×

بلوچ قوم جبری الحاق اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرکے آزاد بلوچ ریاست کی بحالی چاہتے ہیں بلوچ قومی مسئلہ کسی قسم کی کنفیڈریشن انتظامی تبدیلیوں اور کم یا زیادہ صوبائی خود مختیاری کے گمراہ کن بوسیدہ نعروں سے بڑھ کر مکمل آزادی کی جدوجہدکانام ہے

بلوچ قوم جبری الحاق اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرکے آزاد بلوچ ریاست کی بحالی چاہتے ہیں بلوچ قومی مسئلہ کسی قسم کی کنفیڈریشن انتظامی تبدیلیوں اور کم یا زیادہ صوبائی خود مختیاری کے گمراہ کن بوسیدہ نعروں سے بڑھ کر مکمل آزادی کی جدوجہدکانام ہے

27.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئرمین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر سمالانی اور مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بانک حانی بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں تاجر برادری آزادی خواہ بلوچ عوام اور پرنٹ میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27مارچ جبری قبضہ کے خلاف بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے دیئے گئے شٹر ڈاؤن ہڑتال اور یوم سیاہ کی کال کو کامیاب بنانے میں ان کی اخلاقی قومی اور وطنی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور بلخصوص بلوچ قوم دوست رہنماء میر حیر بیار مری کا بھی بصد شکر گزار ہے جس نے بلوچ سالویشن فرنٹ کی کال کی حمایت کی جو کہ بلوچ سالویشن فرنٹ اور اس شامل جماعتوں کے لئے حوصلہ افزاء ہے جب کہ دوسری جانب 27 مارچ کو جبری الحاق کے خلاف ہڑتال کی کال ہمارے لئے ایک امتحانی صورتحال ثابت ہوئی جس میں دوست اور مخالف دونوں کے کردار واضح ہوگئے اور ہمیں دوست اور مخالف کاصحیح اندازہ ہواجو مستقبل کے پیش رفت اور پیش قدمیوں کے لئے ضروری اور ناگزیر تھی انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتا ل اور یوم سیاہ نے ثابت کردیا کہ بلوچ قوم قبضہ گیریت سے شدید نفرت کرتے ہوئے آزادی چاہتے ہیں اور بلوچ قوم پاکستانی شہری نہیں بلکہ ان کی اپنی الگ اور جداگانہ شناخت وحیثیت ہے بلوچستان کی وحدتی حیثیت ایک صوبہ کی نہیں بلکہ ایک ملک کی ہے جبکہ قابض ریاست بلوچستان پر نوآبادیاتی حربوں کے زریعہ قابض ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ وطن پر قبضہ کیا گیا ہے اور بلوچ قوم جبری الحاق اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرکے آزاد بلوچ ریاست کی بحالی چاہتے ہیں بلوچ قومی مسئلہ کسی قسم کی کنفیڈریشن انتظامی تبدیلیوں اور کم یا زیادہ صوبائی خود مختیاری کے گمراہ کن بوسیدہ نعروں سے بڑھ کر مکمل آزادی کی جدوجہدکانام ہے بلوچ مسئلہ کو ناراضی اورمحض شہری حقوق کی جدوجہد سے تشبیہ دینا اور انتخابی سیاست کو مسئلہ کاحل قرار دینا بلوچ قوم سے دھوکہ اور غداری ہے انہوں نے کہا کہ جب یہ ریاست بلوچ قوم کا نہیں تو پھر اس کے الیکشن میں حصہ لینے کا کیا جواز ہے اس کے الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب اس کی قبضہ کو قبول کرنے کی مترادف ہے جو زمینی حقائق سے کھلی روگردانی اور قومی غداری ہے خود غرض پارلیمانی پارٹی اور ان کی جعلی قیادت ایک دفعہ پھر اپنے پیش رؤں کی طرح ریاست کے لئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے کے لئے میدان سجارہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچ بہادر فرزند اپنی قربانیوں اور جدوجہد کے زریعہ غلامی کی کڑیوں کو کمزور کرنے کے لئے آزادی کے عظیم قربان گاہ پر اپنی جان سے گزر رہے ہیں جب کہ پارلیمانی جماعتیں ان قربانیوں کو پس پشت ڈال کر قبضہ گیر کے مفادات کو تحفظ دے کر ان کی طاقت بن کر بلوچ آزادی کے تحریک کے لئے رکاوٹین اور مشکلات پیدا کررہے ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم ان دھوکہ باز اور ریاستی حاشیہ بردارپارٹیوں بھر پور انداز میں مسترد کرتے ہوئے تحریک آزادی کے صفوں کو منظم اور مضبوط کریں اور ریاست کے ڈوبتی قبضہ کوسہارادینے والے ان جماعتوں کے گرد گھیرا تنک کرکے ان کا بھر پور محاسبہ کریں انہون نے کہا کہ بلوچ قوم کا سب سے بڑا مسئلہ غلامی ہے اس سے نجات آزادی کے جدوجہدمیں مضمر ہے دریں اثناء بلوچ سالویشن فرنٹ کی مرکزی کال پر زہری قلات منگچر نوشکی سوراب مستونگ بسیمہ خضدار پنجگور گوادر خاران دالبندیں اور کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور بھرپور انداز میں یوم سیاہ منایا گیا بلوچ سالویشن فرنٹ اواس میں شامل جماعتیں بلوچ وطن موومنٹ بلوچ لبریشن پارٹی اور بلوچ گہار موومنٹ کی جانب سے ایک دفعہ پھر تاجر حضرات اور بلوچ عوام کا شکریہ ادا کیا گیا ہے کہ جنہوں نے نے ہڑتال کی کامیابی کے لئے ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کی۔