شہدائے تراتانی کے قربانی خلوص اور لہو سے آزادی کی تحریک کی آبیاری ہوئی ہیں اگر چہ آج ہم قومی آزادی کی جدوجہد میں ان کی جسمانی کمی محسوس کررہے ہیں لیکن ان کی سوچ فکر علم اور شعورء آزادی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شہدائے تراتانی شہید اکبر خان بگٹی شہید خمیسہ خان مری اور محاذپر شہید ہونے والے دیگر قومی شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہدائے تراتانی کے قربانی خلوص اور لہو سے آزادی کی تحریک کی آبیاری ہوئی ہیں اگر چہ آج ہم قومی آزادی کی جدوجہد میں ان کی جسمانی کمی محسوس کررہے ہیں لیکن ان کی سوچ فکر علم اور شعورء آزادی ہمارے لئے مشعل راہ ہے غلامی کے اس گہرے پاتال اور زلت میں ان کی قربانی جفاکشی اور ایثار ہمارے لئے روشنی کی کرن بن کر ہماری رہنمائی کررہی ہے ترجمان نے کہاہے کہ شہید اکبر خان بگٹی پیرانسری اور ضعیف العمری میں آزادی کی راہ پر چل کر تحریک آزادی کے لئے قوت طاقت کا سبب بنی ان کا کردار تحریک میں ایک سنگ میل ہے شہدائے تراتانی ہمارے قومی سرمایہ اور ان کا کردار قابل فخر اور تاریخی ورثہ ہے انہوں نے ہماری آزادی اور بہتر مستقبل کے لئے جن تکالیف اور مصائب سامنا کیا اور اپنی آخری سانس تک بلوچ دھرتی کے لئے قربان کیا انہیں خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی یاد تازہ کرنے بہتریں طریقہ ان کی عظیم راستہ سے وابسطگی اور ان کے ادھورے ارمانوں کی تکمیل ہے
ترجمان نے کہاکہ آذادی بے پناہ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے قربانی اور شہادتیں تحریکوں کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لئے ایندھن کا سبب بنتی ہے اگر قربانیوں کے بغیر کسی قوم کو آزادی ملتی تو آج دنیا کے آزادی کی تحریکیں خون آلود نہیں ہوتے ہندوستان کو گاندھی کے اہنسا نے آزادی نہیں دی بلکہ اس کی آذادی ایک طویل جدوجہدکی مرہوں منت ہے تر جمان نے کہاکہ ریاست اور ان کے ہم پلہ پارلیمانی جماعتیں جہد آذادی میں ہونے والے ان نقصانات کو لے کر آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کرتے ہوئے ریاستی قبضہ کو تحفظ دینے کے لئے عوام کو مختلف فارمولوں سے ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انسانی ارتقاء اور جدوجہد کی سائنس نے تاریخ کی کسوٹی پر یہ ثابت کرچکاہے کہ با مقصد جنگیں قوموں کو غلامی کی زلت اور غلامی سے پیداہونے والے زہنی معاشی سیاسی اور معاشرتی پسماندگیوں سے نکال کر ایک باوقار ترقی یافتہ خوشحال اور آزاد وخود مختار قوم ثابت کرنے میں مددگار ہوتے ہیں ترجمان نے کہاکہ آج بلوچ تحریک آزادی کی عالمی سطح پر پذیرائی بلوچ شہداء کی قربانیوں اور کمیٹڈ قوم دوست ساتھیوں کی بہتریں سفارت کاری سے ممکن ہو ا ئے چند سال بیشتر ریاستی خیمہ بردار قومی جدوجہد کو چند نوجوانوں سے منسوب کرکے انہیں ریاست اور ان کی باج گزار وں کی جانب سے اوباش اور جذباتی نوجوان قرار دیاجاتا تھا آج وہی سوچ بین الاقوامی پذیرائی کے ساتھ ایک منظم تحریک بن کر ریاست کو مشکلات سے دوچار کرکے ان کے نوآبادیاتی حربوں کو کمزور کرچکاہے ریاست اپنی تمام تر بڑھکوں کی باوجود بلوچ تحریک کو زیر کرنے میں ناکام ہوا ہے یہ انہی قربانیوں اور جہد کاساتھیوں کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے جو آج ریاست کے لئے درد سر بن چکی ہے جن نوجوانوں کو ریاست جذباتی قرار دیکر بلوچ قومی موقف اور تاریخی عمل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی آج انہی نوجوانوں نے اپنے لہو اور قربانیوں سے ریاستی قبضہ کو بے نقاب کرکے قوم کے ہیرو اور رہنماء کا درجہ حاصل کرچکے ہیں ترجمان نے کہاکہ شہدائے تراتانی ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہے ان کی قربانیوں کے مقصد کو لے کر ہمیں قومی آزادی کے لئے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے کار لاکر اصول یکجہتی کو فروغ دیکرتحریک میں موجود گروہی رویہ شخصیت پرستی ہیروازم خودنمائی سیاسی برتری اور اجارہ دارانہ سوچ کی بیخ کنی کرنی چکی ہے ان رویوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر آزادی کے منطقی اصولوں کے تحت جدوجہد شہداء کے مقصد آزادی سے بہترین وابسطگی کا اظہار ہے


