×

شہدائے بلوچستان 15جولائی کے شہداء کاکا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی انہیں ان کی قومی شہادت اور آزادی کی جدوجہد میں بے پنا اور غیر معمولی قربانیوں پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

شہدائے بلوچستان 15جولائی کے شہداء کاکا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی انہیں ان کی قومی شہادت اور آزادی کی جدوجہد میں بے پنا اور غیر معمولی قربانیوں پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

15.7.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کا اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کردہ مرکزی ترجمان میں کہا ہے کہ شہدائے بلوچستان 15جولائی کے شہداء کاکا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی انہیں ان کی قومی شہادت اور آزادی کی جدوجہد میں بے پنا اور غیر معمولی قربانیوں پر سرخ سلام پیش کرتے ہوئے شہید بابو نوروزخان ز رکزئی شہید میر غلام رسول شہید میر بٹے خان زرکزئی شہید بہاول خا ن شہید جمال خان جام شہید میرولی محمد موسیانی شہید مستی خان اور انکے دیگر شہداء ساتھیوں شہید میر دلمراد لاشاری شہید مگسی خان ڈایاں سمیت شہید عبدالرسول بنگلزئی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزادی کی عظیم مقصد کے لئے قومی محاز پر زبردست خدمات انجام دیتے ہوئے ریاستی قبضہ کے خلاف عسکری جدوجہد کی داغ بیل ڈالی اور بلوچ نوجوانوں کی فکری وعملی رہنمائی کرتے ہوئے جرائت اور جانثاری کے ساتھ بلوچ گلزمین کے فضاؤں کو آزادی کے کے نعروں سے آشنا ء کیا بلوچ سرزمیں پر ایسے ہزاروں قبرستان ملین گے جو نصف صدی گزرنے کے بعد ہموار ہوجاتے ہیں لیکن جس مقصدکے لئے شہدائے بلوچستان اور بلوچستان کی آزادی کے شاہراہ پر چلنے والے بلوچ سپوتوں نے قربانی دی ان کے نام ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بھی تاریخ کے کتبہ پر انمٹ ہوگاان کی قبرین زمانہ کی دھول سے ہموار نہیں ہوں گے وہ ہماری تاریخ کے میراث ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ آزادی بغیر قیمت اور قربانی کسی بھی قوم کو طشت میں نہیں ملی آزاد بلوچ ریاست کے قیام کے لئے قربانیاں ناگزیر ہیں پوری دنیا میں مقبوضہ قوموں کی تاریخ خون آلود ہیں ان کی تاریخ کا ہر ہر ورق قربانیوں سے بھری پڑی ہیں ہمیں اپنی شہداء کی تقلید اور پیروی کرتے ہوئے قربانیوں سے پیچھے نہیں ہٹنی چاہیے ترجمان نے کہا کہ شہداء بلوچستان بابو نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کی قربانیاں جہد آزادی کا ناقابل فراموش حصہ ہیں انہوں نے آزادی کی کھٹن اور پر خارراہوں کا انتخاب کرکے اپنی دفاعی اور جنگی روایات برقرا رکھتے ہوئے دشمن کی تمام تر عسکری قوت کو شکست سے دوچار کرکے واضح کردیا کہ بلوچ مسئلہ کا آزادی کے سوا اور کوئی حل نہیں ترجمان نے کہا کہ جو لوگ بلوچ جہد آزادی کو2006 کی شورش سے منسوب کرتے ہیں ان کے اس جھوٹ کو شہیدبابو نوروز خان اور ان کی ساتھیوں کی فکری وعملی جدوجہدبے نقاب اور رد کرتی ہے60 سالہ غیر فطری پاکستانی شناخت نے ہمیں سب سے زیادہ نقصان دیا پارلیمانی جماعتوں نے بلوچ قوم کو نوکری گھنٹہ اور مفادات سے نتھی سیاست کا شکل پیش کرکے انہیں دھوکہ دے کر بلوچ قوم کے جذبات اور احساسات کو مجروح کرکے پاکستانی کی 60سالہ مسخ تاریخ کو بلوچ قوم کی شاندار اور عظیم تاریخ اور شجرہ پر تھونپنے کی کوشش کی اور بلوچ قومی غلامی کو طول دینے کے لئے ریاستی گماشتگی پر مبنی کرپٹ پولیٹیکل کلچر سامنے لایا جو کہ شہدائے بلوچستان اور آزادی کی فکر سے غداری ہے جب کہ2000 میں ایک دفعہ پھر بلوچ نوجوانوں نے شہدائے بلوچستان کے جدوجہد کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے قبضہ گیر اور ان کے مقامی گماشتوں کے لئے چیلنج بن گئے جس سے ریاست حواس باختہ ہوکر آزادی کے لئے برسر پیکار کئی سپوتوں کو شہید کیا یہ سلسلہ جاری ہے ہزاروں مغوی بلوچوں کی بازیابی لاشوں کی صورت میں ہمیں دی جارہی ہے ایک شہید کی قبر کی مٹی ابھی تک خشک نہیں ہوتی کہ ایک اور بلوچ سپوت کی لاش حوالہ کیا جاتا ہے جو آزادی کی تحریک سے قبضہ گیر کی خوف کی نشاندہی ہے کیونکہ مزاحمت جدوجہد اور قربانیاں یہ قوموں کو کمزور نہیں کرتے بلکہ مزاحمت طاقت اور توانائی فرائم کرتاہے قومیں اپنی مستقبل اپنی ہی جدوجہد اور عمل سے تشکیل دیتے ہیں

Previous post

سندھ کے علاقہ گھوٹکی میں بلوچ مہاجریں کی گھروں پر حملہ حاصل بگٹی اور اس کی ضعیف العمر والدہ ا اور بلوچ ایکٹوسٹ صادق علی جمالدینی کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اغوا ء ا ور شمع بگٹی کے والد اور بھائی کی قتل ریاستی دہشت گردی ہے بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ

Next post

شہید ورنا نوروزخان احمد زئی اور شہید پروفیسر عبد الرزاق موسیانی کو انکی قومی شہادت قربانیوں اور بے لوث جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلوچستان انڈیپنڈنس موومنٹ