×

قلات کے علاقے جوہان نرمک ، کابو اسپلینجی اور کوہ ماران کے گردو نواح میں نسل کشی پر مبنی فوجی جارحیت کا آغاز کیا گیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

قلات کے علاقے جوہان نرمک ، کابو اسپلینجی اور کوہ ماران کے گردو نواح میں نسل کشی پر مبنی فوجی جارحیت کا آغاز کیا گیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

2.6.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ درندہ صفت قابض فورسز ہفتہ کے علی الصبح سے قلات کے علاقے جوہان نرمک ، کابو اسپلینجی اور کوہ ماران کے گردو نواح میں نسل کشی پر مبنی فوجی جارحیت کا آغاز کرکے سول آبادیوں اور نہتے بلوچ قوم کے گھروں گدانوں اور مال مویشیوں پر لڑاکا طیاروں کے زریعہ بمبارمنٹ اور شیلنگ کررہی ہے اب تک کئی گھروں اور گدانوں کو جلادیا گیاہے گندم کے زخیروں کو جلانے کے واقعہ سمیت گھروں میں موجود مال مڈی کے لوٹ مار کا سلسلہ تاحال جاری ہے ہفتہ کے شام تک کی اطلاع کی مطابق اب تک سات نوجوانوں کو اغواء اور دوخانہ بدوش بلوچوں کو کابو کے علاقہ میں ریاستی فورسز نے شہید کیاہے علاقہ کے آمدرفت کے تمام زمینی راستے سر بمہر کردیئے گئے ہیں شدید بمباری سے کئی لوگ اپائج اور زخمی ہوچکے ہیں شدید زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہے زمینی افواج خود کار ہتھیاروں اور دور مار توپوں سے شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے جب کہ فضاء سے بھی کارپٹ بم گرانے کا سلسلہ جاری ہے کل سے شروع کی جانی والی نسل کش آپریشن کو پھیلانے اور اس میں شدت لانے کے لئے فورسز کی بڑی کھیپ وقفے وقفے کے ساتھ ہیلی کاپٹروں کے زریعہ بھیجی جارہی ہے ترجمان نے بمباری میں شہید ہونے والے بلوچ آزادی پسندخانہ بدوش جانثاروں کو سرخ و سلام پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی انتخابات کی بائیکاٹ کی صورت میں آزادی کی تحریک کو جو عوامی مینڈٹ ملی ہے اس کیفیت نے آزادی کے مطالبہ کو نہ صرف تقویت دی ہے بلکہ قبضہ گیر کو ایک ریفرنڈم کی صورت میں زخم خوردہ کردیا ہے جس سے ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بھیانک تشدد اور بے بہا خونریزی کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے اپنی شرمناک شکست کو چھپانے کے لئے سول آبادیوں کو نشانہ بناکر غیر جنگجو بلوچوں کو بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے بلوچ تحریک آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بے پناہ جارحیت پر اتر آئی ہے جب کہ بلوچ تحریک آزادی نظریاتی و فزیکلی طور پر ناقابل تسخیرقوت بن چکی ہے جسے نہ ریاست کے بھیانک تشدد کمزور کرسکتے ہیں اور نہ قبضہ گیر کی جانب سے خوف پھیلانے اور بلوچ قوم کے محصوکرنے کی مکروہ پالیسیان کارگر ہوسکتی ہے کیونکہ بلوچ قوم آزادی کو اپنی منزل و مقصد اور بلوچ مساحل کاحل سمجھتے ہوئے دلیری ور بے باکی سے تحریک کے صفوں میں کھڑے ہو چکے ہیں اور آزادی کو بلوچ قوم اپنی نصب العین سمجھتی ہے کوئی بھی ریاستی دہشت گردی بلوچ کے زہن نہیں توڑ سکتے کیونکہ آزادی کی نظریات خیالات و عمل نے بلوچ قوم کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت کے طوفان برپا کردی ہے یہ طوفان نہ ریاستی بمباریوں سے تھم سکتی ہے نہ کہ کٹھ پتلی حکومت کی جمہوری نسخہ اسے روک سکتے ہیں جب تک بلوچ قوم کی پیشانی سے غلامی کا نام و نشان نہ مٹ جائے گاقبضہ گیر کو بلوچ قومی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑیگاچائے اس کے لئے بلوچ قوم کو کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ کی جانب سے بلوچ مسئلہ کی بابت توجہ اور پیش رفت کے باعث بلوچ قوم جو توقع کررہی تھی لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے اب تک قبضہ گیر کے جنگی جرائم کے پیش نظر بین الاقوامی طور پرنہ تو ریاست کے خلاف کوئی ایف آئی آر چاک کی گئی اور نہ کہ بلوچ نسل کشی اوربلوچ وطن پر پاکستانی قبضہ کے خلاف کوئی قابل ذکر کاروائی کی گئی اقوام متحدہ کی یہ مصالحانہ خاموشی ان کے بے بسی کو ظاہر کرتی ہے یا تو وہ اپنے کان میں پڑنے والی آواز کو نہیں سنتی یا تو اس کی خاموشی اس کی کٹھ پتلی تنظیمی حیثیت کو ظاہر کرتی ہے پورے دنیاکو صبر و تحمل اخلاقیات اور رحم کا درس دینے والی بین الاقوامی تنظیم اقوام متحدہ پاکستانی دہشت گردی پر مکمل خاموش ہے بلکل اسی طرح بلوچ قوم نے پہلے بھی واضح کیاہے کہ انسانی حقوق کانعرہ حقوق دینے کے لئے نہیں حقوق لوٹنے کے لئے لگائی جاتی ہے یہ سامراج نواز انسانی حقوق کی تنظیموں کا حقیقی چہرہ ہے جسے اب تک دنیا کے آدھی آبادی نے بھی نہیں سمجھا کہ کہ اس غیر منصفانہ وحشیانہ اور سامراجی نظام میں غلام اور مظلوموں کے حقوق نہیں ہوتے بلکہ حکمرانوں اور سامراج اور قبضہ گیر کی لوٹ مار کو تحفظ دینے کے لئے انسانی حقوق کا خوبصورت لفظ استعمال کرکے غلام اور مقبوضہ قوموں کے آنکھوں مین دھول جھونک جارہاہے جب کہ انسان دو دنیاؤں میں تقسیم ہے ہماری نظر میں انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے اس عالمی سامرجی اصطلاح پر پھر سے نظر ثانی کرے ترجمان نے کہا کہ قبضہ گیر سیاست جمہوریت سمیت زرائع ابلاغ کوبے ایمان منافق جانبدارخود غرض اور اپنے تابع بناکر اپنے حق میں موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے عین اسی طرح پاکستانی الیکٹرانک میڈیا پنجاب کے ایک گائے کے گرنے اور زخمی ہونے کی خبر کی فوٹیج اور بریکنگ نیوز چلاتی ہے لیکن بلوچستان میں ریاست کی خونی کاروائیوں اور جنگ زدہ بلوچ وطن پاکستانی فورسز کی دہشت گردیوں کی فوٹیج حاصل کرنے کی تکلیف نہیں کرتی اوراپنے سکرین پر غلطی سے بھی ریاست کی دہشت گردی اور بمباریوں کی مناظردکھانے سے معزور نظر آتی ہے

Previous post

ریاستی دہشت گردی بلوچ قومی آزادی کے مطالبہ کو کمزور نہیں کرسکتے مڈل کلاس کے زریعہ بلوچستان میں ریاست کی ساکھ اور تسلط کو برقرار رکھنے کی قبضہ گیر کی مصنوعی اور غیر فطری حربے کارگر ثابت نہیں ہوں گے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

سندھ کے علاقہ گھوٹکی میں بلوچ مہاجریں کی گھروں پر حملہ حاصل بگٹی اور اس کی ضعیف العمر والدہ ا اور بلوچ ایکٹوسٹ صادق علی جمالدینی کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اغوا ء ا ور شمع بگٹی کے والد اور بھائی کی قتل ریاستی دہشت گردی ہے بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ