بلوچ سالویشن فرنٹ کے ایگزیٹوباڈی کا اجلاس اہم قومی وسیاسی امو ر علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال زیر بحث آزادی کے تحریکوں کو بانجھ ،غیر سائنسی غیر انقلابی اور نام نہاد ہڑتالوں کے زریعہ ایندھن نہیں دیا جاسکتا۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
: 14.9.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے ایگزیٹوباڈی کا اجلاس منعقدہوا اجلاس میں اہم قومی وسیاسی امو ر علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال اور بلوچ قومی تحریک اور اس کے خدوخال سمیت تین بلوچ تنظیموں بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے درمیان قائم سیاسی الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کو فعال اور متحرک کرنے کے لئے اوپن ورک پر زور دیا گیا اجلاس میں کہا گیا کہ غیر ضروری شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام جو پارلیمانی طرز جدوجہد پر مشتمل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ اس قسم کے پارلیمانی طرز پر مشتمل ہڑتالون کو مسترد کرتی ہے جو بلوچ عوام کے لئے ازیت و تکلیف کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کو معاشی طور پر نقصان سے دو چار کررہے ہیں جو ایک غیر مہذب اور غیر جمہوری دشمن پر اثر انداز نہیں ہوتے اس لئے بلوچ قوم ان ہڑتالوں کا متحمل ہونے کے بجائے حقیقی طور پر قومی آزادی کی تحریک میں شامل ہوکر ریاست کے خلاف موثر جدوجہد کے ذریعہ بلوچ شہداء کے فکر و فلسفہ پر عمل پیر اہوکر قابض ریاست کے خلاف طاقت کا مظاہر ہ کرکے انقلابی و سائنسی بنیادوں پر جدوجہد کریں اجلاس میں کہا گیا کہ آئے روز کے شٹرڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام نے بلوچ قوم کی معاشی مشکلات میں اضافہ کی ہے اس سے ہزار گناہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ بلوچ قوم کو نظریاتی و سیاسی طور پر تحریک سے ہم آہنگ کر نے کے لئے انقلابی تدبیر اور لائحہ عمل طے کی جائے اور قوم کو اس رجعتی عہد اور جمودی کیفیت سے نکالنے اور انہیں انقلاب سے منسلک کرنے کے لئے موثر زرائع کو اہمیت و اولیت دی جائے اور کسی تجریدی فارمولا کے بجائے ٹھوس طریقہ اپنائی جائے تاکہ بلوچ قومی تحریک اپنی منطقی اہداف کا حصول ممکن بناسکیں اجلاس میں کہا گیا کہ آزادی کے تحریکوں کو بانجھ ،غیر سائنسی غیر انقلابی اور نام نہاد ہڑتالوں کے زریعہ ایندھن نہیں دیا جاسکتا جب کہ اس کے منفی اثرات پڑرہے ہیں جو بلوچ عوام کو بلوچ آزادی کی جدوجہد سے منسلک کرنے کے بجائے منحرف کررہے ہیں ہم نے پہلے بھی اس جانب نشاندہی کی تھی اورواضح کیا تھا کہ آئے روز کے ہڑتالوں کے زریعہ آلودگیان پیدا کی جارہی ہیں اور اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ ان نام نہاد ہڑتالوں سے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو مدد ملنے کے بجائے اس کے مضر اثرات پڑرہے ہیں جس بلوچ کے گھر میں ان کے گھرکے چولہے کی روشنی اس کی روزانہ اور مزدوری سے وابسطہ ہے اس سے پوچھاجائے کہ آئے روز کے ہڑتالیں اس کے لئے کس قدر تکلیف دہ ہے پہلے سے قبضہ گیر ریاست نے بلوچ قوم کی معاشی اور پیداواری زریعوں کو تباہ کردیا ہے پارلیمانی جماعتوں سمیت بعض آزادی پسندوں کی جانب سے ہڑتال کے اوپر ہڑتالوں کے اپیلوں نے عوام کی گزر وبسر میں مشکلات حائل کرکے انہیں اذیت سے دوچار کی ہے اگر غیر جانبداری اور ایمانداری سے ان ہڑتالوں کے تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان ہڑتالوں نے سماج میں صورتحال کو متضاد بنارہی ہیں عوام احتجاج کے اس غیر سائنسی اور غیر منطقی طریقہ کار پر انگلیاں اٹھارہی ہیں جو یقیناًتشویشناک ہے لیکن اس کے باوجو دبعض سیاسی جماعتیں اپنی گروہی اور علاقائی مفاد کی نقطہ نظر سے کسی حکمت عملی اور انقلابی پروگرام سے عاری ہڑتال کے ان دو زرائع پر ٹکے ہوئے ہیں غیر انقلابی طرز پر مشتمل ان ہڑتالوں سے آزادی ملتی توشاید کشمیروں کو ملتی جو آئے روز دکانیں بند کرکے ایک ہی احتجاج پر ڈھٹے ہوئے ہیں ترجمان نے کہا کہ بلوچ عوام کو چاہیے کہ وہ ان ہڑتالوں سے لاتعلق ہوکر شہداء کے عظیم ترین نظریات کی سچائی اور ان کی عملی جدوجہد سے جڑھ کر قومی آذادی کی جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے قبضہ گیر ریاست کی بلوچ وطن سے دستبرداری کو یقینی بناکر شہدائے کے ادھورے خواب اور ارمانوں کی تکمیل کے لئے اپنی جان مال قربان کریں ان گنت بلوچ سپوتوں اور بہادرشہداء نے اپنے خون سے انقلاب آفریں حالات پیداکرکے قبضہ گیر کو عسکری معاشی سیاسی اور نفسیاتی شکست سے دوچار کرکے جس انقلابی ابھار کو جنم دیا ہمیں اس انقلاب کو اپنے میراث سمجھتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کے سوگندھ کے ساتھ کسی بھی قربانی کے لئے تیار رہ کر جدوجہد کے اس تاریخی اور آزمائیشی مر حلوں میں جدوجہد کو اس کے منطقی ہدف تک لے جانے کے لئے آزادی کی صفوں کو مضبوط کر ناچاہیے ترجمان نے کہا کہ سال میں صرف دو دفعہ شٹر ڈاؤں ہڑتال ہوگی جو کہ27 مارچ بلوچ وطن پر پاکستانی قبضہ کے خلاف ا ور13 نومبر کو یوم شہدائے آزادی بلوچستان دن کی مناسبت سے ہوں گے


