×

بلوچ رہنماء شہید سفر خان زرکزئی کے قریبی ساتھی میر اکبر شاہوانی کی وفات پر ان کے خاندان اور پسماندگان سے اظہار تعزیت آزادی کے لئے کام آنے والے ایسے جہد کار کا غم ان کے خاندان اور عزیز اقارب کا نہیں ہوتا بلکہ پورے بلوچ قوم کا ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ رہنماء شہید سفر خان زرکزئی کے قریبی ساتھی میر اکبر شاہوانی کی وفات پر ان کے خاندان اور پسماندگان سے اظہار تعزیت آزادی کے لئے کام آنے والے ایسے جہد کار کا غم ان کے خاندان اور عزیز اقارب کا نہیں ہوتا بلکہ پورے بلوچ قوم کا ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک تعزیتی بیان میں سابقہ بلوچ گوریلا اور بلوچ رہنماء شہید سفر خان زرکزئی کے قریبی ساتھی میر محمد اکبر شاہوانی کی وفات پر ان کے خاندان اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاہے کہ آزادی کے لئے کام آنے والے ایسے جہد کار کا غم صرف ان کے خاندان اور عزیز اقارب کا نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگ قوم کے سرمایہ ہوتے ہیں قومی جدوجہد میں ان کی قربانی صلاحیت کوششیں جانفشانی ایثار اور خلوص تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں بلوچ تاریخ کے صفحات آزادی کے متوالوں کے لہواور درد انگیزقربانیوں سے مزیں ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ قومی آزادی کے لئے قربانی دینے والون کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتااس راہ میں کئی لوگوں نے قربانیاں دیں اور مختلف ادوار میں بلوچ تحریک کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے کئی لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں ان کی قربانیاں بے مول نہیں 1948 سے جاری اس تحریک کے مختلف ادوار ایک ہی تسلسل کا حصہ ہے تمام دہائیوں میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے جن جن لوگوں نے قربانیاں دین اور ثابت قدم رہی اور اپنی آخری سانس تک ریاست کی غلامی اور تابعدار ی قبول نہیں کی بلوچ قومی تاریخ میں ان کے لے جگہ اور مقام ہے ان کے خاندان یہ نہ سمجھیں کہ ایسے لوگ فراموش کئے جائیں گے جنہوں نے ایک عظیم مقصد کے لئے پہاڑون کو اپنا ہم سفر بناکر جدوجہد کرتے رہے تکالیف اور مشکلات سے ان کا سامنا رہا ان سپوتوں کو کھبی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا وہ قوم کے مشعل برداررہے ہیں جن کا اس تاریخی عمل کو ایندھن دینے میں بہت بڑا کردار ہے ترجمان نے کہاکہ انگریزوں کی آمد سے لے کر بلوچ گلزمین کی دفاع اور آزادی میں اب تک ہزاروں جانثاروں کی طویل فہرست موجود ہے

جو بلوچ قوم کو حاکم اور رعیت کے اس صورتحال سے نکالنے کے لئے بے پناہ کوششیں کی ہے ان کے جذبہ جوانمردی خلوص ایمانداری وسائل کی کمی اور مشکلات کے باوجو د عزم اور سرگرم کردار تاریخ کو متاثر کر چکے ہیں ترجمان نے کہاکہ70کے دہائی میں بلوچستان کے پرپیچ پہاڑوں کو اپنا ہم سفر بناکر قومی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنے پرشہید میر اکبر شاہوانی کو ان کی خدمات صلاحیت اور قربانیوں کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کو دہراتے ہیں کہ آزادی بلوچ کی اصل منزل ہے شہداء اور بلوچ جہد کاروں کی قربانیوں کا نعم البدل صرف اور صرف آزادی ہے بلوچ کسی کی ناجائز اور غیر قانونی حکمرانی کو نہ پہلے قبول کی ہے نہ آئندہ اس کے لئے آمادہ ہوگا آزاد بلوچستان کا قیام خطے میں علاقائی سلامتی اور پائیدار امن کے لئے ناگزیر ہے

Previous post

دشت گوران میں چھاپہ چادر چار دیواری کی پائمالی اور تمپ گومازی اور گرد ونواح میں آبادی پر فضائی حملہ شیلنگ قتل عام شہید کمبر قاضی سمیت ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کا قتل اور ایک تسلسل کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی کاؤنٹر انسر جنسی ہے ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

شہداء نے بلوچستان کی آزادی اور قومی بقاء کے لئے جو قربانیاں دیں جن مشکلات کا سامنا ء کیا جس قسم کے تکالیف اٹھا ئے وہ رائیگاں نہیں جائیں گئے ان کا ثمر آج ہمیں بین الاقومی حمایت کی صورت میں مل رہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ