شہید غلام اللہ بلوچ شہید علی شیر کردشہدائے عالمو چوک شہید علی محمد لانگو اور ان کے دیگر ساتھی شہداء کو خراج تحسین آزاد بلوچ ریاست کی قیام اور تشکیل کو ناگزیر سمجھتے ہوئے عالمی دنیا بلوچ قومی موقف کی غیر مشروط حمایت میں سنجیدہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
10.10.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں شہید غلام اللہ بلوچ شہید علی شیر کردشہدائے عالمو چوک شہید علی محمد لانگو اور ان کے دیگر ساتھی شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہداء کے انتھک جدوجہد اور غیر معمولی قربانیوں سے آزادی کی تحریک آج عالمی سطح پر پزیرائی اور تائید حاصل کرچکی ہے آزاد بلوچ ریاست کی قیام اور تشکیل کو ناگزیر سمجھتے ہوئے عالمی دنیا بلوچ قومی موقف کی غیر مشروط حمایت میں سنجیدہ ہے بلوچ آزادی کی تحریک کے بین الاقومی حمایت نے ریاست اور ان کے باج گزار وں کی نیندیں حرام کردی ہے ترجمان نے کہا کہ شہداء کا خون ضائع اور بانجھ نہیں جو لوگ اپنی زات اور زندگی سے بالاتر ہوکر اپنی مقصد کو ہر چیز پر اولیت اور اہمیت دیتے ہیں ان کے لئے ان کے لئے جان قربان کرنا کوئی بڑی بات نہیں ترجمان نے کہاہے کہ خاران میں ریاستی جارحیت کاؤنٹر انسرجنسی کا تسلسل ہے ریاستی فورسز طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی طرح بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنارہے ہیں خاران واقعہ جاری ریاستی جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے ریاست بلوچ آبادیوں کو نشانہ بنانے اورخونریزی کے گھناؤنے تسلسل میں شدت لاکر بلوچ سوسائٹی اور سماج میں خوف اور انتشار پیدا کرنے کے لئے ایک نفسیاتی حربہ استعمال کر رہاہے لیکن بلوچ آزادی کے لئے بڑھنے والوں قدموں کو روکنے کی بھونڈی اور مجرمانہ ریاستی کوششیں بے سود ہوچکی ہے کیونکہ بلوچ عوام ذہنی طور پرتیار اور فکر و شعور سے لیس جدوجہد کررہے ہیں ان کی کمٹمنٹ اور پختہ ارادوں کو نہ مسخ لاشیں متاثر کرتی ہے اور نہ کوئی اور ریاستی حربہ ان کی قدموں میں لغزش پیدا کرسکتی ہے آزادی کے حصول کے لئے نسلوں کی قربانی دی جاتی ہے جدوجہد کے دوران تکلیف دہ مرحلوں کو طے کرکے منزل پر ڈیرہ ڈالا جاتاہے ترجمان نے کہا کہ مڈل کلاس اپنی اوقات کے مطابق ریاست کی باج گزاری اور خدمت میں مصروف ہیں وہ ریاست کے تابعداری میں رہ کر بلوچ قومی آزادی کی موقف کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششوں کے ساتھ نام نہاد پیکجز مراعت اور سہولت کی بھونڈی لالچ کے زریعہ بلوچ عوام کو بہکانے کی نت نئے تاویلیں کررہے ہیں لیکن وہ خیرات کے چند ٹکڑے پھینک کر آزادی کی تحریک اور انقلابی جدوجہد کے بھڑکتے شعلوں کو ٹھنڈا نہیں کرسکتا آواران میں زلزلے میں ریاست کے جانب سے دیئے جانے والے نام نہاد امدادی اشیاء کو جلانے اور ٹھکرانے کے واقعات سے ریاست اور ان کے بی ٹیم کو اندازہ ہونا چاہیے کہ بلوچ عوام کی شعور کا سطع کتنی بلند ہے اوراس تکلیف کے حالت میں ریاست کے بارے میں ان کی رائے اور سوچ کیا ہے اور ان کے قومی شعور کا میعار کتنی بلند ہے ترجمان نے کہا کہ آواران مشکے اور ان کے گرد نواح کے علاقوں میں زلزلے سے جان بحق ہونے والے شہید ڈاکٹر دین محمد کے والدہ اور جان بحق ہونے والے دیگر تمام بلوچ فرزندوں کے خاندانوں سے اظہار یکجتی کرتے ہیں اور ہم ان کے غم کے برابر کے شریک ہیں اس کے ساتھ ہم عالمی اداروں سے بھر پور اپیل کرتے ہیں کہ قدرتی آفت کی صورت میں بلوچ عوام کی بلاروک ٹھوک اور براہ راست حمایت کریں اور اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے زیلی امدادی اداروں اور این جی اوز کے ساتھ بلوچ عوام بھر پور تعاون کریں جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں اور این جی اوز کے مددگاروں کے راستہ میں ریاست رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں جو قابل مذمت اور مجرمانہ عمل ہے اقوام متحدہ پاکستانی ریاست کی زلزلہ مددگاروں کے راستہ میں حائل ریاستی رکاوٹوں کے خلاف فوری ایکشن لے کر ریاست کے خلاف اپنی موقف واضح کریں


