×

ریاست پارلیمانی سیاست کو بلوچ جہد آزادی کے خلاف ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرتا آرہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ

ریاست پارلیمانی سیاست کو بلوچ جہد آزادی کے خلاف ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرتا آرہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ

25.4.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ ریاست پارلیمانی سیاست کو بلوچ جہد آزادی کے خلاف ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرتا آرہاہے اور بلوچ قوم کو غلام رکھنے میں پارلیمانی سیاست کا کلیدی کردار رہا ہے اور آج ایک دفعہ پھر بلوچستان میں پارلیمانی داشتاؤں کے لئے میدا ن سجا یا گیا ہے اور انہیں ریاست کی جانب سے مکمل سپورٹ اور تعاون فراہم کیا جارہا ہے ترجمان نے بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی ریاستی الیکشن کا بائیکاٹ کرکے ووٹ کاسٹنگ میں حصہ نہ لیں چالیس سال پر محیط پاکستانی پارلیمانی سیاست کے اثرات اور مثالیں ہم سب کے سامنے ہیں کہ پارلیمانی سیاست نے بلوچ قوم کو غلامی در غلامی میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں دیا آج بلوچ قوم دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کیوں پیچھے ہیں اتنی بڑی سرزمین اور وسائل کے باوجود بلوچ قوم کو مصنوعی غربت اور پسماندگی نے کیوں گھیر لیا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ غلامی ہے اور بلوچ قوم کو غلام اور پسماندہ رکھنے میں ایک طرف قبضہ گیرکا ہاتھ ہیں اور دوسری طرف انہی مراعات یافتہ پارلیمانی جماعتوں کا کردار ہے جن کی مصلحت پسندی اور سامراجی سوچ نے بلوچ قوم کو سب سے زیادہ نقصان دیا ہے ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی بلوچ جدوجہد آزادی کے خلاف پارلیمانی سیاست کو ایک اہم حربہ کے طور پر استعمال کرکے آزادی کے صفوں میں گھس کر پارلیمانی سوداگروں نے کئی نظریاتی دوستوں اور کامریڈوں کو پارلیمانی جدوجہد کی طرف راغب کرکے ان کی کردار کو داغدار کیا گیا اورانہیں بہکایا گیا اور جمہوری سیاست کے نمائشی دعوی کئے گئے جب کہ پس پرہ مقاصد ریاستی قبضہ کو دوام دینے اور بلوچ وسائل کو قبضہ گیر کے ہاتھ میں دینے کے سوا کچھ نہیں تھا جب کہ ماضی کی نسبت آج بلوچ قوم میں پختگی اور شعور کا سطع بہت بلند ہے اور پورے بلوچستان میں آزادی اور انقلاب کی دھڑکنیں محسوس کی جاسکتی ہے معروض اور زمینی حقائق سے ابھرنے والے حالیہ قومی جدوجہد عوام کی جڑوں تک پذیرائی حاصل کرچکی ہے جس کی وجہ سے اب کی بار قبضہ گیر الیکشن مہم کو کامیاب بنانے کے لئے پورے بلوچستان میں بے رحم قتل عام کا سلسلہ شروع کرکے طاقت کے زریعہ بلوچ قوم کوجبری ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی مجرمانہ کوشش کررہی ہے بلوچ عوام ریاستی دھونس دھمکی اور پارلیمانی جماعتوں کے پرفریب نعروں میں نہ آئیں کیو نکہ ریاستی الیکشن میں شریک ہونااور ووٹ کاسٹ کرنا غلامی پر دستخط کرنے کی مترادف ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ وطن میں طاقت کے زریعہ ووٹ ڈلوانے کی ریاستی کوشش ان کی ناکامی بوکھلائٹ اور پسپائی کو واضح کرتی ہے اور بلوچ وطن میں ریاست کو جس کیفیت کا سامنا ہے وہ کیفیت خود ہی بتارہاہے کہ جدوجہد آزادی نوشہ دیوار ہوتا جارہا ہے اور بلوچ قوم ریاست اور مقامی اشرافیہ کے فرسود ہ پارلیمانی طرز سیاست کو مسترد کردیا ہے اور اس کے لئے ریاست کی جانب سے طاقت اور تشدد کا استعمال کیا جارہا ئے تاکہ عالمی دنیا کے سامنے ریاست کی ساکھ بچا یا جاسکے کہ بلوچ قوم ان کے ساتھ ہیں

Previous post

بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے بلوچستان کے بعض علاقوں جن میں شال مستونگ مچھ قلات سوراب نوشکی اور خضدارمیں غیر فطری ریاستی الیکشن کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جس میں بلوچ قوم کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم ایک الگ قوم ہے ہماری اپنی الگ تاریخ اور شناخت

Next post

بلوچ قوم سے اپیل ہے کہ وہ ریاست کے زیر تسلط الیکشن کو مسترد کرکے ووٹ کاسٹ نہ کریں ووٹ کاسٹ کرنا اور الیکشن کا حصہ بننا غلامی پر دستخط کرنے کی مترادف ہے بانک حانی بلوچ با نک زمور آزاد بلوچ