بلوچ سالویشن فرنٹ کا اجلاس نئی کابینہ تشکیل دی گئی 2013میں قومی آزادی کے ایجنڈے اور پروگرام کو لے کر بلوچ سالویشن فرنٹ کی بنیاد رکھی گئی ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ سالویشن فرنٹ کے کونسل کا اجلاس زیر صدارت سعیدیوسف بلوچ منعقد ہوا اجلاس میں بلوچ سالویشن فرنٹ کی قومی آزادی کی جدوجہد میں سیاسی جز کی حیثیت سے دو سالہ کارکردگی الائنس کی موجودہ صورتحال سمیت تنظیمی و سیاسی امورعالمی و علاقائی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالہ سے مختلف ایجنڈوں پر تفصیلی بحث ومباحثہ کیا گیاجبکہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے ضابطہ اخلاق کے مطابق مرکزی کابینہ اور ایگزیکٹو باڈی کو دوسالہ آئینی مدت پو را ہونے پر تحلیل کردی گئی جبکہ اگلے دوسال کے لئے ایک نئی کابینہ تشکیل دی گئی جس کے مطابق سعید یوسف بلوچ چیئر مین جبکہ میر قادر بلوچ سیکریٹری جنرل اور بانک حانی بلوچ مرکزی سیکریٹری اطلاعات منتخب کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ سالویشن فرنٹ کے چیئر میں سعید یوسف بلوچ اور مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ سالویشن فرنٹ قومی نجات کی جدوجہد میں ایک جز کی حیثیت سے اپنا کردار احسن طریقہ سے ادا کرررہاہے2013 میں بلوچ وطن موومنٹ بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کی قیادت ایک ایجنڈے اور ایک پروگرام کو لے کر بی ایس ایف کی بنیاد رکھی تاکہ بلوچ آزادی خواہ تینوں اتحادی جماعتیں ایک مشترکہ قوت اور طاقت سے قومی غلامی کے خلاف ایک ہی پلیٹ فارم سے جدوجہد کرے قومی آزادی کے پروگرام سے منسلک ہوکرایک بے لوث نظریا تی اور فکری اتحادکی صورت میں جب بی ایس ایف پر مشتمل الائنس قائم کیا گیا تو اس وقت بلوچ سیاسی منظر نامہ ایک تطہیری عمل سے گزر رہاتھا روایتی قیادت گروہیت اور علاقائی سیاست کے خلاف ایک منظم سوچ پہلے سے موجود تھے جو کہ ہر تحریک میں ضروری ہے
ایک انقلابی جدوجہد کو ہمیشہ تطہیر کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے یہ ایک پیش نظر اصول ہے کہ کسی بھی جدوجہد میں زاتی گروہی اور علاقائی سوچ کی نشود نما کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اگر کہیں بھی زاتی انا پروری یا روایتی سوچ یاآزاد خیالی نظر آجائے تو اس کی بیخ کنی کی جانی چاہیے اگر منفی سوچ کی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی اور ان معاملات پر زبان بندی کو معمول بنایا گیا تو اس کے مضر رساں نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچ سیاسی زمیں پر جہاں آزادی پسندوں کے درمیان اصولی اختلافات سامنے آئے وہاں بلوچ سیاسی منظر نامہ میں ایک غیر متزلزل موقف استقامت کے ساتھ نظر آئی مختلف پارٹیوں اور تنظیموں کے کیڈرز اور کارکن اس بحث کا باقائدہ حصہ بن گئے اس کے مقابلہ میں روایتی قیادت خطرہ محسوس کرتے ہوئے ان کیڈر ز اور کارکنوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا اور ان کے زمہ دارانہ اور منصبی فرائض میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ان کا پہلا وار بی این ایف کی تقسیم تھی بلوچ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرتے ہوئے قومی اتحاد سے جڑے مختلف تنظیموں کو غیر منطقی جواز کے ساتھ فرنٹ سے الگ کرکے اتحاد کے دائرہ کو دوجماعتوں تک محدود کردیا گیا جس سے بلوچ قوم دوست جہد کاروں میں ایک بے چینی پیدا ہوئی بی این ایف کی تقسیم ان کی جانب سے ایک ابتدائیہ تھی لیکن انہوں نے تسلسل کے ساتھ ان تما م وطن دوست نظریاتی ساتھیوں کو ہدف بنایا جو روایتی بوسیدہ اور فرسودہ سوچ کے خلاف اصولی بحث و مباحثہ کا حامی تھے بلوچ سالویشن فرنٹ کی قیام کو اس صورتحال سے قطعا الگ نہیں کیا جا سکتا یہ اسی تطہیر کا اٹوٹ تسلسل ہے یقیناًبی ایس ایف تحریک آزادی میں ایک جز کی حیثیت سے اپنا رول ادا کررہاہے اس کی کنٹریبیوشن سے قطعا انکار نہیں جا سکتااگرچہ ہم نے وہ اہداف حاصل نہیں کئے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا لیکن ہم نے کھبی بڑے دعوی نہیں کئے کہ ہم چٹانیںیا پہاڑکاٹ کر رکھیں گے یا ہمارے پاس ایک بحر بیکراں ماورائی قوت موجود ہے اگرچہ ہماری حاصلات ہماری ہدف سے کم ہیں لیکن ہمارے پاس اپنے اہداف جیتنے کے لئے حوصلہ اور عزم موجود ہے کوئی بھی مشکل کام کسی بھی جہد کار کے عزم سے بڑا نہیں انہوں نے کہا کہ کچھ روایتی پارٹیوں نے بی ایس ایف کے نظریاتی اساس پر حملہ کرتے ہوئے ہمارے خلاف طرح طرح کے الزامات لگائے گئے زاتی اور گروہی مفادات کے چھایہ میں رہ کر ہمارے خلاف زہر بھرے پروپیگنڈوں کے ساتھ وہ بی ایس ایف کے کے خلاف زمینی حقائق کے برعکس تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہمارے اس منفرد رجحان کے خلاف انہوں نے باقائدہ چابک دستی سے مہم چلائے لیکن وہ ناکام ہوگئے ان کے تحفظات غلط نکلے اور ان کی کوششیں اور سازشیں خاک میں مل گئے آج بلوچ سالویشن فرنٹ ایک نظم و ضبط اور واضح انقلابی ڈسپلن میں منظم اپنی دوسال مکمل کرچکی ہے بی ایس ایف بلوچ سیاسی زمین پر آزادی پسندوں کے بیچ ایک اپوزیشن کا کردارکے طور پرابھر چکاہے اس حقیقت سے انکاری صرف وہی لوگ ہیں جو سیاسی اخلاقیات سے بے بہرہ ہوکر پارٹی اور تنظیموں کو اپنی زاتی جائیداد سمجھ کر گروہیت اور علاقائیت پر بیعت کرچکے ہیں انہوں نے علاقائی و عالمی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے کہاکہ آج عالمی برادری بلوچوں کو ایک آزاد اور الگ قوم کے طور پر تسلیم کرنے کی پوزیشن میں ہیں عالمی ایوانوں میں بلوچ قومی جدوجہد ایک حل طلب مسئلہ کے طور پر موجود ہے بلوچ قوم اپنی آزادی کے لئے جنیوا کنونشن اور بین لاقوامی قوانین کے مطابق جدوجہد کررہے ہیں بلوچ اپنی تشخص آزادی اور منفرد شناخت کے حصول کے لئے جو جدوجہد کررہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی اصولوں پر مبنی ہے جبکہ کسی قوم کی سرزمین کو ہتھیانا نہ صرف عالمی قوانین کے خلاف رزی ہے بلکہ ایک غیر انسانی عمل ہے جبکہ اپنی آزادی کی دفاع ایک اعلی انسانی اقدار ہے اقوام عالم کو چاہیے کہ وہ بلوچ قوم کی فطری قانونی اور پیدائش حق آزادی کو تسلیم کریں بلوچ مسئلہ پر اقوام عالم اپنا دہرا معیار ترک کریں انہوں نے کہاکہ بی این ایم کی قیادت کی جانب سے یہ کہنا کہ عالمی طاقتیں ہمیں توڑ رہے ہیں وہ یہاں لابنگ کررہے ہیں وہ آزادی پسندوں کے بیچ میں اپنی مرسریاں بنارہی ہے بلکل غلط اور بے بنیاد ہے یہ بلوچ قوم کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش اور بلوچ قومی معاملات سے فرار کی ایک حربہ ہے بی این ایم کی قیادت بلوچ عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ ان طاقتوں کی نشاندہی کریں کہ وگر نہ ایسے قیاس آرائیوں کے زریعہ غلط بیانی نہ کریں انہوں نے کہاکہ چین آج کل کر ریاست کے ساتھ مل کر بلوچ قوم کے وسائل ہتھیانے اور بلوچ قوم کو غلام بنانے میں دو قدم آگے ہیں لیکن چین اپنی مفادات کی تکمیل کے لئے براہ راست ریاست کے ساتھ دوبہ دو ہے ان کے مفادات اور معائدہ خفیہ نہیں بلکہ ان سے سب آگاہ ہیں اور بلوچ قوم نے واضح کردیا ہے کہ کوئی بھی ممالک بلوچ مرضی و منشاء کے بغیر اپنی دلچسپیوں کے پیش نظر بلوچ سرزمین اور قومی مفادات کے خلاف ریاست کے ساتھ ہاتھ ملائے گا یا معائدہ کریگا وہ بلوچ قوم کو غلام بنانے اور بلوچ قومی استحصال میں برابر کا شریک تصور کیا جائے گا


