28مئی کو یوم آسروخ کے طور پر منانے کا اعلان یہ بلوچ تاریخ کا سیاہ تر ین دن ہے بلوچ قوم قبضہ گیر کی جانب سے سرزمیں کو ایٹمی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے اور ایٹمی دھماکوں اور تابکاری اثرات کے خلاف نفرت کا اظہار کریں بلوچ سالویشن فرنٹ
19.5.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلو چ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے 28مئی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ دن بلوچ تاریخ کا سیاہ تر ین دن ہے بلوچ قوم اسے یوم آسروخ کے طور پر مناکر قبضہ گیر کی جانب سے بلوچ سرزمیں کو بطور ایٹمی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے اور ایٹمی دھماکوں اور تابکاری اثرات کے خلاف بھر پور اندازمیں نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ نسل کش اور انسانیت دشمن مجرمانہ پالیسیوں کی مذمت اور مخالفت کریں ترجمان نے کہاکہ28مئی 1998کو بلوچستان کے علاقہ چاغی میں راسکوہ کے مقام پر بیک قت ساتھ ایٹمی بم پھوڑ کرپاکستانی ریاست نے اپنے سامراجی عزائم کے ساتھ راسکو اور ملحقہ علاقون میں انسانی زندگی کو نہ صرف ناممکن بنا یا بلکہ پورے بلوچستان کے فضاء کو تابکار اور زہر آلود کردیا 28مئی1998سے لے کر اب تک سولہ سال گزرنے کے باوجود تابکاری سے پھیلنے والے مہلک اور جان لیوا بیماریوں نے انسانی بقاء اور زندگی کو مشکلات سے دوچار کیا ہے جبکہ چاغی اور ملحقہ علاقوں کے درجہ حرارت میں ماضی کی نسبت زیادہ شدت نظر آتی ہے جبکہ ان علاقون کو کیمیائی اور بیکٹریا کے خطرناک بادلوں کا مسلسلپ سامنا کرنا پڑرہاہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کے سرزمیں پر ایٹمی دھماکوں کے بعد مال مویشی کی ہلاکت خشک سالی اور بڑے پیمانے انسانی اموات کے واقعات رونماء ہوئے تھے جبکہ ان کی تابکاری اثرات آج بھی اسی پیمانے پر موجود ہے جبکہ مہذب دنیا برطانیہ یورپی یونین اور امریکہ سمیت تمام انسان دوست تنظیموں اور ادارون نے پاکستانی ریاست کو ایٹمی تجربات سے سختی سے منع کیا لیکن ریاست اپنی روایتی اور موروثی اور تاریخی انسانیت دشمن سوچ پر کار بند رہ کر عالمی برادری کی انسان دوست نظریات کو روندتے ہوئے عالمی قوانین کی برملا خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی جنونی شوق کو پورا کرنے کے لئے بلوچ سرزمین کو ٹیسٹ زون کے طور پر انتخاب کرکے بلوچستان کے فضاء میں بارود چھوڑ دیا جبکہ قبضہ گیر ریاست آج بھی عالمی ضمیر کے سامنے اپنے مجرمانہ عمل پر خفت اٹھانے کے بجائے فخر اور تکبر کے ساتھ ایٹمی ہتھیارون کی نمائش و رونمائی کو یوم تکبیر کے نام پر مناکر اپنی سفاکیت اور وحشیانہ عمل پر جشن اور شادیانے منانے کا اہتمام کررہاہے ترجمان نے کہاکہ پنجاب اور اس کا پورا وجود بلوچ قوم کا دشمن ہے پاکستان کو بلوچ قوم سے ہمدردی نہیں بلکہ بلوچ سرزمین اور اس کے وسائل کی لگاؤ ہے بلوچ سرزمین کو ہتھیانے کے بعد وہ بلوچ وسائل پر گھات لگائے بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ پنجاب اور اس کی آنے والی نسلوں کی معاشی زندگی بلوچ وسائل سے وابسطہ ہے اس لئے وہ آج ہر اس بلوچ کو شہید کررہی ہے جو آزادی کی مانگ اور مطالبہ کررہاہے آج پنجاب اور اس کے مقامی گماشتہ کی جانب سے بلوچ قوم سے جھوٹی خیر خوائی ترقی و تعلیم کی بات مکاری اور فریب ہے جو ہر قابض کی پالیسی ہوتی ہے جو مقبوضہ قوم کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے ہمیں پنجاب کی جھوٹی خیر خوائی مگر مچھ کے آنسو اور مکارانہ مروت اور ہمدری کی قطعا ضرورت نہیں ہمیں ہماری آزادی کی ضرورت ہے جو ہماری تشخص ترقی تعلیم زندگی اور بقاء کا محافظ ہے


