تجرباتی ایٹمی دھماکوں کے خلاف 28مئی کی تاریخی ہڑتال کو کامیاب بنائی جائے چاغی میں انسانیت کش آلات کی نمائش اور ایٹمی وحشت کے بعد پیدا ہونے والے بحران کوچھپایا نہیں جاسکتا.بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان میں کہاہے کہ بلوچ سرزمیں پر تجرباتی ایٹمی دھماکوں کے خلاف بلوچ عوام 28مئی کی تاریخی ہڑتال کو کامیاب بناکر عالمی دنیا کو واضح پیغام دیں کہ بلوچ آزادی دوست امن پسند اور ایک سیکولر قوم ہے پاکستانی ریاست کا اپنی جوہری سر گرمیوں کے لئے بلوچ سرزمین کا چناؤنہ صرف بلوچ مرضی منشاء کے خلاف ہے بلکہ عالمی و علاقائی ضابطے اور انسانی حقوق کے سنگیں خلاف ورزیوں پر مشتمل ہے جو بدترین جنگی جرائم کے ضمرے میں آتا ہے ترجمان نے کہاکہ ریاستی جوہری سر گرمیوں کے خلاف پاکستان ایران و افغانستان میں تقسیم بلوچ وحدت کے کونے کونے میں بلوچ عوام اس دن کی مناسبت سے یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں ایٹمی دھماکوں کی مذمت کے سلسلہ میں مختلف ممالک میں بلوچ کمیونٹی اور سرگرم بلوچ جہد کار مظاہرہ کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ عالمی رائے میںآزادی کے اصولی مطالبہ کے ساتھ تبائی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف ایک جاندار موقف کے ساتھ دنیا کومتوجہ کررہے ہیں
ترجمان نے کہاکہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پر ایٹمی دھماکوں کی مذمت کی مناسبت سے بلوچستان بھر میں ہونے والے آج کے شٹر ڈاؤن ہڑتال میں بلوچ اور پشتون عوام تاجر برادری اپنی دکانیں اور کاروبازی مراکز مکمل طور پر بند رکھیں تاکہ ریاستی کی ایٹمی وحشت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جاسکے ترجمان نے کہاکہ پورے دنیا جانتی ہے کہ جہاں بھی اور جس خطہ میں جوہری تجربات کئے جاتے ہیں وہان ان کے تابکاری اثرات سے ہلاکت آفرینی کی کیفیت پائی جاتی ہے چاغی اور اس کے ملحقہ علاقوں کے فضا ء میں جو آتش گیر مواد ٹھونس دی گئی تھی اس کے مضر اثرات آج بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہے ان علاقوں کے ہولناک مناظر پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا آج اس کے گلوبل دنیا میں پاکستانی ریاست بین الاقوامی رائے عامہ کے آنکھوں پر پٹی باندھ کر چاغی اور راسکوہ میں انسانیت کش آلات کی نمائش اور ایٹمی وحشت کے بعد پیدا ہونے والے انسانی بحران کو نہ تو چھپا یا سکتا ہے اور نہ ہی بلوچ قوم کی نو آبادیاتی حیثیت پر اپنے لغو اور بے بنیاد پروپیگنڈوں سے پردہ ڈال سکتا ہے آج بلوچ اپنی آواز اور عمل اور جدوجہد سے یہ ثابت کرچکاہے کہ بلوچ اور ریاست کے مابین ایک واضح قومی تضاد موجود ہے بلوچ جدوجہدکسی کی پراکسی اور مرسری نہیں بلکہ اپنی وطن کو دنیا میں ایک آزاد مقام دلانے کے لئے جدوجہد کے تمام سنگینوں کوطے کرتے ہوئے بلوچ قوم کو خوداپنی آزادی کی تسلسل سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں بلوچ جہد آزادی ریاست کے تمام بے بنیاد اورجھوٹے پروپیگنڈوں کا طاقتور جواب اور وہ زمینی حقیقت ہے جو آج عالمی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کسی حدتک کامیاب ہوچک


