سوئی ڈیرہ بگٹی نصیرآباد چھتر پلیجی اور دیگر علاقوں میں ریاستی دہشت گردی گھروں کی نذر آتش اور ان علاقوں سے بگٹی بلوچ فرزندوں عثمان بگٹی شاہنواز بگٹی اور بھاگیہ بگٹی کی اغواء 1948سے جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
6.4.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ سوئی ڈیرہ بگٹی نصیرآباد چھتر پلیجی اور دیگر علاقوں میں ریاستی دہشت گردی گھروں کی نذر آتش اور ان علاقوں سے بگٹی بلوچ فرزندوں عثمان بگٹی شاہنواز بگٹی اور بھاگیہ بگٹی کی اغواء 1948سے جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے قبضہ گیر جبری الحاق سے لے کراب تک بلوچستان میں دہشت گردی کا راج قائم کرکے مداخلت کررہی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ قبضہ گیر کے اس قسم کے جارحانہ پالیسیوں کا مقصد بلوچ قومی تحریک کے ابھرتے ہوئے ریلے کو روکنے کی ناکام کوشش سمیت حالیہ ریاستی انتخابات کے لئے راہ ہموار کرنے کی مجرمانہ کوشش ہے ترجمان نے کہا کہ ریاست بلوچ وطن میں بڑے پیمانے پر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے بلوچستان میں مارو اور پینکھو کی پالیسی شدت سے جاری ہے لیکن بلوچ سپوت ان کاروائیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے جن کے سوچ اور فکر کا محور آزادی ہو وہ سپوت جو اپنی جان کی قیمت دیکر آزادی کے حصول کے لئے عملی طور پر برسر پیکار ہیں وہ ریاستی دہشت گردی اور شہادتوں سے گھبرانے کے بجائے اسی اپنی منزل کا نشان راہ سمجھتے ہیں ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کی چیمپیئنوں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے بلوچستان میں آئے روز انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے لاشیں گرائی جارہی ہے بلوچ فرزندوں کو اغواء کیا جارہا ہے لیکن عالمی انسانی حقو ق کے دعویدار مجرمانہ زبان بندی اختیار کرکے بلوچستان میں نسل کشی اور انسانی بحران پر خاموش ہے عالمی دنیا پاکستان کو لاجسٹک سپورٹ سمیت ہر قسم کی امداد بند کرے اوربلوچ اور قبضہ گیر کے درمیان جاری لڑائی میں فریق نہ بنیں ترجمان نے کہا کہ پارلیمانی جماعتیں ریاست کے اسٹریٹیجک اثاثہ ہے یہ روز اول سے ریاستی قبضہ کو تحفظ دینے کے لئے تشکیل دیئے گئے ہیں یہ بلوچ قوم کے نمائندے نہیں بلکہ قبضہ گیر کے نمائندے ہیں بلوچ آزادی کے صفوں میں ان کا مقام اور نام ریاست کے گماشتے کے حیثیت سے ہیں آج یہ پارلیمانی جماعتیں بلوچ وطن میں اپنے لئے راستہ صاف کرنے کے لئے ریاست کے جارحانہ پالیسیوں میں برابر کے شریک ہے


