سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سامراج کی اس بوسیدہ پروپیگنڈہ کوشاویز نے اپنی حوصلہ اور جدوجہد سے غلط ثابت کردیا بلوچ سالویشن فرنٹ
7.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئرمین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر سمالانی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بانک حانی بلوچ ،بلوچ سالویشن فرنٹ کے ایگزیگٹو کمیٹی کے ممبرزمورآزاد بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک مشترکہ پیغام میں وینزویلا کے صدر قوم دوست و اشتراکیت پسند رہنماء ہوگو شاویز کی وفات کولاطینی امریکہ ووینزویلا کے عوام سمیت پورے دنیا کے آزادی پسندوں اور انقلابیوں کے لئے المیہ قرار دیتے ہوئے ہوگو شاویزکوان کی شاندار جدوجہد اور بے بہا جرائت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ انقلابی لیڈر ہوگو شاویز کی وفات پر تین روز ہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے وینزیلا کے عوام سے اظہار تعزیت کرتی ہے انہوں نے کہاکہ ہوگو شاویز عالمی سامراج کے خلاف ایک موثر آوازتھا جو خاموش ہوگیالیکن وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک ہے اس کی جسمانی موت ان کی فکر وآدرش اور فلسفہ آزادی پر حاوی نہیں ہوگی وہ اپنی جدوجہد کے زریعہ دنیا کے تمام انقلابیوں کو ایک نئی طاقت جرائت اور ہمت فراہم کرکے ثابت کردیا کہ فرد ختم کئے جا سکتے ہیں ملک ٹوٹ سکتے ہیں لیکن نظریات کو نہ تو دفن کیا جاسکتاہے او ر نہ ہی مٹا یاجا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سامراج کی اس بوسیدہ پروپیگنڈہ کوشاویز نے اپنی حوصلہ اور جدوجہد سے غلط ثابت کردیا کہ کہ جس میں سامراج نے یہ شوشہ چھوڑا تھاکہ سوشلزم اور نیشنلزم کی تحریکیں ختم ہو گئی ہیں شاویزنے کہاکہ سوشلزم مرا نہیں زندہ ہے روس اور چین سرمایہ داری کی طرف لانگ مارچ کرکے سوشلزم کا راستہ چھوڑ کر جس مصلحت کے ساتھ کھوکھلے اور بانجھ سوچ کے ساتھ کہ سرمایہ داری کو سرمایہ د اری کے زریعہ توڑا جا سکتا ہے اجاگر کیالیکن وینزویلا کے قومی و اشتراکی انقلاب نے اس خوش فہمی کو غلط اور جھوٹا ثابت کرکے ایک دفعہ پھر واضح کردیا کہ سوشلزم اور نیشنلزم نہ صرف ایک راستہ ہے بلکہ ایک کامل نظریہ اور ایک نصب العین ہے انہوں کہا کہ شاویز کی مسیحائی اور انقلابی کردار چین جیسے ملک کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے جو آج پاکستانی ریاست جیسے قابض ریاست کی ہم نوائی کرکے اپنی دفاع اور آزادی کے لئے لڑنے والے بلوچ قوم کی نسل کشی میں ساتھ دی رہی ہے انہوں نے کہا کہ شاویز کی زندگی اور جدوجہد کے تناظر میں یہی فکر و آدرش پوشیدہ ہیں کہ جو قومیں اپنی ہی طاقت اور اتحاد پھر بھروسہ کرتی ہے وہی فتح مند ہوتی ہے دنیا کے کوئی بھی سپر طاقت اس کی سامنے نہیں ٹہر سکتی


