بی این پی کی ترجمان کی جانب سے بلوچ قوم دوست رہنماء میر حیر بیار مری کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے جا دشنام طرازی کی شدید الفاظ میں مذمت ۔بی این پی کی طرز سیاست پالیسی اور موقف قومی آزادی کی جدوجہد سے واضح اور نمایان طور پر متصادم رہاہے ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بی این پی کی ترجمان کی جانب سے بلوچ قوم دوست رہنماء میر حیر بیار مری کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے جا دشنام طرازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بی این پی کی طرز سیاست پالیسی اور موقف قومی آزادی کی جدوجہد سے واضح اور نمایان طور پر متصادم رہاہے ریاستی گماشتگی پارلیمنٹ اقتدار تک رسائی اور ریاستی سیاست میں حصہ دار بی این پی کا ضمیر اور قدر بن چکی ہے لیکن اپنی تمام تر ریاستی جھکاؤاور آشیر باد کے باوجود زمینی حقائق کو ٹھنڈے دل سے قبول کرنے کے بجائے بی این پی متکبرانہ انداز میں خود کو بلوچ قوم کی نمائندہ پارٹی سمجھنے کی غلطی کاشکار ہیں
ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں بی این پی کی ترجمان کی جانب سے بلوچ قومی رہنماء حیر بیار مری سے جن پروپیگنڈہ کو منسوب کرکے براہ راست ان کی زات کو ہدف بنا یا گیا یہ بی این پی کی اپنی پراگندہ زہن کی پیداوار ہے اس طرح کی غیر اخلاقی رویہ بی این پی کی نمایان خاصیت میں شامل ہے حقیقت سے ان پروپیگنڈون اور افواہ سازی کا کوئی تعلق نہیں ترجمان نے کہاکہ بی این پی کے پاس تین فیصد بھی بلوچ نہیں ان کی جانب سے عوام میں مقبولیت اور پذیرائی کا مضحکہ خیز دعوی بے بنیاد ہے حالیہ انتخابات کو سنہری موقع سمجھ کر جس طرح بی این پی انتخابی عمل کا حصہ بن کرپارلیمانی کرسیوں کی رسائی کے لئے جس طرح تگ دو کی عوام کی جانب سے ریاستی انتخابی عمل سے مکمل بائیکاٹ نے ان کی تمام تر منصوبوں کو خاک میں ملادیا آج دھاندلی کا جو ڈرامہ رچایا جارہاہے وہ عوام میں اپنے گرتے ہوئے ساکھ کو چھپانے کی ایک نامراد کوشش ہے بلوچ قومی سیاست سے معمولی آگائی رکھنے والے کوئی بھی شخص بی این پی کی فطرت اور آزادی مخالف سوچ کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے کوئی بھی پارٹی محض بلوچستان کا خول چڑھاکر بلوچ دوست نہیں بن سکتا یہ حربہ اور فریب پرانے ہوگئے ہیں اب عوام باشعورہوگیا ہے رہزن اور رہبر کی فرق کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے ترجمان نے کہاکہ بی این پی شروع ہی دن سے ریاستی فریم ورک کا حصہ رہا ہے اس بات میں کوئی ابہام نہیں کہ ریاست کی جانب سے بی این پی سمیت دیگر پارلیمانی پارٹیوں کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا تاکہ عوام میں قومی آزادی کی بے چینی تڑپ اور سوچ کو کاؤنٹرکیا جاسکے اور عوام کو آزادی کی منزل سے دور کر کے پارلیمنٹ ہاؤس اور ووٹ و الیکشن کی طرف راغب کرکے قومی غلامی کو مزید توانا اور طاقتور بنادیا جائے تر جمان نے کہاکہ بی این پی سمیت بعض دیگر لوگ آزاد بلوچستان کی قیام میں اسلئے رکاوٹ ہے کہ سنڈیمن کی جانب سے دیئے گئے ان کی چھوٹی چھوٹی سرداری اور نوابیت جیسے مطلق العنا ن بادشاہیت کو خطرہ ہے اس لئے قوم پرستی کے نام پر ڈھیٹ قبائلی جماعتوں کی جانب سے سردار ی اور نوابیت کے دفاع میں’’مال مفت ‘‘سے ایک دوسرے کے وفاداریا ں خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے فرسودہ سرداری نظام کی خلاف میر حیر بیار کی دوٹوک مخالفت پر سیخ پاء ہونے والے جماعتیں اور افراد بلوچستان لبریشن چارٹر کے پبلک ہونے کے بعد شدت سے حیر بیار مری اور ان کے ہمراہ داروں اور ہمدردوں کی مخالفت کررہے ہیں جہان قابض ریاست حیر بیار مری کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں وہان بی این پی سمیت بعض دیگر افراد بھی ریاستی ایجنڈے کو تقویت دیکر حیر بیار مری اور ان کے مشن کے خلاف شر انگیز اور زہر آلود مہم چلارہے ہیں بی این پی کے حالیہ روایتی بیان ان نیم خفیہ اجلاسوں کا طے شدہ ایجنڈاہے جس میں حیر بیار مری کے خلاف ایک منصوبہ بندی کے تحت سازشیں شروع کی گئی ہے بی این پی کی جانب سے ماضی میں میر حیر بیار کے خلاف نہ صر ف اندرونی بلکہ بیرونی سطح پر بی این پی کے زیر نگرانی ایسی سازشیں اور رکاوٹوں کا احیاء کیا گیا لیکن وہ ایک نظریاتی ر اہنماء کی حیثیت سے ان کا پرواہ کئے بغیر اپنی بے پناہ جدوجہد اور عمل سے ان کی مزموم ہتھکنڈوں کو ناکام بنادیا ان کی بین الاقوامی سطح پر قومی آزادی کے لے جدوجہد اورسفارت کاری کی تمام کوششیں انتہائی مشکلات اور مسلسل عمل سے عبارت ہے انہوں نے کسی کی خاطر داری ریاستی دباؤ یا بین الاقوامی سطح پر ریاست اور اپنوں کی جانب سے رکاوٹوں کے باوجود کسی قسم کے مصالحت کے بغیر بہادری صبر اور جرائت کے ساتھ آزاد و جمہوری بلوچستان کے قیام کا علم اونچا رکھاہے ترجمان نے مزید کہاکہ بی این پی کی قوم دوستی کی سیاست ہمیشہ سے پارلیمنٹ اور وزارت اعلی کے حصول کے لئے دم توڑتی رہی ہے اس کے علاوہ بلوچ قوم کے لئے کھبی بھی کوئی قابل فخر کارنامہ سر انجام نہیں دیا ماضی سے لے کر آج تک ان جیسے جماعتوں کا کردار غلامی کو مضبوط کرنے کے لئے نرسری کے طور پررہاہے کھبی صوبائی خود مختیاری جیسے تیسرے درجہ کے مطالبات اور کھبی حق خوداردیت کے ابہامی موقف کے زریعہ عوام کے زہنوں کو ماؤف کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ سنڈیمن کی جانب سے عطاء کی جانی والی فرسودہ تاج پوشی کو ریاستی پشت پنائی میں تحفظ حاصل ہو ترجمان نے کہاکہ فرسودہ سرداری نظام جس میں سردار ایک حاکم کی حیثیت سے عوام پر حکمرانی اور رعب و دبدبہ کے علاوہ عوام کے لئے کسی بھی سطح پر منفرد مفید اور قابل اعتبار نہیں اور آج اسی سرداری نظام جس کا تواتر اور اور تسلسل کے ساتھ دفاع کیا جارہاہے اسکا ایک روپ وڈھ خضدار اور دیگر علاقوں میں بخوبی دیکھا جاسکتاہے جو عوام کا جینا حرام کرکے عوام سے زندگی اور جینے کا قدرتی حق بھی چھین لیا ہے


