تحریک آزادی کی روح رواں شہید غفار لانگو جہد آزادی کے اہم کردار پیران سال شہید ملک نوراحمد قمبرانی اوراور آزادی کے سپوت شہید عمر مینگل کو مادر وطن کی آذادی کی جدوجہد میں خدمات قربانی اور عملی کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں
1.7.2013
: بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کا مشترکہ الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں تحریک آزادی کی روح رواں شہید غفار لانگو جہد آزادی کے اہم کردار پیران سال شہید ملک نوراحمد قمبرانی اوراور آزادی کے سپوت شہید عمر مینگل کو مادر وطن کی آذادی کی جدوجہد میں خدمات قربانی اور عملی کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ شہداء اپنے عمل و کردار سے قوموں کو عزت بخشتی ہے اور ان کی تاریخ کو قابل فخر بناتی ہے بلوچ شہداء نے بھی اپنی فولادی عزم کے ساتھ قبضہ گیر کو نفسیاتی اور اعصابی شکست سے دوچار کر بلوچ سماج میں مذاحمت کے کلچر کو فروغ دیا ہے ترجمان نے کہاہے کہ مادر وطن کو قبضہ گیر کی غلامی سے نکالنے کے لئے ہزاروں بلوچ نوجواں اور بزرگوں نے آزادی کے جاری جدوجہدکا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے اپنی جان سے گزر کر غلامی کی زلت آمیز زندگی پر شہادت کو ترجیح دی ان کافکر و و جدوجہد ہمارے لئے مشعل راہ ہے بلوچ شہداء کی فکری و عملی و رہنمائی میں بلوچ قوم آزادی کے لئے صف بندی کرچکی ہے جب کہ آزادی کی صفوں کو توڑنے کے لئے قبضہ گیر لاحاصل ہتکھنڈوں کے زریعہ بڑے پیمانے پر بلوچ نسل کشی کے سلسلہ کو تیز کردیا ہے مارو اور پھینکو کے پالیسیوں کے ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو شہید کرکے ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئی ہے غفار لانگو انہی بلوچ جہد کاروں میں سے ایک ہے جسے نادیدہ قوتیں پہلی دفعہ اغواء ء کر کے اپنی تمام مکرو ہ ہتکھنڈوں کے استعمال بعد بھی اسے آزادی کی جدوجہد سے دستبردارنہ کرسکے دوسری بار ان کی اغواء کی بعد ان کی لاش پھینکی گئی جو ریاست کی فرسٹیشن اور زہنی دباؤ کی واضح عکاس ہے بلکل اسی طرح پیران سال ملک نوراحمد قمبرانی کو خنجروں کی وار کرکے شہید کردیا جو قبضہ گیر کی آزادی کی جدوجہد سے خوف اور بوکھلائٹ کی واضح علامت ہے ترجمان نے کہا ہے کہ قبضہ گیر کے تمام ادارے اور پورے ریاستی مشینری تحریک آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے مشترکہ اور یکسان پالیسی رکھتے ہیں پارلیمنٹ سمیت عدلیہ بھی ریاستی جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے بلوچ قوم سے ہمدردی کا شوشہ رچارکر ریاستی قبضہ کو آکسیجن دینے کے لئے سرگرم ہے بلوچ قوم قبضہ گیر کے تمام چالوں کا ادراک کرکے قبضہ گیراور ان کے خیمہ بردارون کے جھوٹے ہمدردی اور بہکاوے میں نہ آئیں کسی بھی لاپتہ افراد یا شہید کسی خاندان کی فرد ی وابسطگی اپنی جگہ لیکن ان کی نظریاتی وابسطگی ایک تحریک کے ساتھ رہا ہے ان کی جدوجہد کردار عمل اور وژن اور خون کا وارث ان کی تنظیم اور کارواں کے ساتھی ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کے عالمی پزیرائی کے بعد سپریم کورٹ اور لاپتہ افراد کمیشن جوایک دو طرف بلوچ نوجوانوں کے اغواؤں کے خلاف بلوچ قومی ابھار غصہ اور ریاست کے خلاف بلوچ سماج میں پھیلی جانے والی نفرت اور انتقام کے جزبوں کو سرد کرنے کے لئے بلوچ قوم سے ہمدردی کا جھوٹا شوشہ رچارہے ہیں اور دوسری طرف طفل تسلیوں کے زریعہ عالمی دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک رہاہے قبضہ گیر کی جھوٹی ہمدردی ہو یا کھلی دشمنی ان کا معنی ایک ہے یہ ایک سکہ کے دورخ ہیں بلوچ قوم ان کے نام نہاد ہمدردیوں کے جھانسے میں نہ آئیں بلکہ اپنی تمام تر امیدیں اپنی تحریک آزادی پر رکھیں شہادتیں قربانیاں یہ تحریک کا حصہ ہوتے ہیں قابض اتنی مہذب نہیں ہوتی کہ خون آلود تاریخ اور جنگ سے گریز ہوکر آزادی کی تمنا رکھی جائے اس کی مثال صرف ہم نہیں دنیا کے دیگر اقوام بھی اپنی آزادیوں کے حصول ان مشکلات اور تکلیفوں کو عبور کرکے نجات حاصل کرلی ہے


