شہداء نے قومی آزادی کی راہ میں اپنی زندگیوں کی پرواء نہ کرتے ہوئے قبضہ گیر کی نام نہادطاقت اور عسکری برتری سے انکار کرتے ہوئے ریاست پر واضح کردیا کہ وہ کہ بلوچ وطن کی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی شہادت قبول کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ
20.2.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں شہدائے کھوڑو جھاؤ شہید حق نواز بلوچ اور شہید عبدالقادر مینگل کوان کی بے لوث جدوجہد اور عظیم شہادت پر سرخ سرخ و سلام و خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ شہداء نے قومی آزادی کی راہ میں اپنی زندگیوں کی پرواء نہ کرتے ہوئے قبضہ گیر کی نام نہادطاقت اور عسکری برتری سے انکار کرتے ہوئے ریاست پر واضح کردیا کہ وہ کہ بلوچ وطن کی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی شہادت قبول کرتے ہیں ترجمان نے کہاہے کہ شہداء کے انتھک جدوجہد اور غیر معمولی قربانیوں اور بلوچ فرزندوں کی شعوری جدوجہد سے آزادی کی تحریک آج بڑے پیمانےء پر پزیرائی اور تائید حاصل کرچکی ہے بلوچ عوام آزادی کی صفوں کو مضبوط کرکے شہداء کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنی مال جان اور ہر قسم کی قربانی دینے سے گریز نہ کریں آزادی کے حصول کے لئے قربانیان لازمی اور ناگزیر ہے کوئی بھی تحریک قربانیوں کے بغیر اپنا ہدف اور منزل حاصل نہیں کرسکتا بلوچ شہداء کی قربانیوں اورقومی تحریک کے شدت نے ریاست اور ان کے باج گزار وں کی نیندیں حرام کردی ہے جس سے ریاست مختلف طریقوں سے بلوچ تحریک آزادی کو کاؤنٹر کی ناکام کوششوں کے ساتھ کہیں لوگوں کو نوکری کہیں نام ترقی پراجیکٹس اور کہیں انفرادی طور پر پیسہ وغیرہ کے لالچ میں لوگوں کو بہلانے کے ساتھ ساتھ آپسی قبائلی جھگڑوں سمیت کئی محازوں پر بلوچ قوم کو تحریک سے الگ کرنے کی مزموم منصوبہ پر عمل پیرا ہے لیکن اپنے تمام تر ہنر و تدبیر میں شکست کھانے کے بعد اس کا زیادہ انحصار جارحانہ عسکری کاروائیوں پر ہے لوگوں کو اٹھا کر غائب کرنا شہید کرنا سول آبادیوں پر دھاوا بولنا عام اور نہتے بلوچ شہریوں کو ہراسان کرنا اورزمینی اور فضائی کاروائیاں شامل ہے جھاؤ کھوڑو میں میں بڑے پیمانے پر جارحانہ کاروائیاں 5 بلوچوں کی شہادت اور وائس فار مسنگ کے لانگ مارچ کو پنجاب پولیس کی جانب سے ہراسان کرنے کے واقعات ریاست کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہیں جہان ریاست بلوچ لاپتہ افراد کے بازیابی کے حوالہ سے پر امن احتجاجی عمل کو کچلنے کے لئے عسکریت کا سہارا لے کر ان پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال رہی ہے ترجمان نے کہاہے کہ جھاؤ میں حالیہ کاروائیاں کاؤنٹر انسرجنسی کا تسلسل ہے ریاستی فورسز طاقت کے نشے میں بلوچ آبادیوں کو نشانہ بناکر بڑے پیمانے پر جنگی جرائم میں ملوث ہیں ریاست تمام تر جنگی قوانیں اور ضابطہ کو روندھتے ہوئے بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ خونریزی کے گھناؤنے تسلسل میں شدت لاکر اپنی غیر فطری قبضہ کو برقرار رکھنے کے لئے بلوچ نسل کشی کررہی ہے لیکن ریاست کی بدترین دہشت گردی پراقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے آنکھیں بند رکھی ہے جو اقوام متحدہ اور عالمی ممالک کی کھلی بے حسی ہے ریاست اقوام متحدہ کی خاموشی سے فائدہ اٹھا کر اپنی جنگی جنوں میں شدت لاکر مزید بے رحمانہ کاروائیاں کررہی ہے ترجمان نے کہا کہ عالمی دنیا ریاستی دہشت گردی اور بلوچ وطن پر غیر فطری اور بلجبر قبضہ سے آگاہ ہونے کے بعد خاموشی کو اختیار کیا ہے جو باعث تشویش ہے


