سردار مری بلوچ قومی کو غلامی کے زلت اورازیت گاہ سے نکالنے کے لئے بلوچ قوم کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے اور جدوجہد کے لئے محنت اور تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے قوم کے لئے وراثت کے طور پر آزادی کا فکر اور شعور چھوڑدیا بلوچ سالویشن فرنٹ
جولائی2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے اکیسویں صدی کے عظیم بلوچ قائد سردار مری کی وفات کی مناسبت سے چالیس روزہ سوگ کے اختتام اور سردار مری کے رسم چہلم کے موقع پر ان کے ایصال ثواب کے لئے قرانی خوانی کا اہتمام کیا گیا اور اس موقع پر انہیں بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں قائدانہ صلاحیتیوں جرائتمندانہ کردار،گران قدر خدمات اور قربانیوں پرزبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا
ترجمان نے کہاکہ سردار مری بلوچ قومی کو غلامی کے زلت اورازیت گاہ سے نکالنے کے لئے بلوچ قوم کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے اور جدوجہد کے لئے محنت اور تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے قوم کے لئے وراثت کے طور پر آزادی کا فکر اور شعور چھوڑدیا بلوچ قوم کو چاہیے کہ ان کی نظریاتی میراث اور انقلابی آدرشوں کی تقلید کرتے ہوئے آزادی کی مشن کا حصہ بنیں سردار مری افغانستا ن واپسی کے بعد حق توار سٹڈی سرکلز کے زریعہ جس طرز پر کیڈر سازی کا عمل شروع کرتے ہوئے تازہ خون بلوچ نوجوان کامریڈزکی نظریاتی تربیت کا سلسلہ شروع کرکے بلوچ سماج میں آزادی کے لئے تڑپ اور بیداری پیدا کی اس کی مثال نہیں ملتی اور اس کے ساتھ ساتھ قومی غلامی کو جڑوں سے اکھاڑپھینکنے کے لئے ماضی میں کئے گئے تجربات کی روشنی میں ایک منفرد لائحہ اور درست حکمت عملی کے ساتھ قوم کو آگے بڑھنے کی درس دیتے ہوئے رہنمائی کی انہوں نے بلوچ قوم کو منافقانہ کرپٹ اور حقیقی بلوچ سیاست کا واضح فرق بتا تے ہوئے راہ آزادی میں مشعل بردار رہنماء کے طور ہمیشہ صف اول میں رہے پیرانسری ضعیف العمری اور عمر کے آخری حصہ میں تمام تر جسمانی تکلیفوں کے باوجود کھبی بھی بددلی، مایوسی اور تھکاوٹ کا زکر نہیں کیا قید و بند اور جسمانی صعوبتوں کے باوجود انہوں نے انقلاب اور آزادی کے مشکل اورکانٹے بھرے راستوں کو ترجیح دیتے ہوئے موقع پرستی اور مصلحت پرستی کی سیاست سے دور رہے بلکہ وہ جدوجہد کے طویل ادوار میں آزادی کی موقف پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ریاست اور ان کے کاسہ لیسو ں کے آنکھوں میں آنکھ ڈال کران کی منافقت اور قبضہ گیریت سے بھر پور انداز میں پردہ اٹھایاجدوجہد کے کسی بھی موڑ اور مرحلہ پر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا انہیں ریاست کی جانب سے مختلف قسم کی ازیتیں دین گئیں کئی بار جیل ہوئے انہیں کئی بار جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن ریاست کے تمام تر حربوں کے باوجودہ انتہائی صبر آزما عمل کے زریعہ اپنی نظریات پر غیر متزلزل یقین کے ساتھ آزاد بلوچستان کے قیام کو بلوچ قوم کی زندگی پہچان شناخت اور تاریخ سمجھتے ہوئے جدوجہد در جدوجہد آخری فتح تک کا درس دیا سردار مری نے بلوچ قوم کو واضح بتادیا کہ پارلیمنٹ غلامی اور موت کا راستہ ہے جبکہ آزادی کی جدوجہد میں ہماری نجات اور بقاء مضمر ہے ترجمان نے کہاکہ سردار مری بلوچ نیشنلزم اور بلوچ ازم کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے فرسودہ سرداری نظام اور ریاستی پارلیمانی نظام کا بہت بڑا نقاد تھا وہ اپنی زندگی میں نوابیت کو انگریز لقب قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھااگر بلوچ قومی رہبر سردار مری کی زندگی اور سوانح حیات کا گہرامطالعہ کیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بحیثیت ایک فرد اپنے کردار وعمل سے اپنے آپ کو قومی لیڈر اور ایک انسٹیوٹ کے طور پر ثابت کیاان کی جدوجہد میں ایک ایک لمحہ ایک ایک قدم قدم اور اصول آدرش استقلال اورجرائت مثالی حیثیت رکھتے ہیں وہ بلوچ قوم کی آئیڈیل رہنما ہے انسانی تاریخ انہیں عظیم انقلابی رہنماؤ ں مارکس فینن اور ہوچی منھ کے صف میں شمار کرکے ان کی کردارو عمل اور نظریات کو آنے والے نسلوں کے لئے بطور مشعل دہراتے ہوئے ان کی انقلابی شخصیت سے کھبی بھی نا انصافی نہیں کریگی بلوچ قوم کے لئے ان کی وفات بہت بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ہے ان کا خلا ء پر نہیں کیا جاسکتا ان کے خیالات افکار اورپیغام بلوچ قوم کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے خیالات انٹریوز تقاریر مختلف مواقع پر بات چیت مکالمے اور پیغام قومی دستاویزکی حیثیت رکھتے ہیں ان کے بات چیت پر مبنی علم دانش کا بیش بہا خزانہ ایک انقلابی ورثہ سے کم نہیں ترجمان نے کہاکہ سردارمری ہم سے ہماری تاریخی اور قومی فریضہ آزادی کا عہد لیتے ہوئے ہمیں الوداع کیا وہ ہماری تاریخ ہماری سماج اور ہماری آزادی میں ایک قومی ہیرو اور قائد کے طور پر تاابد زندہ رہیگی


