شہید بابو افتخار اور شہید مقبول بلوچ کی لازوال قربانی اور بے مثل شجاعت کھبی نہ بجھنے والی مشعل آزادی کی مانند آنے والے بلوچ نسلوں کو وطن کی مٹی حرمت اور دفاع پر قربان ہونے کا راستہ دکھاتی رہے گی بلوچ سالویشن فرنٹ
8.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے شہید بابو افتخار اور شہید مقبول بلوچ کوان کی عظیم شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ان کی لازوال قربانی اور بے مثل شجاعت کھبی نہ بجھنے والی مشعل آزادی کی مانند آنے والے بلوچ نسلوں کو وطن کی مٹی حرمت اور دفاع پر قربان ہونے کا راستہ دکھاتی رہے گی ترجمان نے کہا ہے کہ شہدا ء ہماری قومی ہیرو ہے ان کی غیر معمولی قربانی اور جفاکشی نے آزادی کے منزل کو قریب تر کردیا ہے شہداء نے جس راہ عمل کا تعین اپنے لہو کی قیمت پرکی آج ہزاروں بلوچ باسک اسی راہ آزادی پر چل کر شہداء کے عظیم مشن میں شامل ہوکر غلامی جیسے حیوانی نظام کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ترجمان نے خضدار کے علاقہ سے مینگل قبیلہ سے تعلق رکھنے والے تین بلوچ فرزندوں کے اغواء کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کے متوالوں کو چن چن کراغواء اور شہید کیاجارہاہے ماس کلنگ ، مارو اور پھینکو کے ان کاروائیوں کے پیچھے قابض ریاست کی کاؤنٹر انسرجنسی کے پالیسیاں مضمر ہے ترجمان نے کہا کہ نام نہاد پاکستانی الیکشن کو مقبوضہ بلوچستان میں قابل عمل بنانے کے لئے ریاست اپنی باجگزار پارٹیوں کے مجرمانہ فارمولوں پر عمل پیر اہوکر سفاکی اور درندگی کی انتہا ء کررہی ہے گزشتہ ایک ہفتہ میں سات سے زائد مغوی بلوچ جہد کار وں کو شہید کرکے ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکی گئی جبکہ کئی بلوچ نوجوانوں کو اغواء کردیا گیا ہے ترجمان نے کہا ہے بلوچ آزادی کی تحریک اور بلوچ جہد کاروں کی بے لوث اور انتھک جدوجہد نے دشمن کو نفسیاتی شکست سے دوچار کر کے ان کی تمام اداروں کو غیر متحرک اور غیر فعال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حاشیہ بردار پارٹیوں اور تنظیموں کے الیکشن کمپیئن اور تنظیم کاری کو بری طرح متاثر کردیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بلوچ آزادی کے تحریک کی بین الاقوامی پزیرائی اور انٹرنیشنل کمیونٹی کے بلوچ تحریک آزادی کے وسیع پیمانے پر حمایت نے پاکستانی ریاست کے ہوش اڑادیئے ہیں ترجمان نے کہا کہ دوفریقی گیس پائپ لائن معائدہ اور گوادر پورٹ کو چین کے انتظامی کنٹرول کی بابت بلوچ موقف کی عالمی پزیرائی اور بلوچ نسل کشی اور قتل عام سمیت مسخ لاشوں کے حوالہ سے پاکستانی ملٹری دستوں کی براہ راست ملوث ہونے کی تصدیق نے عالمی سطح پر قابض ریاست کی مورال کو گرادیا ہے جب کہ قابض ریاست کا بھیانک اور مکروہ چہرہ عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے


