بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پربلوچ قوم 27مارچ کوبلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال اور یوم سیاہ کو کامیاب بنائیں
25.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئر مین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر سمالانی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بانک حانی بلوچ ایگزیگٹو کمیٹی کے ممبران بانک زمور آزاد بلوچ اے آر بلوچ ، نذر زیب بلوچ اور شیہک بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے کال پربلوچ قوم 27مارچ کوبلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال اور یوم سیاہ کو کامیاب بناکر آزادی کی جدوجہد سے وابسطگی کا ثبوت دے کربلوچ وطن پر ریاستی قبضہ کو مسترد کرتے ہوئے قبضہ گیریت اور غلامی کے خلاف شدیدنفرت کا اظہار کرکے بھر پور انداز میں احتجاج ریکارڈ کرکے ریاست کودوٹوک پیغام دیا جائے کہ وہ مشرقی بلوچستان پر اپنی غیر قانونی قبضہ سے دست بردار ہوکر بلوچ وطن پر اپنی جبری اور نام نہاد عملداری ختم کریں بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ جدجہد کا متباد ل الیکشن اور نام نہاد پاکستانی جمہوریت نہیں بلکہ آزاد بلوچ ریاست کے بحالی ہے بلوچ اپنی مرضی یا سیاسی اتحاد کی بنیاد پر پاکستان میں شامل نہیں ہوا بلکہ قابض ریاست نے مسلح جارحیت اور مداخلت کے زریعہ بلوچستان پر قبضہ کرلیا جب کہ 1948 سے لے کر اب تک قبضہ کے خلاف بلوچ مزاحمت اور جدوجہد جاری ہے اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 1997 میں اس میں مزید تیزی اور شدت لا یا گیا جب کہ پاکستان جیسے غیر فطری ریاست کی ظہور پزیر ہونے سے قبل بھی بلوچوں نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے لے سیاسی و عسکری محاز پر جدوجہد کررہے تھے انگریزقبضہ کے خلاف بلوچ مزاحمت کی اپنی شاندار تاریخ ہے شہید نواب خان محمد زرکزئی شہید نورا مینگل شہید علی دوست اور مری قبائل نے برطانیہ کے قبضہ کے خلاف مزاحمت کی اور سیاسی محاز پر یوسف عزیز مگسی نے بھر پور جدجہد کی حتی کہ روس جاکر باکو کانفرنس میں لینن کی صدارت میں آزاد ب
بلوچستان کے قیام اور بلوچستان کی آزاد تاریخی حیثیت کے حوالہ سے موقف رکھی انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے اپنے مفادات کے پیش نظر بلوچستان میں سکول ، ہسپتال اور سڑکیں تعمیر کیں اور ریلوے کا جھال بھچا یالیکن ان کے ترقی کے نوآبادیاتی چالوں کادراک رکھتے ہوئے بلوچ قوم کے بہادر سپوتوں نے ان کے انفراسٹکچر اور تعمیراتی روڈمیپ کو بلوچ دشمنی سمجھتے ہوئے بھر پور انداز میں مسترد کیا اور اپنی کم وسائلی کے باوجود انگریز قابضین کے خلاف مزاحم رہی بلوچ تاریخ سے نابلد قابض ریاست اپنی کٹھ پتلیوں کے زریعہ بلوچ قوم کو ترقی نوکری اور الیکشن کے نام پر فریب دینے سے پہلے بلوچ مزاحمتی تاریخ کو ضرور پڑ ھیں کہ پر فریب ترقی اورمعمولی ملازمتوں کے لالچ میں بلوچ قوم کو ہمیشہ کے لئے غلام نہیں بنایا جا سکتا تابعداری اور جی حضوی بلوچ قوم کے فطرت میں شامل نہیں یہ پست زہنیت قابض کی اپنی ہے جو ہندوستان کی تیرہ فیصد آبادی پر مشتمل تھی جب کہ برٹش آرمی کی ساٹھ فیصدبھرتی ان ہی قابض نسل سے تھی جو ہندوستان میں انگریز قبضہ کو دوام دینے کے لئے بطور ایجنٹ کام کررہے تھے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم اپنے اسلاف اور شہداء کے تقلید کرتے ہوئے ریاست کے خلاف بھر پور جدوجہد کریں ان کا وطن قدرتی طور پر غریب نہیں بلکہ وسائل سے مالامال ہے آج ریاست ہماری وسائل کو ترقی اور نوکری کے لالچ دیکر لوٹنے کی کوشش کی جارہی ہے عوام ریاست کے خلاف مزاحم بنیں اور خود ساختہ پاکستانی قومیت کو مسترد کرتے ہوئے تحریک آزادی کے صفوں میں شامل ہوجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


