×

بلوچ قوم اور بلوچستان میں آباد عوام اور تاجر برادری سے اپیل ہے کہ 27مارچ کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچ سالویشن فرنٹ کے شٹر ڈاون ہڑتال کے کا ل پر لبیک کہہ کرعالمی دنیا کو پیغام دیں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں قبضہ بلجبر ہے بلوچ گہار موومنٹ

بلوچ قوم اور بلوچستان میں آباد عوام اور تاجر برادری سے اپیل ہے کہ 27مارچ کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچ سالویشن فرنٹ کے شٹر ڈاون ہڑتال کے کا ل پر لبیک کہہ کرعالمی دنیا کو پیغام دیں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں قبضہ بلجبر ہے بلوچ گہار موومنٹ

21.3.2014

بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی چیئر پرسن حانی بلوچ وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ تنظیمی بیان میں بلوچ قوم اور بلوچستان میں آباد عوام اور تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ 27مارچ کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچ سالویشن فرنٹ کے شٹر ڈاون ہڑتال کے کا ل پر لبیک کرکے اپنی دکانیں تجارتی اور مالیاتی مراکز اور تعلیمی ادارے رضاکارانہ بنیادوں پر بند رکھتے ہوئے علامتی ہڑتال و سیاہ کے زریعہ دنیا کو پیغام دیں کہ پاکستانی ریاست نے بلوچ وطن پر بلجبر قبضہ کرکے بلوچستان کی آزادی کو گزشتہ ساٹھ سالوں سے سلب رکھتے ہوئے نہ صرف اقوام متحدہ کی چارٹر کے خلاف ورزی کا مرتکب ہے بلکہ انسانی حقوق کی مسلسل پائمالیوں کے ساتھ بلوچوں کو زبردستی ان کی آزادی کی جدوجہد سے روکنے اور ان کے مطالبہ آزادی کے پاداش میں ان کی بے رحمانہ قتل عام کا سلسلہ شروع کرکے سلو جینو سائیڈ کا سلسلہ تیز کردیا ہے انہوں نے کہاکہ طویل اور پر آشوب جدوجہد کے بعد بلوچ قوم نے برطانیہ قبضہ سے نجات حاصل کرکے 11اگست 1947کو بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے بلوچ ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیکرریاستی امورکو پارلیمانی طرز پر استوار کی لیکن غیر فطری پاکستانی ریاست جسے انگریز کی کاسہ لیسی اور جی حضوری کے عوض پر ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں مذہب کا ٹائٹل دیکر متعارف کرا یا گیا ہندوستان کی جبری بٹوارہ کے بعدتشکیل پانے والے یہ غیر فطری ریاست نہ صرف بلوچستان کو میلی آنکھوں سے دیکھنے لگا بلکہ سندھ دھرتی کو بھی اپنے زیر نگین کے لے بڑے پیمانے پر انسانی بحران کے ملبہ پر اپنی قبضہ کی میخیں گاڑھیں میلی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے زریعہ بلوچستان کے دار الحکومت قلات پر فوجی کشی کرکے بلوچستان پر قبضہ کرلیا بلجبر قبضہ کے خلاف نہ صرف سیاسی سطح پر آواز اٹھائی گئی بلکہ قومی محاز آزادی پر بھی ریاست کے خلاف جدوجہد کی داغ بیل ڈالی گئی لیکن ریاست تمام تر انسانی و بین الاقوامی ضوابط اور قوانیں کو روندھ کر اپنے فوجی کاروائیوں کا سلسلہ تیزکرکے بلوچستان کی روشن صبحوں کو خون آشام اور سیاہ کردیا اور آج تک اپنی اسی ہٹ دھرمی پر قائم بلوچ حریت پسندوں کو شہید کررہی ہے جنگی جرائم پر مشتمل ان کی کاروائیوں کا مقصدصرف اور صرف یہ ہے کہ بلوچ اپنی مطالبہ آذادی سے دستبردار ہوجائیں انہوں نے کہاکہ آزاد ی بلوچ قوم کا پیدائشی قانونی اورقدرتی حق ہے جب کہ بلوچ آزادی کی جدوجہد دنیا کے ہر قاعدہ اور ضابطے پر پورا اترتی ہے جبکہ ریاستی قبضہ بلکل ناجائز اور غیر فطری ہے لیکن اقوام متحدہ اور دیگر ادارے اب تک ریاست کو ان کے دہشت گردانہ کاروائیوں سے روکنے اور آزاد بلوچ ریاست کے قیام کو بلوچ مسئلہ کا حل سمجھنے سے گریزان لیت و لعل سے کام لے رہی ہے

Previous post

شہداء کے بے لوث جدوجہد اور قربانیوں نے عالمی دنیا کو بلوچ آزادی کے معاملہ پر نہ صر ف سنجیدہ کردیا ہے بلکہ دنیا باور کرچکا ہے کہ بلوچ ایک زندہ اور خود مختار قوم ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

27 مارچ کو بلوچ قوم یوم سیاہ کے طور پر منارہی ہے نہ صرف بلوچ وحدت میں اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائی جارہی ہے بلکہ بیرونی ممالک تشریف فرما بلوچ کمیونٹی بھی اس دن کو یوم سیاہ کررہے ہیں بلوچ وطن موومنٹ