شہید ء کندیل استاد صباء دشتیاری آجوئی کی تحریک میں نظریاتی استادکی طورپر ایمانداری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ آزادی اور نیشنلزم کی دفاع اور ترویج کے لئے کام کیاان کی بے بہا خدمات یاد رکھی جائینگی۔بلوچ سالویشن فرنٹ
1.6.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ شہید ء کندیل استاد صباء دشتیاری راجی آجوئی کی تحریک میں ایک نظریاتی استادکی طورپر ایمانداری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ آزادی اور نیشنلزم کی نظریات کی دفاع اور ترویج کے لئے کام کیاان کی گرانقدر اور بے بہا خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائینگی جنہوں نے تمام تر ریاستی دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود جدوجہد کے لئے انقلابی اور نظریاتی باسک اور کیڈر پیدا کئے انہیں ان کی غیر متزلزل کردار اورغیر معمولی قربانیوں اور قومی شہادت پر خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ترجمان نے کہاکہ صباء دشتیاری جیسے زانت کا ر اور انقلابی استاد کا خلاء صدیوں تک پر نہیں ہوگا جنہوں آزادی اور انقلاب کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھ کر بلوچ نوجوان زہنوں کا نظریاتی معیار بڑھانے اور انہیں آزادی کے صفوں میں شامل کرنے کو اپنا فرض عین سمجھتے ہوئے خلوص کے ساتھ اپنی علمی سیاسی و ادبی کاوشوں کو بروئے کار لاکر مسلسل آزادی کے پوائنٹ پرڈٹے رہے ان کی فکر و فلسفہ کی روشنی راہ آزادی کے لئے مشعل کی حیثیت رکھتے ہیں ترجمان نے کہا کہ شہید صبا دشتیاری کا کردار اور جدوجہد بلوچ سماج کے ان ادیبوں سے بلکل الگ اور منفرد ہے جو ادب اور زانت کے نام پر بلوچ اور ریاست کو لازم و ملزوم قرار دیکر علم اور زانت کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں بلوچ ادباء کو صباء دشتیاری جیسے استاد اور زانت کار کی کردار اور عمل سے رہنمائی لینی چاہیے انہیں ان کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو ریاستی دھونس و دھمکیوں کے باوجود آزادی کا راستہ نہیں چھوڑا اور اسی راہ عمل میں اپنی جان قربان کی جو ان کی علم زانت اور ادب سے والہانہ محبت کا ثبوت ہے وہ زانت اور ادب کی حقیقی روح کے ساتھ وفاء کرتے ہوئے دنیا کے نامور ادیبوں کی فہرست میں اپنی نام تاریخ کے سنہرے الفاظ میں شامل کروایاان کے نام اورآخری یادگار ہزاروں سال تک لوگوں کے لئے عقیدت اور احترام کا باعث بنے گی ترجمان نے کہاکہ شہید صباء دشتیاری اپنی علمی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانو ں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت و تعلیم دیکر آزادی کی جدوجہد کی طرف راغب کیا جس کی وجہ سے رد انقلابی اور مصلحت پسند روایتی پارٹیوں کے حوصلہ پست ہوگئے ان کے حلقوں میں شدید اضطراب اور بے چینی پھیل گئی نوجوان ان کے صفوں سے نکل کر آزادی کی عملی جدوجہد کی طرف گامزن ہوگئے جبکہ صباء دشتیاری ہر لمحہ اور ہر مقام پر جہد آزادی کے صفوں میں بلوچ عوام کے شانہ بشانہ رہیں ان کی مثالی کردار سے بلوچ تحریک آزادی کو نہ صرف نظریاتی سنگت اور باسک ہاتھ آئے بلکہ تحریک کو نئے خون شکتی اور توانائی مل گئی ترجمان نے کہاکہ ان کی اس عمل پر ریاستی اداروں میں کھلبلی مچ گئی اور اور ریاست کی نفسیاتی گراوٹ میں میں مذید اضافہ ہوا اسلئے انہیں راستہ سے ہٹایا گیا ریاست یہ سمجھتی تھی کہ انہیں راستہ سے ہٹاکر آزادی کے لئے اٹھنے والے انقلابی ابھار کو ماند کریگی لیکن صباء دشتیاری کی محنت و خلوص علم اور سچائیوں سے ہزاروں نظریاتی ساتھی اس راہ میں آزادی کی جدوجہد کو اپنے بے لوث قربانیوں سے غیر متزلزل کردیا ہے


