف لوگوں کو انقلابی تعلیم سمیت تنظیم راستہ اور فکر دیتے ہیں جو مایوسی اور غلامی کے آلودگیوں کو مٹاکر بے حس سماجوں کو روح دیتے ہیں انہیں نہ تو قتل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کی تاریخی کردار و عمل کو مٹائی جاسکتی ہے ترجمان نے کہا کہ شہید فدا بلوچ قومی آذادی کے جدوجہد کا اہم کردار ہے جسے آزادی کی قومی موقف اور پاکستانی پارلیمنٹ کی کھلی مخالفت کی پاداش میں شہید کیا گیاتاکہ قومی جدوجہد آذادی میں تعطل پید اکرکے کرپٹ پارلیمانی کلچر کو عوام میں متعارف کیا جائے لیکن فدا کو شہید کرنے والے پارلیمانی گماشتہ یہ ثابت کردیں کہ کیا وہ فدا کے نظریات اور اس کی عظیم مشن کو قتل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے یا فدا بلوچ کے فکر نظریہ اور حوصلہ آج بھی ان کا پیچھا کرکے انہیں پسپا ء کرچکے ہیں ترجمان نے کہا کہ فدا کو شہید کرنے کا مقصد بھی یہی تھاجس طرح آج دوسرے بلوچ نوجوانوں اور انقلابیوں کونشانہ بناکر اور اغواء کرکے شہید کیا جارہاہے تاکہ اس بے رحم قتل عام اور ماس کلنگ کے زریعہ بلوچ تحریک آزادی میں رکاوٹ پیدا کی جائے لیکن انسانی تاریخ قبضہ گیریت کے اس گھناؤنے اور مجرمانہ پالیسی کو مسترد کرتی ہے کہ وہ آزادی کے حقیقی تحریکوں کو قتل غارت گری ونسل کشی سمیت انسانی بحران پیدا کرنے جیسے حربوں کے زریعہ نہیں روک سکتے دنیا میں سپر طاقتون کو بھی مقبوضہ قوموں نے اپنی آ ہنی اور فولادی عزم کے زریعہ شکست دے کر اپنی منزل حاصل کرلی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ قابض ریاستی الیکشن بائیکاٹ کے سلسلے میں بلوچ سالویشن فرنٹ بلوچ قوم دوست رہنماء میر حیر بیار مری کی جانب سے ایک روزہ احتجاجی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن بائیکاٹ کے سلسلہ میںیہ انتہائی اہم اقدام، مناسب اور موثرفیصلہ ہے بلو چ عوام 11 مئی کے پورے دن اپنے گھروں سے احتجاجا نہ نکلیں تاکہ اس خاموش احتجاج کے زریعہ قبضہ گیر پر واضح کیا جاسکے کہ بلوچ قوم کا ریاستی فراڈ الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ترجمان نے کہا ہے بلوچ عوام کی اس قومی بائیکاٹ اور لاتعلقی قابض ریاست اور ان کے مٹھی بھر طفیلی افراد کے لئے بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوگی بلوچ قوم اس احتجاجی عمل میں رضاکارانہ طور میں انتہائی توجہ اور جزبہ کے ساتھ شامل ہوکرقابض ریاست اور آزادی دشمن قوتوں کو عبرتناک شکست دیں ترجمان نے کہا کہ پارلیمانی سیاست اور ووٹ الیکشن بلوچ قومی غلامی کو آکسیجن دینے کی مترادف ہے اس سے بلوچ قوم کا معیار زندگی تبدیل نہیں ہوگا آگے بڑھنے کا واحد راستہ آزادی کی جدوجہد ہے مصالحت اور الیکشنوں کے زریعہ غلامی کے ازیت اور عزابوں میں اضافہ ہوگا آزادی سے کم کوئی بھی موقف اور کوئی بھی سیاسی وژن بلوچ قوم کی سیاست نہیں بلکہ قابض ریاست کی سیاست اور ان کی قبضہ گیریت کی پالیساں ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کی پشت پر ریاست کی طاقت اور سوچ موجود ہے ان کی پالیسیان اور آئین منشور نام نہاد پاکستانیت کے ارد گر دگھومتے ہیں بلوچ عوام پارلیمانی جماعتوں اورریاستی الیکشن کو مسترد کرکے الیکشن کے دن اپنے گھروں میں رہ کر اقوام متحدہ اور انٹر نیشنل کمیونٹی کو واضح پیغام دیں کہ بلوچ جدوجہد کا منزل اور مقصدصرف اور صرف آزادی ہے


