الیکشن بائیکاٹ نے ریاستی قبضہ پر کاری ضرب لگادی ہے بلوچ عوام کی جانب سے انتخابی مہم میں عدم دلچسپی نے ایک طرف کرسی بردا ر گماشتہ جماعتوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے تو دوسری طرف قومی بائیکاٹ نے قبضہ گیر کی نیندیں حرام کی ہے بلوچ وطن موومنٹ
7.5.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آزادی خواہ جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے الیکشن بائیکاٹ نے ریاستی قبضہ پر کاری ضرب لگادی ہے بلوچ عوام کی جانب سے انتخابی مہم میں عدم دلچسپی نے ایک طرف کرسی بردا ر گماشتہ جماعتوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے تو دوسری طرف قومی بائیکاٹ نے قبضہ گیر کی نیندیں حرام کرکے بلوچ وطن پر ان کے مستقل قبضہ کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کردیا ہے پاکستانی فوجی سربراہ کی انتخابی سرگرمیوں کے حوالہ سے دوبار بلوچستان آمد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ قومی آذادی کی جدوجہد اورعوام کے اندر آزادی پسندوں کی سیاسی اتھارٹی اور وسیع تر حمایت سے سخت اضطراب میں ہیں ترجمان نے کہا کہ بلوچ عوام کی ریاستی الیکشن سے بائیکاٹ اور لاتعلقی نے ثابت کردیا ہے کہ پارلیمانی جماعتیں نہ تو قوم پرست سوچ کے حامل ہے اور نہ ہی بلوچ قوم کی نمائندہ پارٹیاں ہیں ان کی کردار و عمل اور سیاست نے ان کی اصلیت کو بلوچ قوم کے سامنے آشکار کردیا ہے کہ وہ کس کے نمائندہ ہیں اور کس کی سرپرستی اور پشت پنائی میں شعوری طور پر بلوچ قومی موقف کو آلودہ کررہے ہیں ترجمان نے کہا کہ ان کا یہ گمراہ کن اور مضحکہ خیز دعوی کہ وہ بلوچ قوم کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں جھوٹ پرمبنی ہے وہ روڈ نلکہ نالی اور معمولی ملازمت کو بلوچ قوم کے حقوق گردان کر لوگون کو گمراہ کرنے اور غلامی کو مضبوط کرنے کے سواان کے پاس کوئی اورسیاسی منشور اور ایجنڈانہیں روڈ اور ملازمتیں بلوچ قوم کا مسئلہ نہیں بلوچ آزادی کی سوچ کو مفلوج کرنے کے لئے ریاست اور ان کی گماشتوں کی جانب سے اس قسم کے غیر منطقی نعروں کو فروغ دیا جا رہا ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ قوم کااصل مسئلہ قومی آذادی ہے قبضہ گیر کے ساتھ بلوچ قوم کا کوئی اخلاقی تاریخی جغرافیائی یا قومی کسی قسم کا رشتہ نہیں زمینی حقائق سے آنکھیں چرانا اور آذادی کی حقیقت سے آنکھیں بند کرکے دشمن کے ساتھ سمجھوتہ کرنا اور پھر سینہ تان کر عوام کے سامنے بلوچیت اور نیشنلزم کادعوی کرنااور بلوچ قوم کو معمولی ملازمتوں اور مراعات کے لالچ دے کر قبضہ گیر کے غلامی پر مجبور کرنا یہ قطعا قومی جدوجہد نہیں بلکہ بلوچ قوم سے کھلم کھلادھوکہ کیا جارہا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ عوام آذادی کے صفوں کو مضبوط کریں جبر و دہشت گردی سے بلوچ تحریک آزادی کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا دہشت گردی سے تحریکوں کو کمزور نہیں کیا جاسکتا قابض ریاستیں اتنی طاقتور نہیں ہوتی جتنی وہ طاقت کے مظاہرہ کرتے ہیں قبضہ گیرکی جبر اور لالچ میں آکر کوئی بھی قوم اپنی اثاثہ ملکیت اور مادروطن سے دستبر دا رنہیں ہوتاجب کہ آزادی کے سوا بلوچ قوم کا کوئی مطالبہ اور جدوجہد نہیں بلوچ قوم نہ تو پنجاب سے برابری کے لئے جدوجہد کررہاہے نہ کہ صوبائی خود مختیاری کے بوسیدہ سوچ کوبلوچ قوم کا منزل ومقصد تصور کرتاہے بلوچ قوم نے اپنی عملی وسیاسی جہد و کوشست کی صورت میں واضح کردیا ہے کہ نہ ہمارے پاس کسی عمرانی معائدہ کاایجنڈا ہے نہ کہ 6 نکات ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم کی اپنی آزاد تاریخی حیثیت رہی ہے بلوچ اپنی اسی حیثیت اور آزادی کو کو بحال کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں پارلیمانی جماعتیں بلوچ تاریخ کو مسخ کرکے نام نہاد پاکستانیت اور قبضہ گیر یت کے فروغ کے لئے کام کرکے بلوچ تاریخ سے دغا بازی کررہے ہیں جب کہ بلوچ قوم کی اپنی ہزار سالہ تاریخ اور شناخت ہے جب کہ پو ری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانیت کی کوئی تاریخی اور فکری جواز نہیں پوری دنیا کو معلوم ہے کہ انگریز قابضین نے انہیں اپنی وفاداری کے عوض اس غیر فطری ریاست اور اقتدار سے نوازا اس کے علاوہ پورے دنیا کے کتب خانوں اور تاریخ دانو ں کے پاس ایسا کوئی مواد نہیں جس میں اس ریاست کی کوئی تاریخ ہویا شاندار کردار ترجمان نے مزید کہا ہے کہ بلوچ عوام قوم دوست رہنماء سنگت حیر بیار مری اور آزادی پسند جماعتوں کی اپیل پر 11 مئی کواحتجاجا اپنے گھروں میں رہ کر ریاستی الیکشن کے خلاف قومی بائیکاٹ کی اس عمل میں بھر پور انداز میں شریک ہوکراپنی قومی و وطنی فرائض نبھائیں


