مسنگ پرسنز کے کیمپ کو جلانے کی عمل کو ریاستی گماشتوں کی بزدلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں مجھ سمیت وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئر میں ماما قدیر کو11اگست یوم آزادی کے دن کے مناسبت سے تقاریب منعقد کرنے پر قومی سرگرمیوں سے باز آنے کی دھمکی دی گئی جو ر
16.8.2013
بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی وائس چیئرپرسن بانک زمورآزاد بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک اخباری بیان بیاں میں مسنگ پرسنز کے کیمپ کو جلانے کی مجرمانہ عمل کو قبضہ گیر ریاستی گماشتوں کی بزدلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں مجھ سمیت وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئر میں ماما قدیر کو11اگست یوم آزادی کے دن کے مناسبت سے تقاریب منعقد کرنے اور کیک کاٹنے پردھمکی آمیز پیغام کے ساتھ قومی سرگرمیوں سے باز آنے کی دھمکی دی گئی جو ریاست اور ان کے گماشتوں کی بوکھلائٹ اور نفسیاتی شکست کی عکاسی کرتی ہے قبضہ گیر کوجمہوری اور سیاسی طریقہ جدوجہد کوبھی برداشت نہیں اسلئے وہ دھونس اور دھمکیوں کے زریعہ ہمیں جدوجہد سے الگ کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن ہم قبضہ گیر ریاست اور ان کے حواریوں کی ان بزلانہ دھمکیوں کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی ریاستی ہتھکنڈے ہمیں آزادی کی فکری و عملی جدوجد اور سرگرمیوں سے نہیں روک سکتا ہم معمول کے مطابق اپنی سرگرمیان ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھیں گے چاہے اس راستہ میں ہمیں جان کی قربانی دینا پڑے ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے ہماری جان ان شہیدوں سے بڑھ کر نہیں جن کی روزانہ مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہے اور ہماری زندگی ان کی زندگیوں سے قطعاا ور کسی بھی صوررت نہیں بالاتر نہیں ہماری مقدس چادر جو ہماری عزت مان اور ہماری کفن ہے اور ہمارے ساتھ ایک پختہ کمٹمنٹ ہے ہم اپنی اصولی موقف نظریات اور قومی مقصدکی خاطرکسی بھی انتہائی قربانی سے گھبراکر پیچھے ہٹنے کے بجائے موت شہادت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری ماؤں کی دعائیں اور شہدا کے حوصلہ ہمارے ساتھ ہیں ہمیں دشمن کے کوئی بھی مکروہ عزائم تحریک آزادی سے الگ نہیں کرسکتا انہوں نے کہا کہ بلوچ گہار موومنٹ قومی آزادی کی جدوجہد مین فعال کردارادا کرہاہے گزشتہ دنوں کے احتجاجی سرگرمیوں اور بانکی مون کی آمد پرلاپتہ افراد کے سلسلے میں احتجاجی ریلیوں میں بلوچ گہار موومنٹ کی شمولیت اور اور عملی سرگرمیوں سے قبضہ گیراور ان کے ایجنٹ ہماری پولٹیکل سرگرمیوں سے خائف ہوکراوچھے ہتکھنڈوں پر اتر آئے ہیں انہوں نے کہا کہ ماما قدید سمیت ہمیں ریاست کی جانب سے دھمکی دینا اس بات کی غمازی کرتاہے کہ قبضہ گیرریاسست بلوچ قوم کی جمہوری اور برسرزمیں جدوجہد کو برداشت نہیں کررہا اور مسنگ پرسنز کے کیمپ جلانا بھی اسی دھمکیوں کی کڑی ہے حقوق دینے اور جمہوریت کے راگ الاپنے والے مڈل کلاس بلوچ قوم کو لاشوں کی صورت میں حقوق دے رہے ہیں بلوچ گہار موومنٹ بلوچ قوم سے پر زور اپیل کرتی ہے کہ وہ فکری و شعوری طورپر قبضہ گیر ریاست کے خلاف میدان میں آکر آزادی کی صفوں میں شامل ہوکر اپنی بھائی اور بہنوں کی بازو بن جائیں کیونکہ آزادی کے بغیر غلامی محض ایک ذلت ہے اور اس زلت کے ساتھ رہنے کی اب میعاد ختم ہوچکی ہے بلوچ قوم آزدی کے لئے باہم صف بندی کرچکی ہے اب کوئی بھی ریاستی گماشتہ کسی بلوچ کو حقوق اور نوکریوں کے جھانسے میں غلام نہیں بن سکتا ہم کب تک اپنے بہادر ماؤں اور دلیر بہنوں کی عزت کو تارتار ہوتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے ہم کب تک خاموش تماشائی بن کر اپنے پیاروں اور بھائیوں کی لاشیں گنتی کریں گے ہمیں قبضہ گیر کے خلاف اپنے شہداء کی عظیم اور بے بہا قر بانیوں کی قدر کرتے ہوئے ان کی نامکمل ارمانوں اور ان کی مشن کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے مزید کہا کہ ہم ماماقدیدکے شانہ بشانہ اور ان کی ہمرائی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ریاستی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کردار اداکریں گے غلامی خود ایک ڈیتھ وارنٹ ہے جان کی امان مانگ کر پیچھے نہیں ہٹیں گے


