×

شہداء کے افکار و عمل نشان راہ ہے آزادی کے مہا ہستیوں کی قربانیاں تاریخ کا انمٹ حصّہ ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

شہداء کے افکار و عمل نشان راہ ہے آزادی کے مہا ہستیوں کی قربانیاں تاریخ کا انمٹ حصّہ ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ


بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں بلوچ شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہداء نے مراعتی سیاست کو مسترد کرتے ہو ئے کھٹن اور صبر آزما جدوجہد کو ترجیح دی تاکہ بلوچ قوم غلامی اور بدحالی کی زندگی سے نجات حاصل کرکے ایک باوقار زندگی گزار سکین۔
انہوں نے قربانیوں کی وہ مثالین پیش کیں جس پر ہر بلوچ کو فخر ہے اور آنے والے نسلیں اپنے قومی شہداء کی قربانیوں کومشعل راہ سمجھتے ہوئے ہمیشہ اپنی حیثیت شناخت اوع وطن کی حفاظت کریں گے ترجمان نے شہید میر عبدالغفار لانگوپیران سالہ شہید ملک نوراحمد قمبرانی شہید عمر بلوچ اور ان کے ساتھی شہداکو قومی تحریک میں خدمات قربانیوں اور جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ جدوجہد کے قدم قدم پر قربانیان دیتے ہوئے اپنی زندگی کو داؤ پر لگاکر جدوجہد کی۔
انہوں نے سمجھوتہ اور مصلحت کے ہر شکل کو اپنی افکار اور عمل سے مسترد کردی جو ہمارے لئے نشان راہ ہے آزادی کے ان مہا ہستیوں کی قربانیان تاریخ کا انمٹ حصہ ہے ان کی قربانیاں ضائع نہیں ان کی مقدس لہو اورفلسفہ بانجھ نہیں بلکہ ان کا ہر عمل نوآبادیاتی قوتوں اور ا ن کے پشت میں رہنے والوں کے لئے نوشتہ دیوار ہے کہ بلوچ قوم کو مراعات اور راضی کرنے کے بوسیدہ فارمولوں کے زریعہ مزید غلام نہیں بنایا جاسکتا بلوچ قوم اپنے آنے والے نسلوں کو کسی نوآبادیاتی تسلط کے زیر اثر نہیں دیکھ سکتا جس مین ان کی شناخت حیثیت وقار اور آزادی ختم ہو جو لوگ شہداء کی باضابطہ جدوجہد اور قربانیوں کے مد نظر رکھنے کے بجائے اقتدارتک رسائی کی سیاست کو قومی سیاست سے نتھی کررہے ہیں وہ شہداء کے جدوجہد کے متصادم سیاست کرتے ہیں انہیں بلوچ کا نمائندہ نہیں کہاجاسکتا آج بلوچ قوم کے جذبات کو کیش کرنے اور بلوچ قوم کے ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے جن جذباتی بیانات کے زریعہ وہ بلوچ قوم کے سائیکی سے کھیل رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیاہے بلوچ قوم ان کے سیاست کے لیپاپوتی سے واقف ہے ان کے ڈھونگ نمائندگی کے تمام فریب کو جانتاہے یہ ماضی نہیں کہ کوئی بھی اقتدار کا بھوکا بلوچ قوم کو فریب دے سکے یہ ایک بے مقصد جدوجہد نہیں جو لوگ اقتدار کے لئے بلوچ شہداء کو سیڑھی بناکر ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو اپنی مفاداتی اور مراعاتی سیاست کے لئے استعمال کررہے ہیں وہ بلوچ شہداء کے وارث نہیں بلوچستان میں استبداد اور المیوں پر خاموش رہنے کے بعد اب بلوچ جذبات کو اپنے حق میں کیش کرنے کے لئے ایک دفعہ پھر جو پارلیمانی جماعتیں میدان میں آرہے ہیں وہ بلوچ قوم کی آزادی کے لئے نہیں بلکہ غلامی کو طول دینے کے لئے آرہے ہیں شہداء نے تو اپنی خون آزادی کے لئے بہایا انہوں نے جووژن دی وہ بلوچ قوم کی موجودہ پوزیشن سے ایک بہتر مستقبل کے تشکیل کے لئے دی وہ بلوچ قوم اقوام عالم کے ساتھ ایک برابر قوم کی حیثیت شناخت اور وقار میں لانے کے لئے کوشان رہی۔