×

خاش میں ایرانی جارحیت بلوچ نسل کشی ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

خاش میں ایرانی جارحیت بلوچ نسل کشی ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر خاش کے گاؤں گنیچ میں نہتے بلوچ خواتین پر حالیہ ایرانی فوجی حملہ، ایرانی قابض ریاست کی بلوچ قوم کے خلاف طویل المدتی نسل کش، نوآبادیاتی اور سامراجی پالیسیوں کا ایک تسلسل ہے۔ کارواندر میں ہونے والی ایرانی قابض آرمی کا بلوچ خواتین پر جبر و ستم ہو یا پھر پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کے اندر خواتین و بچوں کی اغوا اور گرفتاریاں ہوں دونوں قابضین بلوچ قوم کے خلاف صف آرا ہیں اور ایک ہی طرز کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین رہنا چاہئیے کہ ایران و پاکستان کے مابین ہزارہا معاملات پر اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن جب بات بلوچ قومی نسل کشی اور بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی آتی ہے تو نہ صرف دونوں قابض ریاست ایک صفحہ پر آجاتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی روابط اور اشتراک عمل کو بھی تیز کرتے ہیں تاکہ بلوچ قومی مزاحمتی فکر کا سدباب کرسکیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ قوم کے ایرانی ریاستی جبر کا سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک بلوچ قوم اپنی سرزمین کے خود مالک نہیں ہونگے اور فیصلہ سازی طاقت کو حاصل نہیں کریں گے، ایرانی قابض ریاست کے اندر بلوچ قوم کا کوئی مستقبل نہ پہلے تھا اور نہ ہی اب ہے کیونکہ ایرانی اور پاکستانی قابض ریاستیں بلوچ قوم کے خلاف روا رکھی گئی اپنی خونریز پالیسیوں کے ذریعے یہ واضح کرچکے ہیں کہ ان دونوں ریاستوں کو ایک ایسا بلوچستان درکار جہاں بلوچ سرے سے وجود ہی نہ رکھتا ہو، اور وہ منظم اور نئی آبادکاریوں کے بنیاد پر بلوچستان کے اندر بلوچ قوم کو بے دخل کرکے بلوچ گلزمین کو تمام معدنی وسائل سمیت مستقل طور پر اپنے ہی نام کرلیں۔

یہ حملہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایرانی نوآبادیاتی نظام کے اندر بلوچ قوم کی حیثیت کو مکمل طور پر مسخ کرنے، ان کے سیاسی وجود کو کچلنے اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی جاری منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ایرانی ریاست نہ صرف بلوچ سرزمین پر قابض ہے بلکہ اُس نے قبضے کے خلاف ہر آواز کو خاموش کرنے کے لیے ظلم، جبر، اغواء، پھانسیوں اور اب خواتین و بچوں کو اجتماعی سزا دینے جیسے ہتھکنڈوں کو اختیار کیا ہے۔

گنیچ پر حملہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ایران انسانی حقوق، اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن جیسے تمام بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچ عوام کے لیے اب انتخاب واضح ہے یا تو اس جبر کو خاموشی سے سہتے رہیں، یا آزادی کے اُس راستے کو چُنیں جس پر بلوچ قوم دہائیوں سے قربانیاں دیتی چلی آ رہی ہے، آزاد بلوچستان کا فلسفہ بلوچ قومی وحدت کے بنیاد پر ہی قائم ہے بلوچ قوم کو اچھے اور برے قابض یا ہمسایوں کے نام پر بانٹنے والے گروہ اور تنظیمیں بلوچ قومی اجتماعی طاقت کو بانٹنے اور بلوچ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی قابضین کے ایجنڈے کو بالواسطہ طور پر مدد فراہم کررہے، بلوچ کی آنے والی نسلیں ایسی مصلحت پسندی کو نہایت قبیح لفظوں سے یاد رکھی گی۔

پارٹی ترجمان نے کہا کہ ہم بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں، آزادی پسند اقوام، اقوام متحدہ اور اسلامی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ عوام کے خلاف ایرانی ریاستی جرائم پر خاموشی توڑیں اور خاش (گنیچ) جیسے مظالم کے خلاف کھل کر آواز بلند کریں۔ یہ صرف بلوچ قوم کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت اور عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔

ہم خاش کے شہداء اور زخمیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ بلوچ تحریکِ آزادی ان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے لہو کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ گنیچ کی مائیں اب صرف مقتول نہیں، وہ بلوچ قومی مزاحمت کا استعارہ بن چکی ہیں۔