بلوچ سالویشن فرنٹ کی اعلان کردہ شٹرڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بناکر شہداء کے مشن کے ساتھ یکجہتی اور جدوجہد آزادی کوآگے بڑھانے کا تجدید عہد کریں بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ
8.11.2013
بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ13 نومبر کو شہدائے بلوچستان کے موقع پرخاک وطن پر جان نچاور کرنے والے آزادی کے شہیدوں کو بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلوچ سالویشن فرنٹ کی اعلان کردہ شٹرڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بناکر شہداء کے مشن کے ساتھ یکجہتی اور جدوجہد آزادی کوآگے بڑھانے کا تجدید عہد کریں 13نومبر کے شٹرڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بناکر دنیا پر واضح کریں کہ شہداء کے وارث زندہ ہے ان کی سرخی خون سے جبری الحاق کے مصنوعی اور غیر فطری قبضہ کو مٹائی جائے گی ترجمان نے شہید سنگت عزت بلوچ اور بلوچ شاعر قاسم وفا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی تحریک میں ان کی خدمت اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے ان کی سچائی اور بے لوث جدوجہد تاریخ میں انہیں بلند مقام عطا کیا ہے جب کہ ریاست اور ان کے کاسہ لیسوں کی تاریخ سیاہ حروف میں لکھی جائیگی عزت بلوچ اور قاسم وفا کی ریاستی قتل اور بلوچستان بھر میں جاری ریاستی دہشت گردی بلوچ کش ریاستی پالیسیوں کا حصہ ہے ریاست بڑے پیمانے پر قتل عام کا سلسلہ شروع کرکے بلوچستان میں اپنی کھوئی ہوئی علمداری کو بحال کرنے اور آزادی کی جدوجہد پر غلبہ حاصل کرنے کی مکروہ کوششیں کررہیں بلوچ وطن میں جاری ریاستی قتل عام پر نہ صرف ریاستی الیکٹرانک میڈیا نے لب سی لئے ہیں بلکہ عالمی میڈیا کا کرداربھی بلوچستان کے حوالہ سے محض خبر ڈھونڈھنے کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے بلوچستان میں جاری قتل عام پر نہ وسیع پیمانے کوئی رپوٹنگ کی جارہی ہے نہ ہی ریاست کی جارحانہ پالیسیوں کی مزمت کی جاتی ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ایک پالیسی کے تحت ریاست کے گھناؤنے واقعات پر پردہ پوشی کرکے بلوچستان کے اصلی تصویر کو عالمی دنیا کو دکھانے میں لیت و لیل سے کام لی جارہی ہے ترجمان نے بلوچ تاریخ سے نابلد پنجابی وزیر اعظم کی جانب سے آواران میں اپنے جارحانہ اظہار میں بلوچ قومی جہد کاروں کو صبح کا بھولا کہہ کر آذادی کی مقدس جدوجہد سے دستبردار ی کی غیر فطری اور فضول مطالبہ کو روایتی پنجابی زہنیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پسپائی اوربوکھلاہٹ قابل دید ہے وہ آزادی کی جدوجہد کا سامنا کرنے کے بجائے نان ایشوز اور زمینی حقائق کے برعکس الفاظ اور جملوں کا استعمال کرکے بلوچ قوم کو مراعات اور پیکجز کا جھانسہ دیکر تحریک آزادی کے خلاف جارحانہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں پاکستانی وزیر اعظم آوران کو ماڈل سٹی بنانے کے دعووں کو اپنے پاس رکھیں جس ملک کو آئی ایم ایف مالیاتی آکسیجن فراہم کررہی ہے جوخود کمیشن ایجنٹ اور عالمی گماشتگی پر زندہ ہے جس کا خود دنیا میں کوئی سیاسی معاشی اور سماجی کردار نہیں جس کی اپنی تاریخ گماشتگی سے عبارت ہے وہ اپنی پست زہنیت اور گماشتگی کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچ قوم سے ہو بہو وہی توقع اور مطالبہ کرکے انتہائی سطحی اور غلط اندازہ لگا یا ہے بلوچ وطن کسی غیر فطری دوقومی نظریہ کے نام پر یاکسی کاغزی قرارد سے وجود میں نہیں لائی گئی ہے بلکہ اس کی بنیادوں میں شہداء کا خوں شامل ہے اور ہزاروں سال سے دنیا کے نقشہ پر بلوچ وطن بلوچستان کی حیثیت میں وجود رکھتی ہے بلوچ قوم پاکستان کے اندر رہتے ہوئے چند سیاسی مراعات کو اپنی منزل تصور نہیں کرتی بلکہ بلوچ قوم آزادی اور پنجابی غلامی سے نجات کو اپنی منزل سمجھتے ہیں تاریخ کا دھارا بدل چکاہے بلوچ وقت ضائع کئے بغیر فیصلہ کن اور پر اعتماد اندازمیں اپنے جدوجہد کے ساتھ ہیں ریاست کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈوں سے بلوچ قوم کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا


