ان کو کیوں استثنی حاصل ہے ؟ سعید یوسف بلوچ
سوشل میڈیا میں بی این ایف سے منسلک لوگ اپنی گمنا م پہچان کے ساتھ اپنی غلطیوں خامیوں اور کمزوریوں کو نظر انداز کرکے جس انداز میں تنقید کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ ہمارے نقطہ نظر میں اپنی رویوں اور غلطیوں پر نظر ثانی کے بجائے اپنی مارکیٹ ویلیو بڑھانے اور اپنے آپ کو غلطیوں سے مبرا اور پارسا قرار دے کر دوسروں کو دشنام دے رہے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ان سوالات کا جوابات دیتے تھے علم دلیل اور منطق سے لیکن جب کسی کے پاس دلیل نہ ہو تو وہ اس طرح کے تیسرے درجہ کے دشنام طرازی پر اتر کر اپنا غصہ اور بڑھاس نکالتے ہیں اور سب سے بڑھ کر گمنام طریقوں سے جو کسی بھی شخص کی سب سے بڑی اخلاقی کمزوری ہوتی ہے جو انجانے یا عرفی ناموں سے کسی کو الزام دے یا کسی کے خلاف گالم گلوچ اختیار کرے یہ آزاد خیالی اور غیر انقلابی عمل ہے جب کہ انقلابی لوگ تنقید اور خود تنقیدی کی روایت کو اہمیت اور اور اولیت دیتے ہیں
اور انقلابی تنقید سے کھبی نہیں گھبراتے اور نہ ہی وہ اختلاف کو کوئی ماورائی یاغیر مرئی شہہ سمجھتے ہیں اختلاف ہی اتحاد کی بنیاد ہے اور اختلافات سے گزر کرہی کوئی اتحاد کی جانب قدم بڑھاتا ہے اتحاد کا نیوکلیس ہی اختلاف ہے اور اختلاف اتحاد کی زمیں ہے رومانویت اور مروت پر مشتمل یکجہتی کے نام پر غیر سائنسی خیال کہ کسی کو ان کی تمام غلطیوں کے ساتھ قبول کی جائے یا سنگتی کے نام پران کی اندھی تقلید کی جائے یا بھیڑ چال چل کر ان کی ہر بات پر لبیک کہاجائے کیا کوئی انقلابی موومنٹ میں اس کی گنجائش ہے یا کسی دوست ساتھی کی جانب سے ان کے رویوں کے حوالہ سے سوال اٹھا یا جائے کیا وہ ان سوالات پر غور کرنے اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر قابو پانے کے بجائے انہی کمزوریوں کی مزید نشودنماء کرے اور تخلیقی سائنسی اور منطقی عمل کے بڑھوتری کو روک کر اٹھائے جا نے والے سوالات پر غور کرنے کے بجائے اور اسے صحیح تناظر میں دیکھنے کے بجائے ان فقروں اور سطروں کو کاٹ کر انہیں ان کے سیاق و سباق سے الگ کرکے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں مسخ کرکے بددیانتی پر اتر آئے یا پھر ان کا مشاہدہ ایک انقلابی کے بجائے ایک بازاری شخص کی طرح کریں کیا ایسے رویہ اور عمل قابل قبول ہے واجہ اسلم بلوچ سمیت سنگت حسن جانان سنگت سلام صابرسنگت جہانگیر ایڈوکیٹ جس نے اپنے کالمز میں جن سوالات کو اٹھا ئے تھے اور جن رویوں کی نشاندہی کی تھی گروہیت علاقائیت قبائلیت غیرسیاسی پن جیسے رجحانات پر انگلی اٹھائی تھی میرے خیال میں اس قسم کی نشاندہی اور اس بابت سوال اٹھانا ایک انقلابی جدوجہد کی روح اور مقصد کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ جب کوئی غلط چیز رجحان بنتا ہے اگراس کی فوری نشاندہی نہیں کی گئی تو پھر کینسر بن جاتی ہے یا دوسرے الفاظ میں وہ اس ماحول میں ایک معتبر روایت کا مقام حاصل کرتی ہے جو کسی بھی انقلابی تحریک کے لئے مہلک اور تباہ کن ہوتی ہے ایسی بے مہار رجہانات جو ہر لحاظ سے غیر سائنسی غیر سیاسی اور غیر انقلابی ہوتے ہیں جسے ایک حلقہ کی جانب سے شعوری طور پر پزیرائی ملتی ہے اسی طرح سردار مری پر سوال اٹھاناکیوں غلط ہے ؟ کیوں گناہ ہے تحریک میں اس کی کردار و حیثیت و مقام سے شاید ہم انکارنہ کرسکے لیکن موجودہ صورتحال میں اس کی خاموشی یا اگر درست تجزیہ کیا جائے
خاموشی نہیں بلکہ تحریک پر مہران مری کو ترجیح و اولیت دینا حالانکہ مہراں مری کے حوالہ سے جو تحفظات و خدشات وسوالات موجو ہے ان کو یکسر مسترد کرکے ایک سخت گیر انقلابی کے بجائے ایک شفیق باپ کا کردار اداکرنا یقیناًسوالات کو جنم دیتا ہے اور سوالات بھی کسی سبب یا وجہ کے بغیر جنم نہیں لیتے انقلابی جدجہد کی تاریخ سے ہٹ کر اگرہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ بھی کریں توکوئی خلیفہ وقت بھی اسلامی ضابطہ و مملکت کے خلاف ورزی پر اپنے حقیقی رشتوں پر شفقت کے بجائے بے رحمانہ احتساب کو ترجیح دی ہے بی این ایف کی موجودو رویوں کے حوالہ سے گزشتہ دنوں ایک دانشور دوست سے میں نے سوشل میڈیا میں سوال کیاکہ آپ اس صورتحال کے بارے میں کیارائے رکھتے ہیں تجزیہ تناظر آپ کے پاس کیا ہے ۔اس نے صورتحال پر روشنی ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے صرف یہ کہا اگر میں اس بارے میں کچھ بولنے لگا اور خاموشی توڑی تو سلام صابر کی طرح مجھے جوابا گالی پڑیں گے میں نے کہا کہ سلام صابر جن چیزوں کی نشاندہی کررہی ہے وہ تو زمینی حقائق ہے انقلاب کے وفادار اور دیانتدار دوستوں کا کردار ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کسی کے خوف کے بغیر اپنی موقف کا اظہار کرتے ہیں کسی تذبذب اور جھجک کے بغیر دوستانہ اور ٹھوس تنقید ی اصولوں کو انقلابی تحریک کے لئے ناگزیر اور ضروری سمجھتے ہیں خاموشی یا تو نیم رضامندی ہے یا منافقت ہے یا پھر بے بنیاد اور بلیک میلنگ پر مشتمل الزام کو تسلیم کرنے کی مترادف ہے اسی طرح غیر جانبدار رہنا بھی ایک قسم کی منافقت ہے ان دوستوں کوحلیف کہوں یا حریف الفاظ کے چناؤ میں شاید احتیاط کررہاہوں ان کی جانب سے مجھ پر الزام ہے کہ میں خریدا گیاہوں یا زر کی چمک دکھاکر بی این ایم سے علیحدہ کیاگیاہوںیا میری جھولی میں بھاری رقم ڈال کر مجھے بلوچ سالویشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن پارٹی سے منسلک کیا گیا ہے کتنی گھرا ہواہے الزام ہے اور کتنی سطحی خیال ہے اس قسم کی مفروضہ قیاس آرائی خیال یا اس سے بڑھ کر الزام تراشی میں کتنی گراوٹ اور نا پختگی ہے جو ان حلقوں کی جانب سے لگا یاجارہا ہے جو سب سے زیادہ انقلابی ہونے کے دعویدار ہے جن کے پشت پر ہمیشہ کتابوں کاایک بوجھ لدا ہوائے جن کے سیاہ بستوں میں ہمیشہ کتابیں نظر آتی ہے کتاب علم تربیت کی دعویداریہ لوگ اب جو لب و لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں کیا یہ علم ودانش پر دلالت کرتا ہے یا پھر اسی علمی جہالت کا نام دیا جائے تو بہتر ہوگاکیونکہ جانکاری اور دلیل سے ہٹ کر جب اس طرح کے لب و لہجہ اختیار کیا جاہے جلی حروف میں ایسے الفاظ کے زریعہ کیچڑ اچھالا جاہے جس میں علم و دانش سیاست نظریہ اور صداقت کم جھوٹ اور بہتان زیادہ تو اس کو ہم کیا نام دیں کیا اسے ایک فرد کی خیال سمجھیںیا ایک گروہ کی اجتماعی سائیکی جو اپنے رویہ مزاج اور فکر میں غیر انقلابیوں سے مختلف نہیں پھر سوشل میڈیامیں ایک الزام اس طرح بھی لگائی جارہی ہے کہ میں نے پارٹی کے پیسے کھائے ہیں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو الزام لگانے والے کے جھولی میں پھینکوں کیونکہ ہماری خاموشی کو ہماری جرم سمجھ کر ان لوگوں نے اب فیس بک پر بیٹھ کر ہم پر دشنام طرازی کررہے ہیں اور کچھ ایسے بے بنیاد الزامات کو ہمارے دامن سے باندھاجارہاہے جس کی زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں اور یہ جھوٹ او ر بہتان باندھنے کی جو رجحان
بنی ہے یہ ان لوگوں کی بوکھلائٹ اور حواس باختگی ہے اول تو یہ کہ پارٹی کی فنانس کے شعبہ سے میر اکوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی پارٹی کی مالی لین دین سے میر اکوئی واسطہ رہاہے اورنہ ہی پارٹی کی ایسی کوئی رقم جو میرے حوالہ کیا گیا جو میں نے ہضم کرلیا جب کہ میں قریب سے محسوس کیا کہ پارٹی کی جو اندرونی چندہ ہے یا بیرونی ممالک کے بلوچ خاص کر مسقط اور بحرین سے پارٹی کے لئے بلوچ کمیونٹی کی جانب سے جو
چندہ جمع ہوتے تھے وہ باقاعدگی سے خلیل بلوچ اور منان بلوچ کے اکاؤنٹس میں جمع ہوتے دستی یا بینک کے زریعہ امدادو چندہ وہ خود وصول کرتے تھے شال سے ماہانہ لاکھوں روپیہ مالیات کے چندہ تسلسل کے ساتھ ڈاکٹر منان کو ہی ملتے تھے یہ سلسلہ تا حال جاری ہے پارٹی کو چندہ یا تعاون کی مد میں ملنے والی اندرونی یا بیرونی رقم کے حوالہ سے کھبی بھی پارٹی سنٹرل کمیٹی یا پارٹی کے کسی آئینی ادارہ میں ایسی کوئی ایجنڈا زیر بحث نہیں لائے گئے کہ انہیں کہا ں خرچ کیا گیا یاپارٹی کو جو مختلف ریجنز اور دمگ ہیں ان کی جانب سے ملنے والی چندہ کتنی ہے کھبی بھی فنانس کو غلطی سے بھی بحث کے لئے ایجنڈا میں شامل نہیں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس میں کوئی راز داری یا اانقلابی مقاصد پنہاں تھیں بلکہ اصل مسئلہ وہ بدعنوانیاں تھی جسے شعوری طور پر چھپانے کی کوشش کی جارہی تھی سب سے اول کہ میں بی این ایم سے کیوں الگ ہوا اور اس کی وجوہات کیا تھے وہ میں نے اخباری بیان میں وضاحت کے ساتھ بیان کی تھی جو سیاسی و نظریاتی اختلافات پر مشتمل اسباب تھیں یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ میں پارٹی سے اچانک یا کسی منصوبہ کے تحت الگ نہیں ہوا اس کے پیچھے وہ سارے عوامل موجود ہیں جو کونسل سیشن سے لے کر میرے استعفی تک میرے استعفی کی وجہ بنی اور ہم شروع ہی سے دو مختلف رجحانات کی نمائندگی کررہے تھے جو ایک وقت اور حد تک ہم ساتھ چل سکتے تھے ان کے ساتھ ہمراہی کی اور ہمیں ساتھ چلنا بھی چاہیے تھاکیونکہ میں اسی ادارہ کا حصہ تھا اور اسی ادارہ کا ایک فرد ہماری کوشش رہی کہ بی این ایم ایک حقیقی انقلابی پارٹی کا روپ دھاریں ہم ان عہدوں کو اعزاز سمجھ کر قبول نہیں کئے تھے کیونکہ ان عہدوں کا امیدوار بننا یا ان زمہ داریوں کو قبول کرناجان جھوکوں کاکام ہے ہماری کوشش تھی کہ ہماری جو ذمہ داریاں ہیں وہ ایمانداری سے ادا کیا جائے لیکن ہم جھاؤ کونسل سیشن کے فورا بعد جس حقیقت کو محسوس کیا اور بی این ایم کی وہ پوزیشن جو شہید غلام محمد کی قیادت میں تھی وہ صورتحال اب نہیں تھی قومی جدوجہد کے نام پر ایک علاقائی اور ایک گروہی تحریک کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا باہر سے لوگ محسوس کرتے یا اندازہ لگاتے کہ یہ ایک انقلابی پارٹی ہے یا بعض اوقات قیادت بھی جذبات کے رو میں بہہ کر ماس پارٹی کی دعویداری کے لئے جارحانہ نقطہ نگاہ رکھتے تھے لیکن ایسا قطعا نہیں تھا دوسری بات یہ کہ میرے اوپر جو الزام عائد کی جارہی ہے تو میں کھلے عام خلیل بلوچ اور ڈاکٹر مناں بلوچ اور پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کے اراکین سے گزارش کرتاہوں کہ وہ ثبوت کے ساتھ سامنے آئے اور میری اوپر پارٹی کی ایسی کوئی رقم ثابت کریں اور میں 2000سے لے کر اب تک جب میں بی ایس اور متحدہ کے مرکزی سیکریٹری جنرل تھا اور بعد ازان بی این ایم کے مرکزی وائس چیر میں رہا مجھ پر تحریک کا ایک پائی یا ایک پیسہ ثابت کیا گیا تو میرا کورٹ مارشلاء کیا جائے سزا جزاء کے اصولوں کے تحت بلکہ مجھے ہر وہ سزا قبول ہے جو مجھے بلوچی عدالت کے منصف اور ایماندارا ججز کی جانب سے دیا جائے اگر ثابت نہ کیا گیا تو ہتک عزت اور الزام تراشی کی نسبت ان کے لئے جو سزا مقرر ہوگی انہیں قبول کرنا پڑیگا جب کہ پارٹی میں میرے حیثیت ایک زمہ دار کی حیثیت سے رہی ہے اس لئے میں خلیل بلوچ اور منان بلوچ کو ہی دعوت دیتاہوں کہ وہ سامنے آئے پردہ کے پیچھے میں چھپ کر الزام تراشی کرنا ان کی ذمہ دار حیثیت کو متاثر کرسکتی ہے جس کا ہمیں افسوس رہیگی ہم بڑے دعوی نہیں کرتے کہ ہم نے تحریک کے لئے کوئی بڑی قربانی دی ہے جدوجہد کی اس سفر میں اپنی بساط کی مطابق جو کچھ تحریک کے لئے کرسکے کم از کم پشیمانی سے بہتر ہے کہ اگر ہم کچھ نہ کرتے کم از کم بھیڑ چال چل کر کسی کی تقلید نہیں کی غلامی چائے کسی قبضہ گیر ہو یا کسی شخص کی ہم اس نظریہ غلامی کے خلاف ہے ہم کسی کے تابع رہ کر جدوجہد کرنے کے حامی نہیں
بلکہ خود کو جدوجہد اور اس کے ضابطوں کے تابع کرنا ہی اصل وژن ہے بی این ایم سے میرے الگ ہونے کی وجوہات کا اگر سنجیدگی اور زمہ داری کے ساتھ غور کیا جاتا اور اس پس منظر کا صحح تجزیہ کیا جاتا تو شاید اس کا جواب انہیں مل جاتا اور میرے اخباری موقف کے آنے کی فورابعد پارٹی کے ترجمان یا ذمہ دار کی جانب سے اگر میرے استعفی کے حوالہ سے کوئی بات سامنے آتی یا کسی بھی پہلو پر میرے اس موقف کو چیلنج کیا جاتا جس کو بنیاد بناکر میں پارٹی سے الگ ہوگیا تو یہ پارٹی ز مہ داراں کی جانب سے اخلاقی جرائت کا مظاہرہ سمجھی جاتی اب سوشل میڈیا میں گمنام طریقوں سے الزام در الزام دیکر بچگانہ اورطفلانہ طریقوں اور رویوں سے کردارکشی کرنا میرے نزدیک اخلاقی کمزوری کی انتہاہے اور میں ذاتی طور پر اس کا قائل نہیں ہوں الزام لگانے والے کھبی بھی ان پہلوں پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے جس کی وجہ سے بی این ایف جیسے اتحاد ہوا میں تحلیل ہوگئی بی این ایم کو نقصان پہنچایا گیابی این ایم کے جھاؤ کونسل سیشن کے بعد جب ہم ساتھیوں کی رویوں سے محسوس کی کی کونسل سیشن میں جو فیصلہ کئے گئے وہ صرف ایک ڈھکو سلہ تھے وہ صرف دکھاوے تھے اور صرف کونسل سیشن میں کونسلروں کے اعتماد جیتنے کی ایک کوشش تھی سفارتکاری کے حوالہ سے میر حیر بیار مری کی بین الاقومی نمائندگی کو کونسل کی تمام اراکین کی تائید اور فیصلہ اور بعد ازان اس کی باقائدگی سے میڈیا میں تشہیر اور پھر پارٹی کے زمہ داران کی جانب سے چابک دستی کے ساتھ کونسل کی اس فیصلہ سے انکار وہاب بلوچ اور میر قادر بلوچ کی بی این ایف سے چھٹی اور اس پر ہمارے سوال اٹھانے کے بعد سے پارٹی دوستوں کا ہمارے ساتھ جارحانہ رویہ اور ایسے حربوں کا استعمالپریس میں ہمارے بات چیت پر پابندی عائد کوئٹہ میں بی این وی کے زیر اہتمام بالاچ مری کی برسی میں شرکت اور خطاب پر ڈاکٹر منان کی فون کی زریعہ برہمی کہ وہ ایک قومی پارٹی نہیں بلکہ ایک قبیلہ کی پارٹی ہے حب میں لاپتہ مری بلوچوں کی مسخ شدہ لاش برآمدگی کے حوالہ سے ہماری جانب سے مذمتی اسٹیٹمنٹ پر ہماری جواب طلبی اور پارٹی سنٹرل کمیٹی میں ہمارے خلاف فیصلہ اور ہماری میڈیا بات چیت پر باقاعدہ پابندی اور اس کے ساتھ ساتھ پارٹی سنٹرل کمیٹی کے ان فیصلوں کی خلاف ورزی جس میں ماسوائے چیئرمیں خلیل بلوچ کے ڈاکٹر منان سمیت مرکزی کابینہ اورسنٹرل کمیٹی کے اراکین کے نام سنٹرل کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق سیکورٹی خدشات کے حوالہ سے تبدیل کیا گیا اور وضاحت کی گئی کہ ماسوائے چیئرمیں خلیل بلوچ کے کوئی اپنی نام کے ساتھ نہ اخباری بیان جاری کرسکے گا نہ میڈیامیں پارٹی کی نمائندگی یا ترجمانی کرسکے گالیکن چند ہی دنوں بعد اس فیصلہ کے خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈاکٹر منان کی وش ٹی وی پر ظاہر ہونا کیا یہ قابل اعتبار رویہ ہیںیاذمہ دارانہ طرزوعمل ہے یا پارٹی سنٹرل کمیٹی کو اپنے سہولت کے لئے بار بار جھاؤ اور مشکے میں طلب کرنااور اپنے جان کی امان مانگ کر دوسروں کی سفری اور مالی مشکلات سمیت سیکورٹی کے مسائل کو نظر انداز کرنا کیا یہ انقلابی سنگتی کا پیمانہ اور تقاضا ہے کیا سنٹرل کمیٹی کے ایک دن کے اجلاس کے بعد اپنے مرضی کے ایجنڈے کی تائید حاصل کرنے کے بعدپھر سنٹرل کمیٹی کے اجلاس تک کسی زمہ دار سے احل احوال اور مشاورت کو گناہ عظیم سمجھنا اور پارٹی کو قومی مفادات کے بجائے ایک گروہ کے لئے استعمال کرنا اور کسی کی رضاکارانہ حیثیت کو نظر انداز کرکے اسے ایک مخصوص لابی اور گروہ کے مفادات کے لئے مخصوص ایجنڈے پر کام کرنے پر مجبور کرنا کیاان فرسودہ رویوں کو انقلابی رویہ کہا جاسکتا ہے کیا ان رویون پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں ہے میرے خیال میں ہیں کیونکہ اس قسم کی بے جوڑ پالیسیوں اور گروہیت نے سیاسی ماحول میں جتنے منفی اور بھیانک اثرات مرتب کئے ہیں اگر ان کی بروقت تطہیر نہ کی گئی تو یہ مستقبل میں
قومی تحریک کے لئے آسودگی کے بجائے مشکلات پیدا کردیں گے اور گروہیت اور علاقیت کے مسکراتے نقاب کو اتار کر اگر ایک طرف نہیں پھینک دیا گیا تو اس کے تحریک پر مہلک اثرات مرتب ہوں گے حقیقی دوستوں کی جانب سے علاقائیت گروہیت قبائلیت بت پرستی شخصیت پرستی جیسے رجحانات کے خلاف سوال اٹھانے پران لوگوں کی جانب سے برہم ہونا اور غصہ اور طیش میں آکر پگڑی اچھالنے کی ناکام کوششوں کو تقویت دینا اور ان ہی میں سہارا ڈھونڈھناہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اپنے کمزوریوں اور خامیوں پر خلوص دل اور ایمانداری سے غور کرتے اور دوستانہ ماحول میں ا بحث و دلیل سے ان سوالوں کا جواب دیتے لیکن ہمیں ایسا نظر نہیں آرہا جو غیر سنجیدگی کی انتہا ہے غیر سیاسی اور بیمار رویوں پر شعوری اور زمہ دارانہ تنقید پر اگر ہم پھر سے نظر ثانی کریں اور کسی کی خوشنودی کے لئے نرمی اور پست قدمی اختیار کرلیں تو یہ علاقائیت اور گروہیت سمیت بت پرستوں کے حوصلہ بلند کرکے ان کو اور بھی گستاخ کردے گی اصولی بحث و مباحثہ کا ہم قائل ہیں لیکن بے بنیاد الزام تراشی کا ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں میں دوستوں کے سامنے اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ کیا یہ بی این ایم کی آئین کی کھلی خلاف ورزی نہیں کہ کہ بی این ایم کے کلیدی عہدوں پر براجمان سنٹرل کمیٹی کی اکثریت اور پارٹی میں میرے اور خلیل بلوچ کے علاوہ سارے سرکاری ملازم تھے اور بلخصوص پارٹی سیکریٹری جنرل باقائدہ ہر ماہ سرکار سے تنخواء لیتا ہے حالانکہ اس نے پارٹی سنٹرل کمیٹی کے اراکین کے سامنے اس بات کا حلفیہ اقرار کی تھی کہ وہ سرکاری ملازمت سے استعفی دیگا لیکن تاحال وہ ایسا کرنے سے قاصر رہا اورسرکاری ملازم کی حیثیت میں ایک انقلابی پارٹی کے کلیدی عہدے پر بیٹھے ہوئے آئین و منشور کے براہ راست خلاف ورزی کررہی ہے لیکن ان کے بارے میں خاموشی اور انہیں قبول کرنا اور ان کا مواخذہ نہ کرناکس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کیا کوئی شخص اور اس کی ذاتی و خاندانی ضرور ت اور غرض پارٹی آئین سے بالاتر ہے کیا آئین صرف کاغذ کا ایک پلندہ ہے کیا ایک شخص کو ایک پارٹی کی آئیں پر تقدس فوقیت اور فضلیت حاصل ہے کیایہ شفقت اور مہربانیاں سوالات کو جنم نہیں دیتے ؟کیا ہم اس بارے میں سوال نہ کرے؟ کیا ہمارا یہ حق بھی سلب کیا جائیگاتوپھران کو کیوں استثنی حاصل ہے؟ اور ہم کس قائدہ اور قانوں کے تحت جرم دار ۔۔۔۔


