×

سپین بولدک میں بلوچ پناہ گزینوں اور بسیمہ واقعہ انسانی حقوق کے پاسبان اداروں کے لئے چیلنج ہے-بلوچ سالویشن فرنٹ

سپین بولدک میں بلوچ پناہ گزینوں اور بسیمہ واقعہ انسانی حقوق کے پاسبان اداروں کے لئے چیلنج ہے-بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے 1948 سے بلوچستان ایک جنگ زدہ علاقہ ہے کاؤنٹر انسر جنسی پالیسی کے تحت ریاست بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے خاک و خون میں نہلا رہاہے 8 ستمبرسے بسیمہ سے اغواء کئے گئے متعدد بلوچ فرزندوں کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناکر انہیں شہید کیا گیابعد ازان ان کی مسخ لاشیں سوراب کے علاقہ میں پھینکے گئے جبکہ افغانستان کے علاقہ سپین بولدک میں بگٹی مہاجریں کے کیمپ کو نشانہ بناکر ایک بلوچ فرزند پائند خان بگٹی کو شہید کیا گیا جو کہ افغانستان میں بطور پناہ گزین مقیم تھابلوچ قوم کے خلاف ریاست کے تمام تر جارحانہ کاروائیاں قابل مزمت اور اقوام متحدہ اور انسان دوستی کے دعویدار قوتوں اور اداروں کے لئے کھلی چیلنج ہے

ے ترجمان نے کہاکہ ریاست بلوچ جہد آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر بلوچ فرزندوں کو نہ صرف لاپتہ کررہاہے بلکہ انہیں زہنی اور جسمانی طور پر شدید ازیت کے بعد شہید کررہاہے جبکہ جنگ زدگی کے وجہ سے ہمسائیہ ممالک افغانستان میں پناہ گزین بلوچ باشندوں پر ہدفی حملہ کررہاہے جو مروجہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست 1948 سے بلوچ ریاست پر بلجبر اور غیر قانونی طور تسلط قائم کئے ہوئے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور بلوچ قوم کی نسل کشی کررہی ہے لیکن اقوام متحدہ اور انسان دوست ممالک کی جانب سے ریاست پر کسی قسم کی حقیقی دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کیساتھ تعاون کیا جارہا ہے حالانکہ بلوچ قوم کی جانب سے اقوام متحدہ سے بارہا اپیل کیا جارہاہے کہ وہ بلوچ قوم پر ہونے والے جارحیت کا نوٹس لین لیکن بلوچ قوم کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی اس خاموشی کا فائدہ اٹھا کر ریاست بلوچ قوم کی تاریخ اور شناخت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نسل کشی میں تیزی لارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی دنیا کو ڈھونگ باور کرارہاہے کہ وہ بلوچ قوم کی ترقی و تعلیم کے لئے کام کررہاہے ان کی خیر و خوائی اور مہربانیوں کا دعوی بلوچ قوم کو لاشوں کی صورت میں مل رہاہے اقوام متحدہ اور عالمی دنیا کی بلوچ قومی نسل کشی پر صریحا خاموشی تشویش ناک ہے

Previous post

بلوچ شہداء کے خون کا مینڈیٹ یہ نہیں کہ ان کے ارمانوں کا سودا کیا جائے بی آرپی کے سربراہ کی جانب سے آزادی کے موقف سے دستبرداری اکبر خان بگٹی اور ہزاروں بلوچ شہداء کے روح کو ٹھیس پہنچانے کی مترادف ہے . بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

جالڑی سانگان اور گریشہ میںآپریشن زمینی و فضائی کاروائیاں ریاست کی بھو کھلاہٹ ہے-بلوچ سالویشن فرنٹ