×

جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما اوربین الاقوامی لیجنڈنیلسن منڈیلا کی وفات پر افریقی قوم سمیت افریقن نیشنل کانگریس کے قیادت اور اراکین سے دلی دکھ اور افسوس کا اظہار نیلسن منڈیلا کا کردار تمام مقبوضہ اور غلام اقوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما اوربین الاقوامی لیجنڈنیلسن منڈیلا کی وفات پر افریقی قوم سمیت افریقن نیشنل کانگریس کے قیادت اور اراکین سے دلی دکھ اور افسوس کا اظہار نیلسن منڈیلا کا کردار تمام مقبوضہ اور غلام اقوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

6.12.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئر مین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل اوربلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ میر قادر بلوچ بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی چیئر میں حانی بلوچ وائس چیئر پرسن زمور آزادبلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ تعزیتی پیغام میں جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما تاریخ ساز شخصیت اوربین الاقوامی لیجنڈنیلسن منڈیلا کی وفات پر افریقی قوم سمیت افریقن نیشنل کانگریس کے قیادت اور اراکین سے دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیلسن منڈیلا کو ان کی تاریخی اور مثالی جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ نیلسن منڈیلا کا کردار تمام مقبوضہ اور غلام اقوام کے لئے مشعل راہ ہے وہ پوری انسانیت کے لئے روشنی اور مشعل کی حیثیت رکھتی تھی غلامی اور نسل پرستی کے خلاف ان کے مثالی جدوجہد حوصلہ عزم جرائت بہادری اور کردار دنیا کے تمام آزادی خواہ اقوام کے لئے آئیڈل حیثیت رکھتی ہے آج پوری دنیا ایک عظیم انقلابی رہنما سے محروم ہوچکی ہے ان کی جسمانی علیحدگی پر پوری دنیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے افریقن اپنے’’ مادیبا ‘‘کی علیحدگی پر سوگ منارہے ہیں ہم ان کی غم اور دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے بہادر رہنماء کو سلام کرتے ہوئے بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہیں بیان میں کہا گیا ہے نیلسن منڈیلا کی تاریخی جدوجہد اور انقلابی اصول اور آدرش دنیا کے مقبوضہ اور مظلوم اقوام کے لئے میراث کے طورپر ہمیشہ موجود رہیں گے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیلسن منڈیلا پوری زندگی افریقی قوم کی آزادی اور نسل پرستی کے خلاف انتہائی جانفشانی تیاگ اور ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد کی وہ ایک بے لوث افریقی جہد کار تھے جو اپنے قربانیوں اور عمل سے افریقن قوم کے لئے آزادی کا پیغمبر بن گئے اور نہ صرف ان کی سالہا سال کی کوششوں اور جدوجہد سے جنوبی افریقہ آزاد ہوا بلکہ صدیوں سے چلنے والے نسل پرستی پر مشتمل سفید اور سیاہ فام جیسے بے بنیاد سوچ کا خاتمہ ہوا نیلسن منڈیلا افریقن نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے منسلک ہوکرجنوبی افریقہ کی آزادی کے متعلق ایک فریڈم چارٹر پیش کیا جس میں انہوں نے جنوبی افریقی کی آزادی اور نسل پرستی کے خلاف دوٹوک انداز میں دنیا کو پیغام دیا کہ جنوبی افریقہ سفید فام اور سیاہ فام دونوں کا مشترکہ وطن ہے کوئی بھی جنوبی افریقہ کے باشندوں کے مرضی و منشاء کے خلاف جنوبی افریقہ پر حکومت نہیں کرسکتی نیلسن منڈیلاجنوبی افریقہ کی آزادی کے لئے نہ صرف سیاسی جدوجہد کی بلکہ انہوں نے عسکری محاز پر بھی ایم کے تشکیل دیکر ایم پلان جیسے منصوبوں کے ساتھ خفیہ سرگرمیاں بھی شروع کی بائیکاٹ ہڑتال سول نافرمانی عدم تعاون اور سبوتاژ جیسے انقلابی جدوجہد کے زریعہ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر جنوبی افریقی کی آزادی کی لڑائی کو اپنے شہداء کی خون مجموعی قومی صلاحیتوں اور بیداری شعور سے طاقت فراہم کی اور اپنے قوم کی خوابیدہ صلاحیتوں کو زندہ کرکے اپنے قوم کو منظم اور یکجاء کرکے تکلیف اور قربانیوں سے بھر پور جدوجہد کی 1964میں انہیں عمر قید کی سزاء سنائی گئی 27سال تک جیل میں ڈال دیا گیا لیکن ان کے ارادوں میں سستی اور جدوجہد میں کمزوری کا پہلو بلکل سامنے نہیںآیا بلکہ جیل میں انہوں نے غیر سیاسی مقدمات میں ہزاروں افریقیوں کو خفیہ طور پر تعلیم تربیت دے کر قومی آزادی کے نظریات سے مسلح کیا وہ اپنے طویل قیدوبندکو غلامی کے صدیوں سال کے مقابلہ میں بہت کم دورانیہ سے تعبیر کرکے اپنے قوم کا حوصلہ بڑھاتے رہے دوران جدوجہد امریکہ برطانیہ اور مغربی طاقتیں نیلسن اوراور ان کے انقلابی پارٹی کو دہشت گرد قرار دیتے تھے اور ان کے لئے مغربی طاقتیں جس لہجہ کا استعمال کرتے تھے ان سب کا پرواہ کئے بغیر نیلسن ان تمام فرسودہ اور بے بنیاد الزامات کو اپنے عمل اور جہد سے غلط ثابت کیا اور پورے دنیا کے لئے امن اور روشنی کی علامت بن گئی قیادت اور لیڈرشپ کا ہنر کوئی ان سے سیکھے نیلسن کی پوری زندگی ہم سب کے لیے ایک علامت ہے ان کے رہائی کے ایک سال بعد1991میں امریکہ نے انہیں دہشت گرد قرار دینے کے الفاظ واپس لے کر اپنے سرکاری فہرست میں ان کے لئے استعمال ہونے والے دہشت گرد کا لفظ خارج کردیا جو یقیناًان کی انقلابی آدرشوں کی فتح تھی حتی کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل بھی انہیں دہشت گرد قرار دیتے تھے لیکن ایک وقت آگیاکہ انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے نوبل امن انعام دیا گیا اور آج برطانیہ سمیت یورپی دنیا انہیں قدر عزت کی نگاہ سے
دیکھتا ہے ان کی یہ جیت قومی آزادی کی جدوجہد کی جیت ہے

Previous post

انسانی حقوق کے دعوی کرنے والی عالمی چیمپیئن انسانی حقوق کے دفاع میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے تشکیل کے دوسال بعد 10دسمبر کو اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

ڈگری گرلز کالج کینٹ کوئٹہ میں پشتوں اور ہزارہ کمیونٹی کی طالبات کی جانب سے بلوچ گہار موومنٹ کے ممبر ناز بلوچ اور ان کے دیگر ساتھی طالبات پرحملہ اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت بلوچ گہار موومنٹ