بلوچ جدوجہد آزادی کی کامیابی اور عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر حمایت و ہمدرد ی نے پاکستانی قبضہ پر کاری ضرب لگائی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ کے ا یک وفد کا ماما قدیر بلوچ سے مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں ملاقات میں اظہار خیال )
: 17.9.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے ا یک وفد کابلوچ سالویشن فرنٹ کے چیئرمین سعید یوسف بلوچ کی سربراہی میں وائس فار مسنگ پرسنز کے رہنماء ماما قدیر بلوچ سے مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں ملاقات وفد نے ماما قدیر کی مغوی بلوچوں کی بازیابی کے لئے بے لوث جدوجہد اور جرائت کو سراہا او ربلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے اپنی تمام تر ہمدردی اور تعاون کا یقین دلایا اس موقع پرسعید یوسف بلوچ نے کہا کہ بلوچ جدوجہد آزادی کی کامیابی اور عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر حمایت و ہمدرد ی نے پاکستانی قبضہ پر کاری ضرب لگائی ہے جس کی وجہ سے یو این کی ٹیم کی آمد پر پاکستانی ریاست اپنی جرائم اور دہشت گردی کو چھپانے کے لئے ٹیم کی آمد کو مداخلت قرار دے کر اس کی سینٹ پارلیمنٹ اور ان کی باج گزار پارٹیون نے احتجاج کیا انہوں نے کہا کہ بلوچ آزادی کی جدوجہد کرنے والے جماعتون نے پہلے ہی سے عالمی دنیا اور انٹرنیشنل کمیونٹی کو آگاہ کیا تھا کہ بلوچستان میں پاکستان مداخلت کررہاہے اور بلوچ وطن پر غیر قانونی طور پر قابض اور بڑے پیمانے پر بلوچ قوم پر تشدد کرہی ہے ان کے آپریشنل ملٹری دستے پورے بلوچستان میں لوگوں کو اغواء کررہے ہیں اور ان کی مسخ شدہ لاشین پھینک کر قتل عام کررہے ہیں اسلئے اقوام متحدہ بلوچستان میں مداخلت کرے اور بلوچستان کی آزادی کی کھل کر حمایت کرے انہون نے کہا کہ 14000 ہزار لاپتہ افراد کا کیس اور 500سے زائد بلوچ مسخ لاشین پاکستانی ریاست کو جنگی مجرم ثابت کرنے کرکے لئے عالمی سطع پر بہت بڑا کیس ہوگا انہون نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی دنیا کو اس سے آگاہ کیا ہے کہ اس ریجن میں آج عالمی دنیا اور نیٹو افواج کوجس قسم کی دہشت گردی کاسامنا ہے اس کا خالق اور مؤجد پاکستانی ریاست ہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار نہیں جب کہ دہشت گردی پیدا کرنے میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرہا ہے بلوچ اس کی دہشت گردی کا مقابلہ کرکے اپنی دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں اور ریاستی تشدد کا راستہ روکنے اور بلوچستان کی مکمل آزادی کے لئے ہر محاز پر جدوجہد کررہی ہے اور آج بلوچ قوم ریاست کی ملٹری تکنیک کے بے پناہ برتری کے باوجود اس کا مقابلہ کررہاہے جب کہ امریکہ اس کے لئے ابھی تک نرم گوشہ اختیار کرکے وقت ضائع کررہا ہے انہوں نے کہا کہ آج اس ریاست کی کردار سے پردہ اٹھانے والے بلوچ ہے جو عالمی رائے عامہ کو کھل کر جرائت کے ساتھ آگاہ کیا ہے کہ ان کا وجود دنیا کی امن و سلامتی خطرہ کی گھنٹی ہے انہون نے کہا کہ اقوام متحدہ بھی اس کے کردار کو بھانپ چکاہے اس لئے وہ اپنی دو روزہ دورہ بلوچستان میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا بھی سیکیورٹی کا مسئلہ قرار دیاتھا جس کی نظر براہ راست ریاستی دہشت گردی پرتھی جو اسکی سرگرمیوں کے لئے رکاوٹ تھا انہون نے کہا کہ اقوم متحدہ کے ٹیم کے دورے کے بعد بھی اغواء کاریوں کا تسلسل برقرا رہے بلکہ اس میں شدت لائی جارہی ہے اقوام متحدہ کے دورے کے دوسرے روز مری بلوچوں کے ایک ہی خاندان کے آ ٹھ افراد کا اغواء اور مختلف علاقوں میں لاشیں پھینکنے کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان کسی عالمی ڈسپلن کا پابند نہیں اور نہ ہی ان کا احترام کرتے ہیں انہون نے کہا کہ پاکستان دنیا کو دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں دے رہا اور دنیا کے آنکھون میں دھول جھونک رہا ہے اور مشکلات پیدا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کو اپنی تمام تر صلاحتیں آزادی کی جنگ کے کام میں لائیں کیونکہ کوئی بھی قابض مقبوضہ قوم کی وطن سے رضاکارانہ طور پر پر اپنی دستبرداری کا اعلان نہیں کرتاہے بلکہ دنیا کے تمام مقبوضہ قومون نے دفاعی جنگ کے زریعہ آزادی کی منزل حاصل کرلی ہے انہون نے کہا کہ ہم صرف اس کی مثال نہیں بلکہ ہر قابض نے آزادی کے ہراول دستہ کو خون میں نہلایا ہے آخری فتخ آزادی کے جدوجہدکرنے والوں کوحاصل ہوئی ہے دنیا میں اس سے بڑے رستم زمان آئے لیکن آج ان کا نام و نشان نہیں وہ مٹ گئے لیکن جن قومون نے آزادی کی جدوجہد کی آج ان کا آزاد وطن اور ملک ہے انہون نے کہا کہ جدوجہد اور قربانی ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہے قربانیان ہی تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں


