×

بلوچ جانثار اپنی جرائت اور عزم سے تاریخ کی کسوٹی پر ثابت کردیا ہے کہ آزادی کی تحریک ایک زندہ حقیقت ہے جسے دہشت گردی اور خوف پھیلانے کی روایتی اور گھناؤنے طریقوں سے سرنگوں نہیں کیا جاسکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ جانثار اپنی جرائت اور عزم سے تاریخ کی کسوٹی پر ثابت کردیا ہے کہ آزادی کی تحریک ایک زندہ حقیقت ہے جسے دہشت گردی اور خوف پھیلانے کی روایتی اور گھناؤنے طریقوں سے سرنگوں نہیں کیا جاسکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

24.6.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیاں میں ڈیرہ بگٹی میں ریاستی
فورسز کی جانب سے آٹھ بے گناہ بلوچ فرزندون کی وحشیانہ قتل شہادت کوریاست کی بدحواسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبضہ گیر بلوچ جہد آزادی کی شدت اوروسعت سے خوف زدہ ہوکر پورے بلوچ وطن میں جارحانہ کاروائیوں کا سلسلہ شروع کرکے آزادی کے لئے اٹھنے والے قومی و عوامی ابھار کو زائل کرنے کے لئے نہتے آبادیوں کو ہدف بنارہے ہیں پورے بلوچ وطن میں ماس کلنگ کا سلسلہ شروع کرکے قبضہ گیر اپنی شرمناک شکست کی پردہ پوشی کرنے کے لئے ہر باشعور اور آزادی پسند بلوچ فرزندکو دہشت گرد قرار دیکرسفاکیت اور خونریزی پر اتر آئی ہے ڈیرہ بگٹی میں ایک پرس فاتحہ میں بیٹھے آٹھ بلوچ سپوتوں کا قتل قومی سانحہ ہے جو گماشتہ ریاستی حکومت کی منافقانہ جھکاؤ اورہمدردیوں کو بے نقاب کرنے کے لے کافی ہے کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے بارہا یہ دعوی کہ وہ بلوچستان میں ریاستی فورسز کو لگام دیگی لیکن ان منافقانہ دعووں کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت ریاستی دہشت گردی کو مزید ایندھن دیکر بلوچ نسل کشی کو اپنی مصنوعی حاکمیت برقرار رکھنے کے لئے ناگزیر سمجھتی ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ جانثار اپنی جرائت اور عزم سے تاریخ کی کسوٹی پر ثابت کردیا ہے کہ آزادی کی تحریک ایک زندہ حقیقت ہے جسے دہشت گردی اور خوف پھیلانے کی روایتی اور گھناؤنے طریقوں سے سرنگوں نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی لاشین گرانے کے اس عمل سے بلوچ قومی موقف کو تبدیل کیا جاسکتاہے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ قومی مسئلہ قومی آزادی کے مطالبہ سے جڑی ہوئی ہے گماشتہ حکومت کی جانب سے بلوچ قومی مسئلہ کو بلوچ حقوق کے مطالبہ سے جوڑ کراسپرین سے کینسرکا علاج ناممکن ہے اور جو لوگ عالمی رائے کودھوکہ دینے لئے تحریک آزادی کو محض حقوق کے نام نہاد مطالبات سے نتھی کرکے بے بنیاد پروپیگنڈے کرکے خود کو تسلی دے رہے ہیں کہ ان کے ان مجرمانہ پروپیگنڈوں سے عالمی دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں بلوچ مسئلہ پر اعتماد میں لیا جائیگا یہ ان کی خام خیالی ہے پاکستان دنیا بھر میں اپنی وقار اور اعتماد کھوچکا ہے بلوچ قومی آزادی کی گونج پورے دنیا میں پہنچ چکی ہے جب کہ بلوچ شہداء کے گرتے خون کے ہر قطرے آزادی کے حصول کے لئے جاری کوششوں کو جلا ء بخشی ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ سالویشن فرنٹ ڈیرہ بگٹی کے شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے قبضہ گیر اور ان گماشتہ حکمرانوں پر واضح کرتے ہیں کہ وہ دہشت راج کے زریعہ بلوچ شہداء کے مقصد اور مشن پر اثر انداز نہیں ہوتا بلوچ قومی آزادی ایک حقیقت ہے بلوچ سماج کو خون میں ڈبوکر قبضہ کرو اور حکومت کرو کے گھناؤنے پالسیوں سے پاکستانی قبضہ گیر بلوچستان میں اپنے مستقل قبضہ کو برقرا ر نہیں رکھ سکتا یہ دنیا کی تاریخ ہے کہ کسی بھی غیر ملکی حملہ آور مقبوضہ قوم کی آزادی کی جدوجہد کے سامنے زیادہ دیر تک نہ ٹہر سکے قبضہ گیر ہمیشہ زخمی اعصاب کے ساتھ مقبوضہ قوموں کے ہاتھوں شکست کھاچکے ہیں اور بلوچستان سے ان کی انخلاء بھی پیٹھ پہ لیے زخموں کے ساتھ ہوگا

Previous post

ماہ جون کے شہداء شہید ماسٹر نذیر احمد بلوچ شہیدمرید بگٹی شہید خالد کرد شہید خالد لانگو شہید سنگت ابراھیم صالح بلوچ شہید کریم بخش مری شہید ستار بلوچ شہید بی بگر بلوچ شہید قدیر بلوچ شہید رمضان بلوچ شہید عبدالخالق بلوچ اور دیگر شہداء کو جدوجہد آزادی اور قوم

Next post

شہید بابو نوروز خان کے فرزند کے گھر پر ریاستی فورسز کا حملہ چادر و چار دیواری کی تقدس کی پائمالی اور اور بلوچ آبادی کو ہراسان کرناجاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل اوربلوچ نسل کشی کا حصہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ