اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور علمبرداروں کو انسانی حقوق کے نمائشی پاسداری کرنے کے بجائے حقیقی طور پر انسانی حقوق کی پائمالیوں سمیت بلوچ فرزندوں کی بے رحمانہ قتل عام کا نوٹس لیں۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
30.8.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے International Day of the Disappearedکے مناسبت سے جاری بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور علمبرداروں کو انسانی حقوق کے نمائشی پاسداری کرنے کے بجائے حقیقی طور پر انسانی حقوق کی پائمالیوں سمیت بلوچ وطن میں قابض ریاست کی جبری قبضہ فوجی موجودگی اور بلوچ فرزندوں کی بے رحمانہ قتل عام کا نوٹس لینا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو خطہ کے صور تحال کی حساسیت کا ادراک رکھتے ہوئے بلوچ وطن میں ریاستی دہشت گردی اور قبضہ گیر کی جرائم کو نظر انداز کرنے اور ان پر زبان بندی کے بجائے اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیوں میں کھلے موقف کے ساتھ ریاستی دہشت گردی کی نہ صرف مزمت کرنی چاہیے بلکہ اس کو روکنے کے لئے اپنا بین الاقوامی کردار بھر پو انداز میں ادا کرنا چاہیے ترجمان نے کہا کہ بلوچ وطن میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پائمالیوں کا سلسلہ جاری ہے بلوچ قومی جدوجہد سے وابسطہ اب تک اٹھار ہزارکے قریب بلوچ فرزندوں کو اغواء کیا گیاہے ایک ہزار سے زائد بلوچ نوجوانوں کو مارو اور پھینکو پالیسی کے تحت شہید کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینکی گئی ہیں ہزاروں معصوم بلوچ شہریوں کو کیمیائی ہتھیاروں اوربمباریوں کے زریعہ شہید کیا گیا ہے ہزاروں لوگوں کے گھروں کو بلڈوز کرکے انہیں بے گھر کردیا دیاگیاہے بلوچ سیاسی کارکنوں کے گھرون پر چھاپوں اور انہیں گھروں میں نشانہ بنانے کے ہزاروں واقعات ریاست کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے تلاش کرو اور مارو کے گھناؤنے ایجنڈے کے ساتھ ریاست پورے بلوچ وطن میں نوجوانوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں چن چن کر شہید کررہاہے اور یہ سب کچھ انسانی حقوق کے علمبرداروں کے آنکھوں سے اوجھل نہیں بلکہ ان کے آنکھوں کے عین سامنے ریاست اپنے ناپاک مفادات کے تکمیل کے لئے بلوچ قوم کی نسل کشی کررہی ہے جو سلو جینو سائیڈ ہے انسانی حقوق کے تمام علاقائی اور عالمی تنظیموں کے پاس اس سلسلے میں تمام اعداد و شمار اور تفصیلات موجود ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے حالانکہ اقوام متحدہ کے اپنے معائنہ کار ٹیم بلوچستان آکر خود اس سلسلے میں اپنے زرائع سے لاپتہ افراد کے حوالہ سے بلوچ موقف کی تصدیق اور تائید کرنے کے بعداب تک اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے پیش رفت سے قاصر ہوکر قبضہ گیر ریاست پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی خیر سگالی کر رہی ہے جو انسانی حقوق کے دعووں کے ساتھ خیانت اور دغا ہے ترجمان نے بلوچ قومی سپوت شہید رسول بخش مینگل شہید طور خان سیلاچی شہید شاہ میر بلوچ کو سرخ و سلام و خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ قابض ریاست اپنے وجود کو خطرے میں پڑتا دیکھ کر بڑے پیمانے پر بلوچ قوم کی نسل کشی کررہی ہیں گولیوں سے چھلنی اور تشددزدہ لاشوں کا ملنا بھی اسی سلسلہ کی کھڑی ہے شہید رسول بخش اور بلوچ قومی جہد سے وابسطہ ان شہداء کو بھی اسی پیمانے اغواء کرکے شہید کیا گیا ہے اور اب تک ایسے ہزاروں بلوچوں کو اسی طرح حراست میں لے کر شہید کیا گیاہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبرداروں کے خاموش تماشائی کے ساتھ اب تک جاری ہے جنگی جرائم کی پائمالیوں اورفوجی جارحیت میں قبضہ گیراپنی ثانی نہ رکھتے ہوئے اب اس سلسلہ کو مزید تیز کرکے بلوچ جدوجہد کو کچلنے کی ناکام کوششوں کے ساتھ خونریزی کا سلسلہ تیز کردیا ہے اگر خطے میں خونریزی روکنے سمیت بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کا احترام نہ کیا گیا تو مستقبل میں صورتحال انتہائی حد تک بھیانک اور گھمبیر ہوگی ترجمان نے کہاہے کہ ہم ساری دنیا کو آگاہ کرناچاہتے ہیں کہ ہم کسی بیرونی طاقت کا قبضہ قبول نہیں کرسکتے اور آج بلوچ خطہ کی صورتحال جس نہج پر پہنچ چکی ہے بلوچ قوم کا جتنا خون بہایا گیا ہے ہم اس سے خوف زدہ نہیں ہماری جدوجہد برابر جاری رہی گی ہم اس وحشیانہ نظام کے ساتھ آنکھیں بند کر نہیں چل سکتے جو انسان کو انسانی اقدار سے دور رکھتی ہے بلکہ انسان کو حیوان بناتی ہے جس کا نا م غلامی ہے اور بلوچ اس غلامی سے نجات کے لئے سنجیدگی اور زمہ داری کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے ہماری موقف اور مطالبہ بلوچ قومی آزادی اور آزاد بلوچ ریاست کا قیام ہے جس کی قیام سے خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلی پیداہوگی جو عالمی امن کی استحکام کا سبب بنے گی


