شہید رحمت اللہ شاہیں بلوچ وطن موومنٹ کے سنٹرل کمیٹی کے رکن تھے بی آرپی کی جانب سے اسے اپنی ممبر ظاہر کرنا درست نہیں۔ بلوچ وطن موومنٹ
3.4.2014
بلوچ وطن موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ شہید سنگت رحمت اللہ شاہیں بلوچ وطن موومنٹ کے سنٹرل کمیٹی کے رکن تھے بی آرپی کی جانب سے اسے اپنی ممبر یا رہنماء ظاہر کرنا درست نہیں وہ اپنی شہادت سے دوہفتہ قبل بلوچ وطن موومنٹ میں شامل ہوگئے تھے جسے پارٹی صدر نے اپنے صوابدید اختیارات کے تحت اور پارٹی دوستوں کی مشاور ت سے پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کے لئے ممبر چناء ترجمان نے کہاکہ شہید رحمت اللہ شاہیں کھبی بھی بی آرپی سے وابسطہ نہ رہے بلکہ بنیادی طور پر بی ایس او متحدہ کے سنٹرل کمیٹی کے رکن رہے اور بعد ازان بی ایس او سے فراغت کے بعد بلوچ نیشنل موومنٹ میں شامل ہوگئے اور بی این ایم کے مرکزی کونسلر بھی رہے لیکن بلوچ نیشنل فرنٹ کو تقسیم اور توڑنے کے بعد انہوں نے بی این ایم سے اختلافات کے باعث الگ ہوگر بلوچ وطن موومنٹ میں باقائدہ شمولیت اختیار کی اسے بلوچ نیشنل فرنٹ کے تقسیم پر شدید تحفظات تھے ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں بی آرپی کی جانب سے اس کے برسی منانے کے حوالہ سے ایک اخباری بیان میں اسے بی آرپی کا ممبر ظاہر کیاگیا بی آرپی کے جانب سے شہید رحمت اللہ شاہین کے ممبرشپ دعوی میں کوئی حقیقت نہیں اور دوسری طرف شہداء کی برسی کے حوالہ سے جملہ بلوچ شہدائے آزادی کی برسی منانے کے لئے 13 نومبر کا دن ایک تاریخی اور زمینی صورتحال کے پیش نظر قومی فیصلہ ہے بی آرپی شہداء کی الگ الگ برسی مناکر نہ صرف13نومبر شہداء ڈے کی خلاف ورزی کررہی ہے بلکہ غیر آئینی طریقوں سے بی ڈبلیوایم کے رکن ساتھیوں کو اپنی ممبر ظاہر کررہی ہے ترجمان نے کہا کہ شہداء کسی ایک پارٹی کی پراپرٹی یا میراث نہیں ہوتی تمام شہداء آزادی کے عظیم مقصد سے منسلک ہوکر اپنی زات اور انا سے بالاتر ہوکردشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور غلامی کے بجائے شہادت کو ترجیح دی کوئی بھی پارٹی شہداء کو یاد کرسکتا ہے لیکن کسی دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے منسلک شہداٗ ء کو کسی دوسرے پارٹی کے ممبر ظاہر کرنا پارٹی ضابطہ اخلاق کی اصولوں کی خلاف ورزی ہے ترجمان نے کہاہے کہ ہماری پارٹی نے 13نومبر شہداء ڈے پر متفق ہے تمام شہداء کی برسی صرف ایک ہی دن منائی جاتی ہے باقی شہداء کے حوالہ سے صرف بیان جاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں ترجمان نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچ نوجوان اور سرگرم آزادی پسند رہنماء قلمکار اور صحافی اور مزاحمتی و انقلابی شاعر زانت کار رحمت اللہ شاہیں کو جب شہید کیا گیا تو بی این ایم اور بی ایس او آزاد کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی بھی سطح پران کی قومی خدمات اور قربانیوں کے حوالہ سے شہیدآجوئی کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی شہادت اور قربانیوں کی قدر کرنے کے بجائے بی این ایم اور بی ایس او آزادا کی جانب سے نجی سطح پر یہاں تک کہہ دیا گیا کہ وہ بلوچ وطن موومنٹ کا ممبر اور میر قادر کی ہمرائی ہے ہم ان کی شہادت پر کیوں افسوس کریں شہداء کو پارٹیوں علاقون اور گروہی میں تقسیم کرنے والے اور باٹننے والے آج کس منہ سے شہداء کی وارث ہونے کا دعوی کررہے ہیں جبکہ شہید واحد بالاچ کے بقول جب ہم نے زاھد کرد کے سامنے رحمت اللہ شاہیں کی شہادت کے حوالہ سے زکر کیا اور بیان جاری کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے ایک افسوس ناک جملہ کے ساتھ کہاکہ وہ تو میر قادر کا سنگت ہے ہم ان کے بارے میں کیوں بیان دیں پارٹی ترجمان نے کہاکہ پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ بلوچ وطن موومنٹ کے سیکریٹری جنرل شہید غلام اللہ بلوچ شہید نثار مینگل اور شہید رحمت اللہ شاہیں بلوچ وطن موومنٹ کے پلیٹ فارم سے آزاد بلوچستان کے عظیم مقصدکے لئے شہید ہوگئے ان کی فکراور فلسفہ کی روشنی اور پاسداری میں پارٹی آزادی کے حصول کے لئے ان کی حوصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جدوجہد کررہی ہے


