حقیقی اختلافی نقطہ نظرکے ردعمل میں الزام تراشی اور پروپیگنڈہ میر قادر بلوچ سربراہ بلوچ وطن موومنٹ
آج کل سوشل میڈیا میں چند لوگ حقیقت سے پہلو تہی کرکے بلوچ قومی تحریک کے اندر حقیقی تضادات اور اختلافی نقطہ نظر کے ردعمل میں بلوچ قوم دوست جہدکاروں پر من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع کیا گیاہے گزشتہ دنوں ایک فیک آئی ڈی میں بلوچ قوم دوست رہنماء حیر بیار مری پر تحریک کے پیسوں کا الزام لگاکر جس طرح زہر افشانی کی گئی تھی اور ایک دفعہ پھر زمینی حقائق کے برعکس اٹھائے گئے سوالات کا جواب منفی انداز میں الزام تراشی کی شکل میں دیا گیا جو کہ اس کل بحث کے بلکل بر خلاف ہے کیا قومی تحریک کے اندر تضادات کا یہی جواب تھا یا ہے
جہان تک سنگت حیر بیار مری کی بات ہے اس کے بارے میں معتبر رائے یہی ہے کہ اس نے تحریک کے ایک پائی بھی اپنے زات کے لئے استعمال نہیں کیا یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ وہ اپنے عمل سے ثابت کرچکاہے اور ہماری ان سے زاتی لگاؤ نہیں بلکہ نظریاتی اور فکری رفاقت اور سنگتی ہے جہاں تک ہم جانتے ہیں بلکہ برطانیہ میں حیر بیار مری کے گرفتاری کے بعد جن زمہ داریوں کو مہران مری کے سپرد کردیا گیا اس نے ان زمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھانے کے بجائے لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک کے پیسوں کو اپنی زاتی معاملات میں خرچ کرتے ہوئے پانی کی طرح بہایا اورجب ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے چیخ و پکار شروع کردی اور ان پیسوں کے حساب دینے سے بھی انکار کردیا کہ یہ کہاں خرچ کئے گئے اور کیوں تحریک کے پیسوں کو اپنے زاتی عیش کا سامان بنایا گیااس سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا گیا تو اس نے اس پوچھ گچھ سے پہلو تہی کرکے احتساب سے بچنے کے لئے نواب مری کی سہارا لینے کی کوشش کی جس پر نواب صاحب نے مہران کو بچانے کے لئے اس کے اس عمل پر پردہ ڈال کر ان کی حوصلہ افزائی کی اس حوصلہ افزائی اور دست شفقت سے مہران کو حوصلہ ملا حالانکہ اگر حیر بیار چاہتا تواپنے سگے بھائی کو بلوچ قومی عدالت کے کٹہرے میں نہیں لاتا لیکن وہ ایک سگے اور خونی رشتہ پر فکر تنظیم اور ادارون کی اہمیت اور اعلی اصولوں کو اہمیت دی اور مہران کے اس عمل کو نہ صرف نا پسندیدہ سمجھا بلکہ کھل کر ان کو احتساب کے کٹہرے میں لایا لیکن حیر بیار مری کے ان اعلی اصولوں کو نہ صرف ناپسندیدہ سمجھایا گیا بلکہ اس کے خلاف باقائدہ ایک محاذ کھولا گیا اور ان سے طرح طرح کے الزامات منسوب کئے گئے اور نواب مری بھی اپنے حلقوں میں مہران مری کو تحفظ دینے کی کوشش کی جو کہ ان کی فکر اور زمہ داریوں سے بلکل میل نہیں کھاتے کہ وہ اپنے لاڈلے بیٹے کو پوری تحریک پر ترجیح دے اور ان کے اس عمل پر ٹوکنے کے بجائے اسے تحفظ دے جو نواب مری کے تحریک کے حوالہ سے متعین اصولوں کے خلاف ہے جس درس اور فلسفہ کا پر چار کرتے ہوئے نواب مری بلوچ قومی تحریک میں قوم کے ایک محبوب رہنماء کے طورپر ابھر آیا تھاجس احتساب کا خاکہ اٖفغانستان سے واپس آتے ہوئے اس نے قوم کے سامنے رکھ دیا قوم جب اس احتساب کو عمل میں لانے کی کوشش کی بدقسمتی سے ان کے ایک بیٹے کے خلاف جب بات سامنے آگئی تو وہ ایک قومی رہنما سے ایک مہربان باپ بن گیا ہونا تو چاہیے تھا کہ اسے حیر بیار مری کی حمایت کرنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے اس کا برعکس کیا جس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ نواب صاحب بھی مصلحت پسند ی کا راستہ اختیار کریگی اگر ان کے خیال میں اس احتسابی عمل سے کوئی دراڑ پیدا ہوگا یا پھر تحریک میں کوئی خلیج پیدا ہوگی اختلافات ابھریں گے اس لئے اس نے مہران کو بچانے کی کوشش میں اس کی حمایت کی اورآج
مہران سویزر لینڈ میں بیٹھے اپنے چند دوستوں کے ہمراہ نہ صرف حیر بیار مری بلکہ تحریک کے حقیقی دوستوں کے خلاف محاز آرائی کا سلسلہ شروع کیا ہے سوشل میڈیا میں بھی انہی حلقوں سے منسلک کچھ لوگ حیر بیار مری کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں حالانکہ کوں نہیں چاہتا کہ بلوچ تحریک کے نام پر کون کون لوگ اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں سویزر لینڈ میں بیٹھے لوگ تحریک کے نام پر کس کس سے پیسہ لے رہے ہیں اور ان کے آمدنی کے زرائع کیا ہیں بلوچ قوم اس سے بے خبر نہیں جاوید مینگل براہمدغ اور مہران ایک جگہ جمع ہوکر حقیقی قومی جدوجہد کے برعکس قبائلیت اور گروہیت کو مضبوط کررہے ہیں اور قومی فیصلوں و مشترکہ قومی ایجنڈا کے برعکس آزاد خیالی کے رجحانات کو فروغ دے کر تنظیم اور ڈسپلن سے ہٹ کر اپنے طرز پر کام کررہے ہیں اور دانستگی میں اپنے عمل سے تحریک میں کنفیوژن کا باعث بن رہے ہیں اور آج حقیقی یکجہتی کے لئے جس بحث کا احیا ہوا ہے ہم سب کو حوصلہ کے ساتھ اس کی خیر مقدم کرنی چاہیے کیونکہ بلوچ تحریک اپنے چار مرحلوں کے بعد آج اس مقام کو سر کرلیا ہے کہ کوئی بھی شخص چائے اس کی کوئی بھی حیثیت ہو وہ تحریک سے بالاتر نہیں جس طرح ایک عام کارکن کے لئے وہی اصول و ضوابط طے ہیں وہی ایک سردار اور نواب اور پارٹی قیادت کے لئے بھی غلطیوں کی نشاندہی بابت جو سوال اٹھا یا جارہا ہے اسے ہم سب کو حوصلہ کے ساتھ سہنا چاہیے بلکہ آج جو سوالات جنم لے رہے ہیں انہیں حقیقت کے پیرائے میں دیکھنا چاہیے ان کے جواب میں بلا سوچھے سمجھے بے بنیاد الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے جو لوگ حیر بیارپر تحریک کے پیسوں کا الزام لگا رہے ہیں وہ کیوں مہران اور براہمدغ پر انگلی نہیں اٹھارہے ہیں سوشل میڈیا میں لوگ گلا پھاڑ پھاڑ ان لوگوں کی غیر سیاسی رویوں پرسوال اٹھارہے ہیں مہران مری پر تحریک کے پیسوں کا گھپلہ کیوں زیر بحث نہیں لایا جارہا براہمدغ کی سویزر لینڈ میں تحریک کے نام پر ملنے والے رقم کے بارے میں کیوں بات نہیں کی جارہی اور حیر بیار کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا یا جارہاہے جو کہ حقیقت پر مبنی بھی نہیں اور پھر فیک آئی ڈی میں بھیٹھ کر الزامات لگایا جارہاہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سارے پروپیگنڈہ ہے اور ان لوگوں میں اخلاقی جرائت کا فقدان بھی ہے جو اپنی اصل پہچان کے بجائے گمنام پہچان کے ساتھ الزام تراشی کررہے ہیں اگر حیر بیار مری پر تحریک کا ایک پیسہ کا ثبوت بھی کسی کے پاس ہے تو وہ اصل پہچان کے ساتھ کیوں نہیں آتا اس سے ظاہر ہے کہ یہ سارے پروپیگنڈہ ہے ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم کسی کی اندھی تقلید کے حق میں نہیں ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو لیکن اصل چیز عمل ہے ہم حیر بیار مری کی سچائی دیانت داری اور ایمانداری اور ان کے بے لوث جدوجہد کے سنگت ہے اس کے علاوہ ہمارے اور ان کے درمیان کسی نوابی و سرداری کے رشتہ نہیں ہے اور آج ہم اس کو اس کی عمل کی بنیاد پر ترجیح دے رہے ہیں اس کی طویل جدوجہد میں ثابت قدمی اور سخت اصولوں پر کاربند ایک قومی سنگت کے طور پر ان کی قدر کرتے ہیں ان کی احترام قطعا کسی پیسہ کی لالچ پر نہیں اور نہ ہی وہ ہمیں پیسہ دے کراپنی حمایت کے لئے آمادہ کررہاہے پیسوں کی بنیاد پر نظریاتی رفاقت نہیں چلتی بلکہ نظریاتی رشتہ خون کی رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے اور آج عقل کے اندھے جو لوگ ہم سب پر پیسوں کا الزام لگاکر جس پیمانہ کے جھوٹ کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیں پیسہ دے رہاہے ہم ان لوگوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ہم پر ایک پائی ثابت کریں جو الزام لگارہے ہیں یہ الزامات وہی لوگ لگارہے ہیں جو خود پیسوں کے لین دین پر ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دے چکے ہیں
ان کے سنگتی پیسوں پر ٹوٹتی اور بنتی ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ پیسوں کی چمک پر اتحاد اور تقسیم کا سبب بنتے ہیں آج چند لوگ نواب مری یااللہ نزر یا کسی پر سوال اٹھانے کے حق پر انہیں قوم کا ہیرو قرار دے کر زبان بند کرنے کی التجا کرتے یا مقدس اداروں کی بات کرکے ہمیں خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن میں بلا جھجک کہہ سکتاہوں کہ زندہ کوئی بھی ہیرو نہیں سفر جاری ہے اور جاری سفر میں کسی کو مرد آہن کہنا یا بابائے بلوچ کا نام زہنی اختراح کے سوا کچ نہیں لمبی سفر پڑی ہے دیکھیں گے کوں اپنے عمل سے بلوچ قوم کے ہیرو درجہ حاصل کرتا ہے ماسوائے شہداء کا جو بلوچ قومکا مجموعی طور پر ہیرو ہیں جن کے عمل کا سلسلہ بند ہوچکاہے اور وہ آزادی کے لئے اپنے جان سے گزر گئے ہیں وہی قوم کے لیڈر اور ہیرو ہیں دوسری بات مقدس اداروں کی بات کی جاری ہے کہاں ہیں ادارے کہان ہیں پارٹیاں ہیں کہان ہیں تنظیمیں مجھے تو کہیں دکھائی نہیں رہی معمولی سی کنٹریبیوشن کو مقدس اداروں کا نام دے رہے ہیں یہ خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں پارٹیوں کے تقاضے اور معیار کیا ہے اس بابت ہمیں سوچنا چاہیے


