شہداء نے اپنے فکر وعمل اور عظیم قربانی سے جس فکر کی آبیاری کی ان کی جسمانی جدائی کی خلاء ان کے فکر و نظریہ و آدرش اور حوصلہ پوراکرتے رہیں گے ان کی شہادت ہمیں قبضہ دہشت گردی ناانصافی اور غلامی سے ٹکراجانے کا حوصلہ اور قوت عطاء کرتا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
14.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئر مین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بانک حانی بلوچ ایگزیگٹو کمیٹی کے ممبران بانک زمور آزاد بلوچ اور نذر زیب بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں بلوچ سیاسی مدبر زانت کاراور معلم آزادی شہید آغا محمود خان احمدزئی بلوچ شہید ورنا مجید جان بلوچ شہید استاد حمید شاہین بلوچ شہید سنگت شیر زمان کرد شہید سکندر بلوچ شہید جنید بلوچ شہید نعیم صابر جمالدینی شہید فریدجان بلوچ شہید یاسر بلوچ شہیدحبیب مری شہید علی بخش بگٹی شہید دین محمدپرکانی کو بے لوث جدوجہد اور شاندار شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء نے اپنے فکر وعمل اور عظیم قربانی سے جس فکر کی آبیاری کی ان کی جسمانی جدائی کی خلاء ان کے فکر و نظریہ و آدرش اور حوصلہ پوراکرتے رہیں گے ان کی شہادت ہمیں قبضہ دہشت گردی ناانصافی اور غلامی سے ٹکراجانے کا حوصلہ اور قوت عطاء کرتا ہے انہوں نے کہا کہ کسی جسم کو شہید کیا جاسکتاہے لیکن اس جسد خاکی سے وابسطہ فکر کو فناء نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بلوچ آزادی کے حق میں رائے عامہ تبدیل ہوچکاہے امریکن اراکین کانگریس سمیت بعض دیگر ممالک کی جانب سے آزاد بلوچ ریاست کی غیر مشروط حمایت حوصلہ افزاء ہے شہداء نے اپنی قربانیوں سے ہمیں یہ درس دی ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں کسی بین الاقومی امداد اور وسائل کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ جان کی قربانی مضبوط اور پختہ کمٹمنٹ ہی تحریکون کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے اور آج بہنے والے بلوچ لہو تحریک آزای کے لئے نہ صرف عالمی سطح پر پزیرائی میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ آزاد بلوچ وطن کے حصول کے لئے بڑے پیمانے حمایت اور قوت پیدا کرنے کاسبب بنی ہے انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آزادی نہ قسطوں میں ملتاہے نہ اسے کوئی پلیٹ میں سجاکر کسی کو پیش کرتا ہے بلکہ آزادی کے حصول کے لئے تاریخ کے اوراق خون آلود اور تکلیف دہ مرحلوں کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ قبضہ گیر کو خاموشی سے نہیں بھگایا جاسکتا بلکہ اس کو بھگانے اور اس کی قبضہ کو کمزور کرنے کے لئے منظم جدوجہد اور پائیدار جرائت درکار ہوتی ہے جب کہ قبضہ گیر کے پاس اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے دہشت گردی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتابلکہ ان کی ہر چال اور حرکت ان کے خلاف جاتی ہے جیسا کہ آج قبضہ گیر جس پیمانے پر ریاست روح سوزحراستی قتل و عام کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے ان کی لاشیں مسخ کرکے بلوچ سماج میں خوف پیدا کرنے کے لئے ایک نفسیاتی حربہ استعمال کر رہاہے لیکن بلوچ آزادی کے لئے اٹھنے والی قدموں کو روکنے کی بھونڈی اور مجرمانہ ریاستی کوشش دراصل اس کی اپنی قبضہ کو ڈبو رہے ہیں کیونکہ بلوچ جہد کار ذہنی طور پرتیار اور فکر و شعور سے لیس جدوجہد کررہے ہیں ان کی کمٹمنٹ کو نہ مسخ لاشیں متاثر کرتی ہے اور نہ کوئی اور ریاستی حربہ ان کی قدموں میں لغزش پیدا کرسکتی ہے انہوں نے کہا کہ جس سماج میں مزاحمت ایک کلچر کے طور پر موجود ہو اس قوم پر قبضہ گیر کھبی بھی غلبہ حاصل نہیں کرسکتا بلوچ آج سے نہیں صدیوں سے قبضہ گیروں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور آج یہ جدوجہد ارتقائی عمل سے گزر مزید پختہ منظم اور سائنسی تدبیر حکمت عملی سے جاری ہے انہوں نے کہا کہ مجاہد وادی اور شہداء کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچنا ہماری قومی زمہ داری ہے کیونکہ شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ان کی مثالی جہد وعمل کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی مقصدسے وابسطگی اختیار کی جائے انہوں نے کہا کہ آزاد بلوچستان کا قیام ناگزیر ہے بلوچ قوم اپنی صفوں کو مضبوط کریں اور بلوچ کاز کی ہر طریقہ سے مدد کرکے اپنی توانیاں جہد آزادی پر خرچ کریں


