×

آواران نہتے آبادیوں کے خلاف جارحیت جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہےریاست اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کے ضابطوں کو ٹھکرارہاہے ۔بلوچ سالویشن فرنٹ

آواران نہتے آبادیوں کے خلاف جارحیت جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہےریاست اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کے ضابطوں کو ٹھکرارہاہے ۔بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ آواران میں نہتے بلوچ آبادیوں کے خلاف نوروز سے جاری آپریشن عالمی جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے آواران کے تمام دیہی علاقوں مالار گشگور سمیت کئی دیگر قصبہ فورسز کی تحویل میں ہیں تمام داخلی و خارجی راستے سر بمہر کردیئے گئے ہیں ان علاقوں میں ہزاروں کی آبادی ہے عید کے روز سے اب تک ہونے والئے فضائی اور زمینی کاروائیوں میں کئی نہتے بلوچ فرزندوں بزرگوں اوربچوں کو موت کی آغوش میں دھکیل دیا گیا ایک ہفتہ سے زائد جاری ریاستی آپریشن فضائی و زمینی کاروائیوں میں ممکنہ طور پر کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے جو ایک انسانی المیہ سے کم نہیں ترجمان نے کہاکہ ریاست کی کاروائیاں جنگی جرائم پر مبنی ہے انسان دوست ممالک اور انسانی حقوق کے دعویدار تنظیموں کے لئے بلوچ وطن میں جاری ریاستی جارحیت ظلم و جبر باعث تشویش ہونا چاہیے

بلوچ قوم کا ایک جائز مطالبہ لے کر جدوجہد کررہے ہیں لیکن ریاست بلوچ قومی جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے لئے وحشیانہ کاروائیاں کرتے ہوئے بد معاشی کے ساتھ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سمیت جنیوا کنونشن کے تمام ضابطوں کو ٹھکراتے ہوئے بلوچ نسل کشی کو دوام دے رہے ہیں پاکستانی ریاست کا جنیوا کنونشن پر دستخط موجود ہے لیکن عملی طور پر وہ اس کی پابندی نہیں کررہے ہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تنظیموں کا رویہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ ریاستی جارحیت کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کیونکہ ان کی زبان بندی کو ریاست قانونی جواز سمجھتے ہوئے اپنے انسانیت سوز کاروائیوں میں مزید توسیع کا عندیہ دے رہاہے تر جمان نے کہاکہ بلوچستان میں جاری ریاستی جارحیت اغواء نماء گرفتاریاں مارو اور پھینکو کا سلسلہ عالمی ضمیر کو جھنجوڑ نے کے لئے کافی ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں ریاستی جارحیت میں شدت بہت بڑے انسانی بحران پیدا کرنے کا خدشہ ظاہر کر ر ہاہے اقوام متحدہ یورپی یونین او آئی سی اور نیٹو سمیت تمام انسان دوست ممالک کو ریاست کے وحشیانہ کاروائیوں کو روکنے کے لئے کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی مسئلہ کے حوالہ سے سنجیدگی اختیار کرنا چاہیے بلوچ مسئلہ کا حل آزادی ہے آؤٹ آف دی بکس کوئی بھی حل بلوچ قوم کو قبول نہیں

Previous post

بابو نوروز اور ساتھیوں کو خراج تحسین، 1948 کوبلوچ منشاء کے خلاف وطن کی آزاد و جغرافیائی و حیثیت کوختم کرکے اسے پنجاب کا حصہ بنادیا گیا۔ بلوچ سالویشن فرنٹ۔

Next post

اقوام عالم اور مہذب دنیا بلوچ قومی ریاست کے قیام کے لئے بلوچ قوم کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت کریں۔بلوچ سالویشن فرنٹ