نواب اکبر خان بگٹی نے انتہائی ضعیف العمری اور پیرانسری میں قومی آزادی کی جدوجہد میں سرفروشی عالی حوصلگی اور ایثار قربانی کی لازوال مثالیں قائم کرکے تاریخ میں اپنے آپ کو امر کردیا بلوچ سالویشن فرنٹ
26.8.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے اتحادبلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے شہید نواب اکبر خان بگٹی شہید خمیسہ خان مری اور شہدائے تراتانی کو بے پناہ عقیدت کے ساتھ سرخ سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے تراتانی کی لازوال قربانی اور مثالی جدوجہد بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے انہوں نے کہا کہ نواب اکبر خان بگٹی نے انتہائی ضعیف العمری اور پیرانسری میں قومی آزادی کی جدوجہد میں سرفروشی عالی حوصلگی اور ایثار قربانی کی لازوال مثالیں قائم کرکے تاریخ میں اپنے آپ کو امر کردیا شہید اکبر خان اور تراتانی کے اس سانحہ میں شہید کئے جانے والے ان کے ساتھی جہد کاروں کا کردار کھبی نہ بجھنے والی مشعل آزادی کی طرح آنے بلوچ نسلوں کے لئے فکر و رہنمائی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی قربانیاں رائیگان نہیں جائیں گے انہوں نے ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاکر بلوچ قوم کو قابض کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کو تسلسل کو آگے بڑھاکر اپنی خوں اور قربانیوں سے انقلاب کی سلگتے چنگاری کو بھڑکانے میں مدد کی ترجمان نے کہا کہ بلوچ قومی تاریخ لاتعداد وطن دوست سپوتوں کی قربانیوں سے عبارت ہے ہم اپنی کئی نسلوں اور اسلاف کی جہد آزادی اور بے مثال قربانیوں سے آگاہ ہیں ہماری تاریخ معلم آزادی کی مانند وطن کی آزادی اور دفاع کے لئے ہمیں شعور و آگائی فرائم کرتاہے جس قوم کی تاریخ شہداء کی خون سے سرخ ہو اس قوم کو کوئی بیرونی حملہ آور تا ابد غلام نہیں رکھ سکتا ترجمان نے کہا کہ بلوچ آزادی کی کی تحریک کو دبانے کے لے قابض ریاست اپنی تمام تر جارحیت کے ساتھ بلوچ جہد کاروں اور آزادی پسندوں کو شہید کررہاہے اور 18ہزار کے قریب بلوچ فرزندوں کوآزادی کی جدوجہد کی پاداش میں اغوا کیا گیا ہے اور ایک ہزار سے زائد افراد کو تفتیش و تشدد کے ازیت ناک کرب سے گزار کر ان کی مسخ لاشیں پھینکی گئی تاکہ ان مجرمانہ حربوں کے زریعہ ریاست بلوچ آزادی کی تحریک سے قومی و عوامی وابسطگی کو کمزور کرسکے بلوچ تحریک کو دبانے اور دہشت گردی کے سینکڑوں حربوں کو آزماکر قبضہ گیر آخری حد تک جا چکی ہے جس میں تراتانی کے واقعہ کی طر ح اسی قسم کے ہزاروں اندوہناک واقعات کے بعد بھی قابض ریاست آزادی کی جدوجہد کو سمیٹنے کی ناکام کوششوں کے ساتھ خود عبرتناک شکست کے زخم لئے بوکھلائٹ کا شکار ہیں ترجمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کی نمائشی سماعت سمیت ریاستی قبضہ کو جواز فرائم کرنے اور قومی آزادی کے مطالبہ کے موقف کو زائل کرنے کی لاتعداد گھناؤنے اور عسکری و جمہوری ناٹکوں اور نام نہاد جمہوریت سے خیر کی امید کی باندھنے اور مڈل کلاس قیادت کو اقتدار پر براجمان کرنے کی مذموم کوششوں کے بعد بھی قبضہ گیر اپنی قبضہ کو قانونی جواز دینے میں ناکام ہوچکا ہے سپریم کورٹ سمیت ریاست کی کسی ادارے کے پاس دینے کے کچھ نہیں یہ سارے کھیل اور فریب ہیں بلوچ قوم اپنی امیدوں کا محور و مرکز آزادی کی تاریخی جدوجہد سے منسلک ہوکر اپنی بقاء شناخت پہچان اور آزادی کو ممکن بنانے مین کردار ادا کریں


