بلوچستان لبریشن چارٹر کی تقریب رونمائی کا خیر مقدم چارٹر آف لبریشن صرف ہمیں آزادی کی حصول کے لے ایک پروگرام پر متفق کرنے کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
6.3.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کردہ مرکزی ترجمان میں بلوچستان لبریشن چارٹر کی تقریب رونمائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے چارٹرآف لبریشن کو حصول آزادی کی جدوجہد میں سنگ میل اور اہم قومی وسفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ چارٹر آف لبریشن نہ صرف ہمیں آزادی کی حصول کے لے ایک پروگرام پر متفق کرنے کے لئے مددگار ثابت ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر آزاد بلوچ ریاست کے قیام کے لے عالمی برادری کے وسیع پیمانے پر حمایت میں اضافہ کا سبب ہوگا ترجمان نے بلوچ قوم دوست رہنماء میر حیر بیار مری پروفیسرڈاکٹر مصطفی اور چارٹر کمیٹی کی انتھک محنت مہارت بصیرت کاوشوں اور تجربات کو سراہتے ہوئے کہاکہ بلوچ قومی دستاویز کی حتمی منظوری کے لئے اسے بلوچ عوام کی نظر ثانی کے اور اس پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے سلسلے میں پبلک کرنے کا فیصلہ قابل تحسین اقدام ہے میر حیر بیارمری کا بلوچ قومی جدوجہد کے حالیہ ہر مرحلے میں اہم کردار رہاہے بلوچستان لبریشن چارٹر جیسے قومی دستاویزکی ترتیب و تشکیل سمیت اس کی ضرورت و اہمیت کا تقاضا ان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم کاوش اور آزادی کے حصول کے لئے بہترین منصوبہ بندی ہے یہ قومی مسودہ جو آج بلوچ عوام کے درمیان بحث و مباحثہ کے لئے رکھی گئی ہے ماسوائے دو نکات کے ایک بلوچستان کی آزادی اور دوسرا بعد از آزادی جمہوری نظام کے قیام کے علاوہ باقی تمام شقوں پر ترمیم و اضافہ و بحث ومباحثہ اور باہمی مشاورت کی گنجائش موجود ہے جو ایک آزاد روشن اور ترقی پسند بلوچ مستقبل کی عکاسی کرتی ہے جسے آزادی کے حتمی حصول کے لئے راہنماء دستاویز اور روڈ میپ کہا جا سکتا ہے جوبلوچ جدوجہد کے خدوخال کو متعین کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ وطن کی آزادی اور بعد از آزادی بلوچ ریاستی نظام کو نظریاتی و انقلابی بنیادیں فراہم کرتی ہے یہ بلوچستان کی آزادی کے حق میں عالمی سفارت کاری کے طور پر نہ صرف نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے بلکہ بلوچ سفارتی معاملات کو آگے بڑھانے اور آزادی کی صورت میں عالمی دنیا سے دوستانہ تعلقات کے تناظر میں بہترین پیش بندی ثابت ہوگی تر جمان نے کہاکہ اگر ایمانداری سے متذکرہ قومی دستاویزکا مطالعہ کیا جائے تو اعتراف کیا جاسکتا ہے کہ آزادی کا یہ منشورعوامی جمہوریہ بلوچستان اوربلوچ قوم کے تشخص کا محافظ و نگہبان اور اس کے تمام کلیدی اداروں کے لیے واضح خطوط کار متعین کرتا ہے۔ مہذب دنیا کے تمام قومی و بین الاقوامی منشور اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ وہ ریاست کے مقاصد اور نظامِ حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کا ضامن ہوتے ہیں بلوچستان لبریشن چارٹر بھی اسی صلاحیت اور معیار کا عامل ایک مستند مسودہ ہے جو بنیادی شہری سیاسی معاشی و معاشی حقوق کے تحفظ سمیت خالصتا انسانی نظام کا جوہراور بلوچ قوم کے شاندار مستقبل کا ضامن ہے ترجمان نے کہاہے بلوچ مسئلہ محض زمین کی ملکیت کا تنازعہ نہیں بلکہ بلوچ وطن کی کامل آزادی اور آزادی کے بعد استحصالی نظام سے پاک سماج کی تشکیل ہے اور یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اگر آزادی کو بلند ترین انسانی سوچ و نظام کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے محض اعتقاد کے طور پر دیکھا جائے تو وہ آزادی آزادی نہیں بلکہ غلامی کے دوسری شکل ہے جبکہ چارٹر آف لبریشن ایک ایسی آزادریاست کی تشکیل کا لائحہ عمل اور روڈمیپ فراہم کرتی ہے جو ریاستی بربریت کو کاٹ پھینکنے کے ساتھ ساتھ بلوچ معاشرہ کو بلند ترین انسانی و جمہوری نظام دینے کا معراج ہے ترجمان نے کہاکہ ہمیں چاہیے کہ باہمی اعتماد کے ساتھ چارٹر کی بلوچ تحریک میں اساسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو بلوچ آئیڈیا لوجی سے بہر ور کرنے کے لئے اپنی گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کو اولیت دیکر دنیا پراضح کردیں کہ بلوچ پاکستان کے بندوبست میں نہیں رہنا چاہتے اور بلوچ قوم عالمی قوانین کی رو سے آزادی کے حصول کے لئے بلکل حق بجانب ہے اگر عالمی دنیا بلوچ آزادی کی جدوجہدوسے چشم پوشی میں عافیت سمجھی تو خطے میں انسانی بحران اور خونریزی کا براہ راست زمہ دار ہوگاترجمان نے کہاکہ بلوچستان لبریشن چارٹر ر یک جدید جمہوری اور سیکولر قومی ریاست کے لئے جامع اور شفاف انداز میں دنیا کو آگاہ کررہے ہیں کہ بلوچ کس قسم کی ریاست کا خواہاں اس کے خدوخال کیا ہے اس کا نظام اور قانوں کیا ہوگا بلوچ نیشنلزم اور بلوچ ازم کیا ہے بلوچ ریاست کا شناخت ساخت وجود امن اور انسانیت سے کتنی قریب ہے قبضہ گیر جو بلوچ نیشنلزم اور بلوچ قومی آزادی کے خلاف جس طرح گمراء کن پر وپیگنڈہ کی ہے یا انٹر نیشنل کمیونٹی کو غلط فہمی کا شکار کرکے فریب دینے کی مجرمانہ کوشش کی ہے چارٹر آف لبریشن ان سب کوکاٹ پھینک کر تاریخ کی کسوٹی پرایک انسانی و جمہوری نظام دینے کا چیلنج ہے


