×

آغا عبدالکریم خان کی بلوچ تحریک آزادی میں رہنمایانہ کردار رہاہے وہ بلوچ تحریک آزادی کا سرخیل بانی اورہماری قومی رہنماء ہے جنہوں نے پاکستانی فوجی مداخلت اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرتے ہوئے تحریک آزادی کی بنیاد ڈالی بلوچ سالویشن فرنٹ

آغا عبدالکریم خان کی بلوچ تحریک آزادی میں رہنمایانہ کردار رہاہے وہ بلوچ تحریک آزادی کا سرخیل بانی اورہماری قومی رہنماء ہے جنہوں نے پاکستانی فوجی مداخلت اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرتے ہوئے تحریک آزادی کی بنیاد ڈالی بلوچ سالویشن فرنٹ

6.7.2013

بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں بلوچ قومی راہشون آغاعبدالکریم خان احمدزئی کوعلم آزادی بلند کرنے، ریاستی قبضہ کے خلاف جدوجہد، محاذآزادی پر خدمات رہنمائی اور قربانیوں پرخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آغا عبدالکریم خان کی بلوچ تحریک آزادی میں رہنمایانہ کردار رہاہے وہ بلوچ تحریک آزادی کا سرخیل اور بانی اورہماری قومی رہنماء ہے جنہوں نے پاکستانی فوجی مداخلت اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرتے ہوئے تحریک آزادی کی نہ صرف بنیاد ڈالی بلکہ برٹش قبضہ کے خلاف جاری بلوچ قومی آزادی کے جدوجہد کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے مسلمانیت کے نام پر ریاستی قبضہ کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے کہاکہ غلامی چائے مسلمانیت کے نام پر ہو یا کسی غیر مسلم کی قبول نہیں کوئی بھی قبضہ گیرکسی مذہب کا سہارا لے کرکسی دوسرے قوم کی آزادی کو سلب کرے اور اس کی آزاد و کود مختیار حیثیت پر ڈاکہ ڈالے تو کوئی مہذب اور انسانیت سے آشنا قوم اس کی غلامی اور تابعداری کو اپنی اجتماعی موت سمجھ کر قبول نہیں کرے گی جب بلوچ وطن پر ریاست نے فوجی مداخلت کے زریعہ قبضہ کیا اس وقت آغا عبدالکریم خان مکران کے گورنر کی حیثیت سے آزاد بلوچ ریاست میں خدمات انجام دے رہے تھے انہوں نے ریاست قلات کے سابقہ وکیل محمدعلی اور خان قلات کے درمیان ملاقاتوں اور خود ساختہ معائدوں کے نام پر الحاق کو بلوچ مرضی و منشاء کے برعکس قرار دیتے ہوئے اسے جبری الحاق قرار دیکربلوچ قومی آزادی کی جدوجہدکی داغ بیل ڈالی اور بلوچ قوم کو منظم کرنے اور انقلابی پیمانے پر تنظیم کاری اور تبلیغ اور شعوری آگائی کا سلسلہ شروع کردیا اور باقائدہ گی سے بلوچ لبریشن کمیٹی کے زریعہ آزادی کے لئے صف بندی شروع کی آغا عبدالکریم خان نہ صرف بلوچ ریاستی امور کے ایک سربراہ بلکہ ایک مدبر اور دانشور تھے وہ لینن اور ماؤزے تنگ کے نظریات اور جدوجہدپر گہری نظر رکھتی تھی وہ عسکری محاز پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ شعوری آگائی کا سلسلہ بھی شروع کیا وہ اپنے حلقوں کو انقلابی تعلیم اور لٹریچرسے روشناس کرانے میں بھر پور مددکی ترجمان نے کہا کہ آغا عبدالکریم خان کے برسی منانے والے پاکستانی فریم ورک کو تسلیم کرنے والی تنظیمیں آغا عبدالکریم خان کے فکر کیساتھ انصاف نہیں کررہے ہیں آغا عبدالکریم خان کو یاد کرنے کا مقصد ان کی فکر کو فلسفہ کو اپنانے کی تقا ضاہے جب کہ آغا عبد الکریم خان آزا دبلوچ ریاست کے لئے جدوجہد کررہے تھے ان کا منزل مقصد پاکستانی پارلیمنٹ اور قبضہ گیر کی اقتدار تک رسائی نہیں تھی ترجمان نے کہا کہ آغا عبدالکریم خان کے فکری وارث وہی ہے جو آزادی کے لئے اپنی جان مال اور گھربار کی قربانی تک دے رہے ہیں آزادی کے ایسے بے لوث رہنماؤں پر تاریخ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی ایسے مثالی راہنماءء اور ہزاروں شہداء جو ہمارے درمیان آج موجود نہیں زندگی تو کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتی لیکن ان شہداء اور رہنماؤں کا فکر آج ایک کاروان کی صورت میں زندہ ہے ہمیں ان کی فکری و عملی رہنمائی میں آزادی کے جدوجہد کو اپنی صلاحیتون کی شکل میں قوت و حمایت دینا چاہیے آزادی کے بغیر بلوچ قوم کی سماجی و سیاسی وقومی حیثیت اور معیار زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گا بلکہ بلوچ قوم نہ صرف نوآبادیاتی قوتوں زیر اثر رہے گا بلکہ ان کی زندگی کے مفلوک الحالی اور بھی بڑھیں گے ترجمان نے کہا کہ آج عالمی سطع پر بلوچ آزادی کی گونج اور آزاد بلوچ ریاست کی قیام کے حوالہ سے بلوچ موقف کی پزیرائی اور تائید دشمن اور ان کے خیمہ بردار مقامی اشرافیہ کی نیندیں حرام کردی ہیں اور وہ بلوچ تحریک کو کریش کرنے کے لئے ریاستی دہشت گردی اور پروپیگنڈہ کا حصہ بن کر بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے اوآزادی کے احساس اور جزبوں کو سرد کرنے کے لئے ریاستی قبضہ کو برقرا رکھنے کے لئے بطور سٹپنی کام کررہے ہیں گزشتہ دنوں گڈانی سے بلوچ فرزند ماسٹر یعقوب بلوچ کا اغواء اور بلوچ خواتین پر تشدداسی ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے ایسے اندوہناک واقعات سے ریاست بلوچ قومی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتا ترجمان نے کہاہے کہ آزادی بلوچ قوم کا حق ہے بلوچ قوم الحاق کے نام پر ریاستی قبضہ کو مسترد کرتے ہوئے یک نکاتی ایجنڈا قومی آزادی کے مطالبہ کو بلوچ قومی مسئلہ کا واحد حل سمجھتی ہوئے عالمی دنیاسے اپیل کرتی ہے وہ بلوچ تحریک آزادی کی غیر مشروط حمایت کرکے اپنا بین االاقوامی فریضہ ادا کریں

Previous post

بی این ایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے اپنے اخباری بیان میں سوشل میڈیامیں گروہیت علاقائیت شخصیت پرستی اورجدوجہد میں کمزوریوں اور کوتاہیوں کے حوالہ سے حقیقی بحث و مباحثے کوزہر آلود اور آزادی اور یکجہتی دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے زمینی حقائق سے چشم پوشی کی ہے

Next post

ریاستی کمیشن کی جانب سے مغوی بلوچوں کی درجہ بندی اور ان کی لاپتہ ہونے کے معاملے کو مختلف درجات میں تقسیم کرنے کی کوشش دراصل ریاستی خفیہ اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک اور چال ہے بلوچ سالویشن فرنٹ