×

ہمارے لئے تجدید عہد کادن ہے یہ ایک تاریخ ساز دن ہے بلوچ تاریخ آزادی میں یہ ایک سنہراباب ہے یہ دن قبضہ گیر پاکستانی ریاست کے لئے کھلی اور واضح پیغام ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں رہا بلکہ اس کی اپنی الگ تاریخی اور آزاد حیثیت رہاہے بلوچ سالویشن

ہمارے لئے تجدید عہد کادن ہے یہ ایک تاریخ ساز دن ہے بلوچ تاریخ آزادی میں یہ ایک سنہراباب ہے یہ دن قبضہ گیر پاکستانی ریاست کے لئے کھلی اور واضح پیغام ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں رہا بلکہ اس کی اپنی الگ تاریخی اور آزاد حیثیت رہاہے بلوچ سالویشن

12.8.2013
11بلوچ سالویشن فرنٹ کے زیر اہتمام 11اگست یوم آجوئی کے مناسبت سے اس دن کی قومی اور تاریخی اہمیت کے تناظر میں ایک ریفرنس کا انعقادکیا گیا جس مین بلوچ سالویشن فرنٹ کے اتحادی جماعتون بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی مقررین نے کہا کہ 11اگست ہمارے لئے تجدید عہد کادن ہے یہ ایک تاریخ ساز دن ہے بلوچ تاریخ آزادی میں یہ ایک سنہراباب ہے یہ دن قبضہ گیر پاکستانی ریاست کے لئے کھلی اور واضح پیغام ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں رہا بلکہ اس کی اپنی الگ تاریخی اور آزاد حیثیت رہاہے انگریز قابضین سات سمندر پار سے آکر 1839کوبلوچ وطن پر ایک فوجی حملہ کے صورت میں قبضہ کیا اور بلوچستان کی آزادحیثیت کو سلب کرکے بلوچ قومی حکومت کو اپنی تحویل میں لے کر بلوچ قوم کی پاؤں میں غلامی کی زنجیریں پہنائی بلوچ کھبی بھی غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف اپنی دفاع سے غافل نہیں رہا ردعمل اور دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے شہید محراب خان اور ان کے ساتھیوں نے انگریز قابضین کے خلاف جنگ کا علم بلند کرکے میدان میں آگئے اور مذاحمت کے دوران شہید ہوگئے شہید محراب خان اور ان کے بہادر اور جانثار ساتھیوں کا لہوبلوچ قوم کو آزادی جنگ لڑنے کے لئے راستہ کی بنیاد بن گئی ان کی تاریخی کردار نے برٹش قبضہ کے بنیادوں کو ہلاکر آنے والے بلوچ نسلوں کے لئے مشعل راہ بن گئی انگریز قابض کے خلاف بلوچ قوم جدوجہد کے عسکری اور سیاسی زرائع سے انگریز ی سامراج کے خلاف شدید مشکلات پیداکئے ایک طرف بلوچ عسکری جدوجہد نے برٹش قبضہ کا کمر توڑدیا اور دوسری سیاسی اور سفارتی موقف اورکوششوں نے بلوچ قوم آزادی کے لئے عالمی دنیا میں ہمدردی اور حمایت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انگریز قابضین کے حوصلون کو مجروح کردیا پورے بلوچستان میں انگریزوں کو مذاحمتی کاجنگ کا سامنا کرنا مری علاقوں سے لے کر جہالاوان اور مکران میں مزاحمتی سلسلہ شدت اختیار کرگیا جو انگریز کے بلوچستان سے دستبرداری اور بلوچستان کی آزادی کی وجہ بن گئی ایک بھاری قیمت چکانے کے بعدبلوچ قوم کو آزادی کی منزل ملی اس موقع پر ہم بلوچستان کی آزادی میں کام آنے والے ان شہداء اور اور جہد کاروں کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنی جان مال بلوچستان کی آزادی کے لئے قربان کیا شہید محراب خان سردار خیر بخش مری اول شہید سردار خان محمد زہری شہید علی دوست نورا مینگل میر عبد العزیز کرد محمد حسین عنقاء اور ان گمنام شہداء اور جہد کاروں کی تاریخی جدوجہد اور قومی کردار جو ہمارے تاریخ کو اپنی لہو اور قربانیوں سے قابل فخر اور شاندار بنایا ہے ہمیں اپنے اسلاف اور اکابریں کی تقلید کرتے ہوئے پاکستانی قبضہ کے خلاف انہی جذبوں اور حوصلوں کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے جو انہوں نے انگریز کے خلاف کی ان کی جدوجہد ہمارے لئے دفاع اور نظریہ کا سرچشمہ ہیں11اگست کا دن اپنے پیچھے ایک طویل جدوجہد اور تاریخی عمل کا پس منظر رکھتی ہے جو آزادی کے جدوجہد کرنے والوں کے حوصلہ اور روشنی بخشتی ہے کہ قربانیاں اور جدوجہد کھبی بانجھ نہیں ہوتے ضائع نہیں ہوتے بلکہ قربانیاں ہی آزادی کی تخلیق کرتی ہے عالمی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو الجزائر کی آٹھ لاکھ شہیدوں کا قبرستان الجزائر کی آزادی کی صورت بن گئی اسی طرح ہندوستان ویت نام کوریا کیوبا اور بنگلہ دیش کی آزادی کے پیچھے ایک خون آلود تاریخ کا ابال موجود ہے مقررین نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے تباہ کاریوں کے بعد جب انگریز قابضین اپنی کالونیاں چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے بلوچستان کی آزاد و خود مختیار حیثیت کااعتراف کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کی حیثیت ایک فطری ریاست کی ہے جس طرح کہ افغانستان اورایران کی حیثیت فطری ریاستوں کی ہے بلکل اسی طرح بلوچستان کی حیثیت بھی وہی ہے بلآخر انگریز قابضیں نے بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچ وطن ایک الگ اور آزاد خطہ ہے اور نو مولود پاکستانی ریاست بھی قلات کو ایک آزاد و خود مختیار ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے لیکن کچھ عرصہ بعدقابض ریاست نے بلوچستان پر مسلمانیت کے نام پر الحاق کیے حوالہ سے دباؤ ؤ ڈالتا رہا جب کہ 14 دسمبر1947کے دارالعوام کے اجلاس نے بھاری اکثریت سے پاکستان کے ساتھ الحاق کی شرط کو مستردکرتے قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے دوٹوک موقف رکھتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے ساتھ الحاق ڈیڑھ کروڑ ایشیائی بلوچوں کی موت کی دستاویز پر ستخط کرنی کی مترادف ہے جب کہ بلوچ پارلیمانی ایوانوں دار العوام اور دار الامراء کے مختلف کاروائیوں میں پاکستان سے الحاق کی شدید مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ ہم مسلمان ہیں لیکن ضروری نہیں کہ مسلمان ہونے سے ہم اپنی آزادی کھوکر دوسری میں جذب ہوجائیں لیکن قابض ریاست غیر جمہوری رویہ کے ساتھ بلوچ قومی اداروں کے فیصلوں کے برعکس بلوچ وطن پر قبضہ کرکے بلوچ قومی حکومت کو تحلیل کرکے بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرکے بلوچ قوم کی آزادی سلب کی مقررین نے کہا کہ اس دن کی مناسبت سے قابض ریاست کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنی غیر قانونی قبضہ سے دستبردار ہوجائے ان کی ناجائز قبضہ اس خطے کی امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں بلوچ وطن میں ان کی غیر فطری حاکمیت اور موجودگی انسانی خونریزی کی سب سے بڑی وجہ ہے بلوچ اپنی آزادی کے لئے صف بندی کرچکے ہیں آزادی کے قافلے کودہشت گردی اور ظلم جبر صعوبتوں اور حراستی قتل عام کے زریعہ رکاوٹ نہیں کی جاسکتی آزادی ہماری قومی سیاسی اور سفارتی موقف ہے اس دن کے موقع پر عالمی دنیا کے لیے بلوچ قوم کی جانب سے یہ پیغام چھوڑتے ہیں کہ وہ اپنے دوہرے معیار کو چھوڑ کر بلوچستان کی آزاد و خود مختیار حیثت کے حوالہ سے بلوچ قوم کی اصولی موقف کو تسلیم کرکے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری جدوجہد کو غیر مشروط پر سپورٹ کرکے ہمیں تمام ممالک میں سفارت کاری کی اجازت دی جائے تاکہ ہم اپنی قومی آزادی کی موقف کو دنیا کے کونے کونے مین پہنچاکر ریاستی قبضہ کو بے نقاب کریں

Previous post

بولان میںآپریشن معصوم بلوچ فرزندوں کا حراستی قتل اور نیوکاہان مری کیمپ پر چھاپہ اور چاردیواری کی پائمالی بلوچ نسل کشی پر مبنی برترین ریاستی دہشت گردی ہے

Next post

شہید سفر خان کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی70 کی دہائی میں بلوچ وطن کی آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد میں لیڈنگ رول ادا کرنے والے شہید سفر خان زہری آزادی کے تابناک سویرے کے لئے پہاڑوں کو مسکن بناکر جدجہد کی بلوچ سالویشن فرنٹ