×

بلوچ قوم کو اپنی شناخت آزادی اور بقاء کے احساس نے جدوجہد کے محاذ پر کھڑا کردیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ قوم کو اپنی شناخت آزادی اور بقاء کے احساس نے جدوجہد کے محاذ پر کھڑا کردیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاہے کہ بلوچ قوم کو اپنی شناخت آزادی اور بقاء کے احساس نے جدوجہد کے محاذ پر کھڑا کردیا ہے ریاست بلوچ جہد آزادی کے ٹائٹل کو مسخ کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہ مراعات اور پیکجز کے حصول کی جدوجہد نہیں بلکہ یہ ایک فیصلہ کن آزادی کی اصولی جدوجہد ہے جو ایک طویل تسلسل رکھتی ہے جس کا ایک تاریخی و سیاسی پس منظر بھی ہے ریاست کی پالیسی ساز بلوچ جہد کو کاؤنٹر کرنے کے لئے جو سٹریٹجی ترتیب دیکر بلوچ قوم کو مراعات کی پیش کش کرکے مزید غلام بنانے کی کوششیں کررہے ہیں وہ اپنی ارادوں میں ناکام ہوں گے طاقت کااستعمال کیا جائے یا مراعات کا استعمال بلوچ جہد آزادی کا رخ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ریاستی نمائندہ اپنی باج گزارانہ روایت کو بڑھائیں ان کی خام خیالی ہوگی کہ بلوچ قوم ابدی غلامی قبول کریں گے ترجمان نے کہاکہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کی قربانی اور جانثاری نے بلوچ قوم میں آزادی کی احساس اور جذبہ کو مضبوط کر چکی ہے ترجمان نے شہید میر لونگ خان مینگل شہید ڈاکٹر خالد شہید دلوش نزیر بنگلزئی اوردیگر بلوچ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہداء کا خون رائیگان نہیں جائیگا انہوں نے جس مقصد کے لئے قربانی دی وہی بلوچ قوم کی اصل منزل ہے طاقت سے کسی بھی تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکا قوموں کی تاریخ آزادی میں ایسے کئی دلیلیں موجود ہے کہ قوموں کی نسل کشی سے ان کی بقاء اور آزادی کی جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکا ترجمان نے کہا کہ 1973میں بھٹو آمریت کے ادوار میں بلوچستان قلات جہالاوان اور مری علاقوں میں بے پناہ ظلم ڈھائے گئے بلوچ سرزمین کو خون آلود اور پر آشوب بنادیا گیا غیر معمولی حالات پیدا کئے گئے لیکن بلوچ جہد آزادی کا کاروان نہیں رکھا

شہید میر لونگ خان مینگل جنہیں 7اگست 1973کو دشت گوران میں ریاستی فورسز نے شہید کیا گیا وہ ایک پیر مرد انسان تھے لیکن جب ان پر حملہ کیا گیا اور ان کے گھر اور گاؤں کو نشانہ بنایا گیا تو اس پیر مرد نے بلوچ اکابرین کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی ا نہوں نے غلامی قبول نہ کی جبکہ اس نے اپنی جان کا پرواہ نہ کرتے ہوئے غلامی کی ذلت کو مٹانے کے لئے بلوچ قوم کو ایک فکر و فلسفہ دیا تاریخ آج بھی ان کی کوششوں اورجانبازی کو دہراتی اور یاد کرتی ہے دشت گوران کے قبرستان میں وہ دیگر سے اس لئے منفرد اور ممتاز ہے کہ انہوں نے وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لئے سپاہ وطن کا کردار اداکرتے ہوئے مٹی کا قرض چکایا ترجمان نے کہا کہ جس قوم کی مائیں اپنی بیٹوں کو لوریوں میں آزادی کی گیت سنائیں انہیں جانبازی کے کارنامے سنائے ان کے باپ اور اور آباؤ اجداد کے شہادتوں کے واقعات کا زکردہرائیں انہیں اپنی دودھ کی قسم دیکر جہد آزادی کا حوصلہ اور دعا دیں ایسی قوموں کو ریڈ انڈین نہ سمجھا جائے کیونکہ بلوچ اپنی تاریخ کے تمام ادوار میں جدوجہد کی ہے بلوچ تاریخ کے تما م صفحات آزادی و انصاف کی جدوجہد سے خون آلود ہے ۔

Previous post

محی الدین کس حیثیت سے بلوچ قوم کی بحالی اعتماد کی بات کررہے ہیں پہلے وہ بلوچ قوم پر اپنا اعتماد بحال کریں کہ آج وہ کہاں اور کس مقام پر کھڑا ہے۔بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

شہید سفرخان سمیت تمام بلوچ معلوم و نامعلوم شہدائے وطن کی جدوجہد اور قربانی کے قرض کو آزادی کے جدوجہد میں شریک ہوکر چکایا جاسکتا ہے ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ