×

ریاستی کمیشن کی جانب سے مغوی بلوچوں کی درجہ بندی اور ان کی لاپتہ ہونے کے معاملے کو مختلف درجات میں تقسیم کرنے کی کوشش دراصل ریاستی خفیہ اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک اور چال ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

ریاستی کمیشن کی جانب سے مغوی بلوچوں کی درجہ بندی اور ان کی لاپتہ ہونے کے معاملے کو مختلف درجات میں تقسیم کرنے کی کوشش دراصل ریاستی خفیہ اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک اور چال ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

3.7.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کا اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیاں میں کہاہے کہ ریاستی کمیشن کی جانب سے مغوی بلوچوں کی درجہ بندی اور ان کی لاپتہ ہونے کے معاملے کو مختلف درجات میں تقسیم کرنے کی کوشش دراصل ریاستی خفیہ اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک اور چال ہے اس سے قبل بھی انہی اداروں نے لاپتہ بلوچوں کو 80 افراد ظاہر کرکے ہزاروں کی تعدادمیں اغواء کئے گئے بلوچ فرزندوں کی حراست سے انکار کرتے رہے جب کہ ان کی اس غلط اعداد و شمار کو اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے بھی دوٹوک مستردکرکے 8ہزار سے زائد بلوچ فرزندوں کی خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء کی تصدیق کی جو بلوچ موقف کی تائید تھی ترجمان نے کہا کہ ریاستی کمیشن کی جانب سے لاپتہ افراد کی بیرونی ممالک جانے کی بے بنیاد رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک سفید جھوٹ قرار دیتے ہیں بلوچ نوجوانوں کو اغواء اور حراستی قتل کا سلسلہ جاری ہے آئے روز بلوچ قوم ان واقعات کا سامنا کررہاہے گزشتہ دنوں ہرنائی شائرگ اور نسک سے مری اور سمالانی قبیلہ کے تیس سے زائد افراد کو اغواء کرنے کے ساتھ کوئٹہ میں سریاب اور سٹیلائٹ ٹاؤں سے بلوچ آبادیوں پر چھاپے اور گھر گھر تلاشی کے دوران مختلف بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے بلوچ فرزندوں اور بزرگوں کو اغواء کردیا گیاہے گل خان مری کالے مری بابو رضا سمالانی بجار مری اور پیرو مری سمیت تیس سے زائد افراد جو خفیہ اداروں نے اغواء کیا ور اس کے علاوہ شہید فیض محمد مری کے بھائی داد محمد مری اور عبداللہ بلوچ کے حراست کے دوران قتل شہادت ریاستی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہیں کمیشن اپنی جھوٹی رپورٹوں کی زریعہ ریاستی دہشت گردی پر پر دہ نہیں ڈال سکتا اور لاشوں اور اغواؤں کے سلسلہ کے زریعہ بلوچ قوم کوآزادی کے موقف سے نہیں ہٹاسکتے ترجمان نے کہا ہے کہ مڈل کلاس بلوچ قوم کا نمائندہ نہیں وہ شروع ہی سے قبضہ گیر کے گود میں کھیلنے والے ریاستی دھڑوں کا کلیدی کردار ہے اسے اقتدار دینے اور اس پر فیاضی و مہربانی ان کی سابقہ اور موجودہ وفاداریوں کا صلہ ہے تاکہ وہ بلوچ تحریک آذادی کو سبوتاژ کرنے کے لئے زیادہ چابک دستی سے قبضہ گیر کا ہاتھ بھٹاکر بلوچ تحریک آزادی کو خوں میں نہلائیں غلامی کو جمہوری اور عوام دوست بناکر پیش کرکے بلوچ قوم کو دھوکہ دینے کی نئی چال کارگر ثابت نہ ہوگی آج بلوچ قوم کا بچہ بچہ آزادی کا احساس اور شعور رکھتاہے اور اس شعور و احساس کو مٹانے کے لئے ریاستی اپنی تمام وسائل ہتھیار اور بارود استعمال کرکے آزادی کے جزبہ اور احساس کو ماند نہیں کرسکتے

Previous post

آغا عبدالکریم خان کی بلوچ تحریک آزادی میں رہنمایانہ کردار رہاہے وہ بلوچ تحریک آزادی کا سرخیل بانی اورہماری قومی رہنماء ہے جنہوں نے پاکستانی فوجی مداخلت اور قبضہ کے خلاف جدوجہدکرتے ہوئے تحریک آزادی کی بنیاد ڈالی بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

تحریک آزادی کی روح رواں شہید غفار لانگو جہد آزادی کے اہم کردار پیران سال شہید ملک نوراحمد قمبرانی اوراور آزادی کے سپوت شہید عمر مینگل کو مادر وطن کی آذادی کی جدوجہد میں خدمات قربانی اور عملی کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں