حامد میر پر حملہ اظہار رائے کی آزادی اور حق کی آواز پر حملہ ہے آزادی صحافت کا ڈھنڈورا پیٹنے والاریاست کا چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے کہ پاکستانی ریاست پریس کی آزادی کی کتنی قدر کرتی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
22.4.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر حملہ کی مزمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاکہ حامد میر پر حملہ اظہار رائے کی آزادی اور حق کی آواز پر حملہ ہے آزادی صحافت کا ڈھنڈورا پیٹنے والاریاست کا چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے کہ پاکستانی ریاست پریس کی آزادی کی کتنی قدر کرتی ہے ترجمان نے کہاکہ حامد میر بحیثیت ایک صحافی اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں اور اپنے منصبی فرائض کے ساتھ نہ صرف لاپتہ افراد کے معاملہ پر احتجاجی لانگ مارچ کی خیر سگالی کی بلکہ اپنے کالمز اور ٹی وی پروگرامزسمیت دیگر فورمز میں کسی حد تک غیر جانبدار رہ کر لاپتہ افراد اور بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی سے پردہ اٹھایا تھاجس کو جواز بناکر ریاست اور مقتدرہ اداروں نے انہیں نشانہ بنایا ترجمان نے کہاکہ پاکستان میں زرائع ابلاغ مکمل کنٹرولڈ ہے چاہے وہ پرنٹڈ جرنلزم ہو یا الیکٹرانک میڈیا وہ ریاستی ایجنڈاکے دائرہ حصار اور دباؤ میں کام کرتے ہیں ترجمان نے کہاکہ ریاست جیسے غیر جمہوری اور غیر مہذب ملک میں پریس کا کوئی آزادانہ کردار نہیں کہ کوئی بے خوفی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کریں جو کوئی بھی ریاستی پالیسیوں سے ہٹ کر اپنے موقف کا اظہار کرتا ہے اسے خاموش کرنے کے لئے بندوق دکھائی جاتی ہے بلوچستان میں بلوچ قومی اخباروں سے وابسطہ کئی صحافیوں کو اس لئے شہید کردیا گیا کہ وہ بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم پر مبنی ریاستی کاروائیوں کی بے باکی سے رپوٹنگ کرتے تھے ترجمان نے کہاکہ قابض ریاست میں آزاد صحافت کا کوئی تصور نہیں پریس سے وابسطہ بعض ادارے ریاستی پاکٹس کا کردار ادا کررہے ہیں بلوچستان میں ہونے والے ریاستی دہشت گردی پر ان اداروں کی مجرمانہ خاموشی اس بات کی کھلی ثبوت ہے کہ وہ کسی قسم کی صحافتی اصول اور ضابطہ اخلاق کو خاطر میں لانے کے بجائے ریاستی چلن اپناکر ریاستی مفادات کے لئے کام کررہے ہیں جہان ایک معمولی خبر کی بریکنگ نیوز چلانے میں جس طرح کی تیزی دکھائی جاتی ہے لیکن بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی پائمالیوں اور ماس کلنگ پر اپنی زبان سی لیتے ہیں تر جمان نے کہاکہ حامد میر پر حملہ اور جنگ اور جیو نیوز کو ہراسان کرنے کے بعد ریاست کا اصل چہرہ براہ راست دنیا کے سامنے آگیا ہے کہ پاکستان میںآزادی صحافت کی تمام دعوین گمراہ کن ہے عالمی صحافتی ادارے فریڈم آف پریس نے 2011 میں اپنے ایک رپورٹ میں ریاست کی مضحکہ خیز دعووں سے پردہ اٹھایا تھاکہ پاکستان میں زرائع ابلاغ کا کوئی آزادانہ کردار نہیں بلکہ وہ مکمل کنٹرولڈ ہے


