فکرآزادی اور مقبوضہ اقوام بلوچ قومی جہد کے تناظر میں سعید یوسف بلوچ
جب انسانی سماج سائنس اور جدید علم تکنیک سے واقف نہیں تھا فاصلے اتنے سمٹے ہوئے نہ تھے دنیا گلوبل ولیج کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا لیکن تاریخ کے صفحات پر بکھرے غلامی کے فرسودہ نظریات موجود تھے آقا اور غلام کے رشتہ سے لوگ واقف تھے قابض اور مقبوض ایک وسرے سے متصادم تھے
غلامی کے فرسودگی نے انسانی سماج کے ہر عہد کو چائے وہ پتھر کا زمانہ ہویا وہ اکیسویں صدی کا سورج ہو، ہر طلوع ہوتے صبح نے انسانوں کے لہو کو زمین پر بہتے ہوئے دیکھا ہے تاریخ کو اگر آنکھ موندھ کر پڑھی جائے یا پھر کسی درمیانی صفحات کو کانٹ چھانٹ کر پڑھیں۔لیکن تاریخ گزرے ہوئے واقعات سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں تاریخ سے کسی بھی ایسے باب کو حذف نہیں کیا جا سکتا جو تاریخ کے صضحات کے دامن سے جڑی ہوئی کسی قابض کی جبر و استحصال ہو یا کسی مقبوضہ قوم کی انمٹ مزاحمتی جدوجہد ہو
دنیا کی تاریخ میں ہر حملہ آور نے اپنے سے کمزور اقوام کی جغرافیہ وسائل اور وطن پر قبضہ کرکے انہیں اپنا غلام اور مطیع بناکر انہیں اپنی رعیتی اور باجگزاری پر مجبور کرکے ان کے وطنی اور قومی وسائل پیداوار کولوٹ کر اپنے اور اپنی نسلوں کے پیٹ کا چولہابجانے کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اورانہیں اپنی نو آبادی بناکر ان کی تاریخ،زبان، ادب، کلچر، صنعت، علم، معیشت اور شناخت کو مسخ اور برباد کی ہے اور انہیں زندہ رہنے کے لئے صرف اور صرف غلامی کا تحفہ دیا ہے کہ وہ پشت در پشت غلامی کو اپنے لئے عافیت سمجھے اور اسی کو اپنا مقدر سمجھ کر نوشتہ تقدیر سمجھ لے۔ لیکن کوئی بھی مقبوضہ قوم اتنی بے حس نہیں ہوتی کہ وہ غلامی کے کرب نہ جانتا ہو بلکہ ہر عہد میں ایسے مسیحا اور عالم پیدا ہو ئے جو قومی غلامی کی لعنت کے خلاف آزادی کی جدوجہد کی جن قوموں نے آزادی کے لئے جدوجہد نہیں کی وہ بے حس اور کاہل ہوگئے اور ان میں حملہ آوروں کے خلاف دفاعی جدوجہد کے لئے جذبہ اور صلاحیت موجود نہیں رہا غلامی نے ان کی مزاحمتی جوہر کو بانجھ کردیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کرہ ارض سے ختم ہوکر اور نسل در نسل دوسروں کے نو آبادی بننے کی وجہ سے مٹ گئے ان میں ایک بڑی مثال ریڈ انڈین اور ابو رجینزکاہے جو امریکہ کے اصل اور مقامی آبادی تھی جو کولمبس کے آنے سے قبل امریکہ کے مالک تھے کولمبس کے باقیا ت تو آج وہاں موجود ہے لیکن وہ ریڈ انڈینز جو دیسی باشندہ تھے آج وہ کرہ ارض کے نقشے میں الگ قوم و وطن کے طور پر موجود نہیں بلکہ وہ نوآباد کاروں میں ضم ہوکر ختم ہوچکے ہیں۔ لیکن دنیا کے ایسے کئی اقوام ہے جنہوں نے غلامی کے خلاف جدوجہد کی آج وہ دنیا میں آزاد اقوام کے صف میں شامل ہے قوموں کے غلامی کے خلاف تاریخ کے اوراق میں بکھرے ہوئے رہنمائے آزادی کی فہرست پر نظر دوڑائی جائے تو ان میں کیوبا کی آزادی کےحریک میں فیڈرل کاسترو،کوریا کے آزادی کے لئے کامریڈ کم ال سنگ چین کے ماؤزے تنگ ہندوستان کے لئے سبہاش چندر بوس، بھگت سنگھ آزادفریقہ کے لئے نیلسن منڈیلا اور بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے شیخ مجیب آزادی کا پرچم لہرائے ملیں گے۔ افریقہ جو دنیا کے کل آبادی کا 10فیصد ہے جنہیں برطانیہ سمیت بلجیئم اور فرانس نے اپنی نو آبادی بناکران کے قومی وسائل اور پیداوار کو لوٹ کر ان کی زندگیوں کو جس بربریت میں دھکیل دیا تاریخ افریقہ کے روح سوز داستانوں کو ہمیشہ دہراتی رہیگی ہے جو نہ طلسماتی کہا نیاں ہے او ر نہ ہی مافوق الفطرت واقعات بلکہ یہ وہ زمینی حقائق ہے جو برطانیہ حملہ آوروں نے افریقیوں کو اپنا غلام بنا کر ان کے ساتھ گھناؤناکھلواڑ کیا۔ دو صدی قبل ایک کروڑ سے زائد افریقیوں کو غلام بنا کر فروخت کیا گیاان سے ان کی قدرتی زرائع پیداوار چھین لئے گئے حتی کہ غذائی اجناس پیدا کرنے والے امکان اور وسائل کو قابضوں نے اپنی تحویل میں لے لیا افریقہ کے علاقہ زیمبیا اور کا نگو کو یورپی آبادکار گولڈ کوسٹ (gold costیعنی سونے کے ساحل کے نام سے جانتے تھے لیکن سونے کے اس ساحل میں قحط سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے یہ قحط اور غربت زمین کی بانجھ پن سے پیدا نہیں ہواتھا اور نہ ہی قدرتی تھا بلکہ یہ قابض اور امپریلزم کی وجہ سے تھا انگولا اور سوڈان تیل پیدا کرتے تھے لیکن ان کی آبادی ایک وقت کی روٹی کے لئے ترستی تھی افریقہ کی 80فیصد آبادی کا گزارہ زراعت پر تھی لیکن یورپی نو آبادکاروں انہیں ان کی زرعی زمینوں سے بے دخل کرکے انہیں ان کی زمینوں پر بطور مزارعہ رکھ دیا اور انہیں معمولی اجرت پر ان کی قومی وطن اور زمین پر غلام اور مطیع بنایا یہ ہے غلامی کا وہ خاکہ جو رائج کیا گیا تھا یعنی قوموں کو زبردستی غلام بنایا گیا اور ان سے ان کے وسائل چھین کر ان کا قتل عام کیا گیا ان کی زمین جن سے سونا،تیل اور تانبا نکلتی تھی غلامی نے ان کی مقدر میں قحط لکھا یہ اس زمین کا قصور نہیں تھا جس کی مٹی سے وہ جنم لئے تھے اوریہ اس آب و ہوا اور موسم کا قصور نہیں تھا یہ ان کے قدرتی وسائل کا قصور نہیں تھا وہ آبادکاروں کے آنے سے قبل بھوکے نہیں تھے ان کے بچے خالی پیٹ نہیں سوتے تھے یہ وہ مصنوعی غربت ہے جو انہیں غلامی کے شکل میں دیا گیا تھا اس غلامی کا آغاز ایک افریقی مذہبی پیشوا اس طرح قلمبند کرتے ہیں کہ جب عیسائی تبلیغی افریقہ آئے تو ان کے پاس انجیل تھی اور ہمارے پاس زمین انہوں نے کہا کہ آؤ عبادت کریں ہم نے آنکھیں بند کرلیں جب ہم نے آنکھیں کھولیں تو ہمارے پاس انجیل تھی اور ان کے پاس زمین۔ہندوستان ہمارے سامنے ہیں اور ہمارے ہمسائیہ ملک ہیں جب پہلی بار برطانیہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں اپنا ایک تاجر ہندوستان بھیجااور بلٓاخر تاجر کے روپ میں قابض برطانیہ نے صدیوں سے آزاد ہندستاں پر قبضہ کرلیا توجب وہ آئے تو ان کے لئے ہندوستان سونے کا چڑیاتھا اور گئے تو پر ٹوٹا ہوا چڑیا۔۔۔۔
برطانیہ جس کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کی مقبوضہ سلطنت اتنی وسیع تھی کہ ان میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا جب وہ ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے بھیس میں بظاہر تجارت کے داخل ہوا تو انہوں نے ہندوستانی صنعت کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ریشم بننے والوں ہندوستانی باشندوں کی انگلیاں تک کاٹی گئی ہندوستانیوں کے لئے ان کے وطن کو نو گو ایریا بنایا گیا ”کتے اور انڈین“داخل نہیں ہوسکتے جیسے بڑے بڑے سائن بور ڈ جگہ جگہ آویزان کئے گئے یہ ہے حملہ آوروں کی تاریخ جو مختلف شکل میں دوسرے اقوام کے ملک و وطن پر قبضہ کرکے ان سے ان کے تما م قومی اقدار سمیت قومی پیداوار بھی چھین کر ان کے پاؤں میں غلامی کی بیڑیاں ڈال دی گئی۔ چینا جو ہم سے دور نہیں جو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی ہے جاپان کے قبضہ میں تھا آج کا چین اور مقبوضہ چین کا اگر موازنہ کیا جائے تو گمان نہیں ہوتا کہ یہ وہی چین ہے جو ایک وقت جاپان کے قبضہ میں ہوا کرتا تھا جو ماؤزے تنگ کی قیادت میں جا پان سے آزاد ہوا چین جن کی صنعت کاری اور زراعت کئی پشت میں چلی گئی تھی اور جاپان کے رحم و کرم پر زندہ تھی جن کی 80فیصد آبادی ناخواندہ تھا جہاں طب اور صحت کی سہولتین بھی نہیں تھی لیکن وہی چینی جو افیونی مشہور تھے جو ہمیشہ نشہ میں دھت رہتے تھے لیکن ماؤزے تنگ جیسے عظیم استاد اور انقلابی ڈاکٹر چینی نیشنلزم کے زریعہ اس غیر زمہ دار بے حس اور نشئی قوم کو بیدار کرکے انہیں افینیوں سے چینی انقلاب کو جنم دیا اور آزادی حاصل کرلی کامریڈ کم ال سنگ کے اپنے الفاظ میں کہ وہ کہتا ہے کہ ”جب کوریا جاپان کے قبضہ میں تھا تو ہمارے جو مقامی ہنر مند تھیں انہیں جاپان اپنے ہنر مندوں کے برا بر نہیں سمجھتا تھا“ جاپان کورین کو غیر مہذب ناخواندہ اور اس طرح کے کئی القابات سے نوازتے رہے لیکن جب یہی کوریا آزاد ہوا اور کامریڈ کم ال سنگ ان کا پہلا وزیر اعظم بن گیا تو کم ال سنگ کہتا ہے کہ”کئی ممالک نے مجھے پیشکش کی کہ انہیں سواری کے لئے ذاتی موٹر گاڑی دی جائے لیکن اس نے انکار کیا کہ جب تک کوریا کے ہنرمند استاد اپنی ہاتھوں کی بنائی ہوئی موٹرگاڑی مجھے پیش نہیں کریں گے تب تک میں کسی بھی ملک سے گاڈی در آمد نہیں کرتا وہ انتظار کرتا رہا اور جب ”made in koria‘ کی گاڑی کم ال سنگ کو پیش کی گئی تو ان کے اپنے الفاظ میں کہ جب میں سٹرنگ سیٹ پر بھیٹا تھا تو مجھے کوریا کی ماضی اور غلامی کا دور یاد آیا میں نے اسٹرنگ گھماکر اپنے آپ سے کہا یہ گاڑی آزاد کوریاکی گاڑی ہے آزادی کے اس طویل سفر کو طے کرنے میں ہزاروں شہداؤں اور ساتھیوں کی شاندار جدوجہد شامل ہے“ اگر ہم دنیا میں قومی تحریکوں کا مطا لعہ کریں اور ان ادوار کی تہہ میں جا کر دیکھا جا ئے کہ کس قدر مشکلات اور مصائب جدوجہد کے ساتھ مشروط اور ناگزیر طور پر موجود ہوتے ہیں لیکن یہ جدوجہد بانجھ نہیں ہوتی ان کی کھوکھ میں جو تبدیل سرکتی ہوئی محسوس کی جاتی ہے یہ رائیگان اور ضائع نہیں جاتی بلکہ ان کا جوہر ہمیشہ آزادی ہی رہا ہے لینن اپنے سیاسی مجالس میں اکثر ایک روسی کہا وت کا حوالہ دیتا تھا ”کہ زندگی سکھاتی ہے“اور لینن کے اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ سماج سب سے بڑی یونیورسٹی ہے انسان اسی سے سیکھتا ہے جس سماج کی رگ رگ میں غلامی کا زہر بھر دیا گیا ہوجن کے شریانوں کے کھولتے خون میں غلامی کے انجکشن لگادی جائے جنہیں زبردستی غلام اور محکوم بنا کر ان کا ذہنی اور مادی استحصال کیا جائے اپنی ہی آباؤ اجداد کے وطن میں ان کی آزاد پگڈنڈیاں اور راستہ ان کے لئے سر بمہر کی جائیں جن کی باپ دادا ؤں نے ان پر آزادانہ سفر کرتے تھے ان کے علاقوں اور گلیوں میں بندوق تانے غیر نظر آئے اسکولوں میں ان کی تاریخی ہیروں کے نام نہ پڑھائی جائے بلکہ انہیں ایسے لوگوں کی تاریخ پڑھائی جائے جو قبضہ گیر ہے قبضہ گیر کو ان کا ہیرو بنا کر بنا پیش کی جائے تو یہ سب کچھ انہیں سکھاتی ہے بلواسطہ طور پر قابض کا ہر مجرمانہ عمل مقبوضہ قوم کی فطرت اور نفسیات کے متضاد ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے غلامی کے تلخ تجربات سے سیکھتا ہے قابض کے سکول جوسکول نہیں ذہنی غلامی کے اڈے ہوتے ہیں انہیں سکول اور علم کے خوبصور ت نام کا غلاف چھڑا یا جاتا ہے جس طرح زہر کے بوتل پر شہد کا سٹیکر چسپان کرکے زہر کو چھپایا جائے ان کی نام نہاد سکولیں جو اصل میں مقبوضہ قوم کو تعلیم دینے نہیں آتے بلکہ ان کا علمی جوہر نکال پھینک کر ان کی مزاحمتی سوچکو مفلوچ کرنے اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی ابال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرکے اسکولوں کو رد جدوجہد کے طور پر استعمال کی جاتی ہے لیکن غلامی خود سب سے بڑا استاد ہے اور اکثریت نہ تو کتابوں سے سیکھتی ہے نہ تو کالونائزر کی ترتیب دیئے گئے نصاب ظلم اور استحصال کی بھڑکتے ہوئے آگ کو بجھا سکتے ہیں بلکہ قابض کا ہر عمل ہر ظلم وتشدد مقبوضہ سماج کی انقلابی تربیت کرتی ہے کیونکہ تشدد کو مقبوضہ قوم جس برق رفتاری سے محسوس کرتی ہے وہ از خود ظلم و استحصال کے خلاف ایک موبلائزیشن ہے جس قدر تشدد ہو گا اتنا ہی خوف ذہنوں سے نکل جا ئے گا کیونکہ قابض کے ہتھیا ر اور قوت کسی کو دیر تک غلام نہیں بناسکتے اس کے پاس صرف اور صرف ایک آلہ ہوتا ہے وہ ہے خوف وہ ہمیشہ اس کو سماج پر مسلط کرنی کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح ایک ڈکیت اپنی حلیہ اور شکل سے خوف پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس طرح ایک قابض ریاست بھی اپنے حلیہ اور شکل شباہت کو ڈکیت اور بدمعاش کی روپ میں بدل دیتا ہے جب کہ وہ جس قدر بھیانک روپ کے ساتھ آئے گا مقبوضہ قوم کے خام انتقام بھی اسی شدت سے پک کر کندن بن جاتا ہے پھر ان کی خیالات انہیں مصالحت کے بجائے مزاحمت کے لئے آمادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ توپ و ٹینک کسی قوم کی آزادی کو ابھرنے سے نہیں روک سکتے۔ اور آج پاکستانی ریاست جس کو اپنی نام نہاد ایٹمی پاور پر بڑے ناز ہے لیکن ان کی یہ ایٹمی قوت بلوچ آزادی کی جدوجہد کے سامنے جھاگ کی طرح بھیٹی ہوئے ہیں وہ اکتاہٹ اور بے یقینی کا شکار ہیں ان کا مجموعی تجزیہ اور پرکھ ان کی مائنڈ سیٹ کے ذہن میں یہ بات بھٹائی ہے کہ ابھرتے ہوئے آزاد ی کی جدوجہد کو ریاستی تشدد اور تشدد کا بدلتا ہوا مختلف اور بھیانک روپ نہیں روک سکتا آج بلوچ جہد آزادی نے پاکستانی ریاست کو اس نہج پر پہنچایا ئے کہ ان کی مصنوعی حاکمیت کو بلوچ وطن میں زندہ رہنے کے لئے ایندھن نا کافی ہے ان کی معاشی، فوجی اور تکنیکی طاقت بے بس اور شکست خوردگی کی حالت کو پہنچ چکی ہے عالمی دنیا نے بھی ان کوغیر فطری،ناکام اور دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے ان کے اندر انتشار افرا تفری اور ہر طرف بربادی بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں ان کی ریلوے کی حالت یہ ہے کہ ہر پندرہ میل بعد ان کے انجن تبدیل کی جاتی ہے بولان کے پہاڑی ریلوے ٹریک ریل کے انجن ڈبوں کو کھینچنے سے جواب دے چکے ہیں آج اس حالت پر پاکستانی ریاست آ پہنچا ہے یہ جدوجہد کی مرہون منت ہے کیونکہ کوئی بھی قبضہ کرتا ہے تو وہ طاقت آزمائی کرتا ہے اس لئے ہاتھ باندھ کر چپ رہنے سے کسی کو بھی آزادی نہیں ملتی تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر نظر آتی ہے کہ بغیر جدوجہد کے کوئی بھی قوم آزاد ہوا اور جدوجہد نہ کرنے کامطلب غلامی کو مضبوط کرنے کی سوا کچھ نہیں اس لئے قومی غلامی کے خلاف ہر عہد میں اور ہر غلام قوم نے جدوجہد کی آج اگر تاریخ کے افق پر نظر دوڑائی جائے تو صدیاں بیت گئے ان لوگوں کے نام آج بھی اسی احترام کے مستحق ہے جس طرح وہ اپنے اقوام کے لئے ہیرو اور لیڈر کے طور پر سامنے آئے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے غلام مردہ اور کاہل اور توہم پرست سماجوں کے لئے مسیحا اور پیغمبر کے روپ میں آئے اور انہی اقوام کو منظم کرکے ان کی صف بندی کرکے
ان میں جرائت پیدا کرکے انہی کے زریعہ انہیں آزادی سے ہمکنار کیا دنیا میں جہاں کہیں بھی آزادی کی جدوجہد اور انقلاب ہو وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے
ہم اس میراث کو فراموش نہیں کرسکتے کیونکہ ہر جہد آزادی اور انقلاب اپنی تجربات اور علم کو ہم پر منتقل کرتی ہے اور جتنا زیادہ ہم انقلابی لٹریچر سے استفادہ کریں گے اتنی زیادہ ہمیں دشمن کی بزدلی کا ادراک ہوگا کیونکہ طاقت ور ہمیشہ بزدل ہوتا ہے اور اپنے اس بزدلی کو چھپانے کے لئے وہ ہمیشہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتا ہے کیونکہ ان کا قبضہ خلاف ورزی کی بنیاد پر ہوتی ہے اسلئے وہ اپنے ہر جرم کو چھپانے کے لئے پے درپے جرم کرتا ہے لیکن اس کے بدلہ میں جو مقبوضہ قوم ہے جرم نہیں کرتا گناہ نہیں کرتا نہ ان کی کوئی بھی عمل تخریب ہے بلکہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اس غلامی کی حالت کو تبدیل کرتا ہے وہ جدوجہد کے زریعہ اپنے مستقبل کو تخلیق کرتا ہے جس طرح آج بلوچ قوم اپنی جدوجہد کے زریعہ اپنی آزادی کی تخلیق کررہی ہے کیونکہ بقول پاؤلے فریرے آزادی کوئی طلسماتی یا دیو مالائی خیال نہیں بلکہ آزادی انسانی عمل کا جوہر ہے آج اگر دیکھا جا ئے تو بلوچ جدوجہد کو روکنے کے لئے ریاست نہ صرف بندوق کے زریعہ دہشت گردی اور بدمعاشی کررہی ہے بلکہ ایسے سیاست دانوں اور نام نہاد دانشوروں کی بھی منڈی لگ چکی ہے جو خو د کھل کر اپنے آپ کو ریاست کے دلال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اور بار بار قابض ریاست کو قبضہ کی ضمانت دینے کے لے بلوچ آزادی کے موقف کو بلوچستان مسئلہ بناکر پیش کرتے ہیں اورچند رشوت اور مراعات کے عوض یہ لوگ پریس، نجی اجلاسوں اور پبلک کارنر میں جا کر بھی ریاست کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں قابض کی طاقت کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد کو کچل دیگا کھبی مفاہمت کی اختراح گھڑتے ہیں اور کھبی بلوچستان کی حالات نو ریٹرن کی بات کرتے ہیں اور بعض اوقات بلوچ جدوجہد آزادی کو 2005کے حالات سے تشبیہ دیتے ہیں کھبی نوجوان رضاکار ساتھیوں کو اوباش اور جذباتی کہتے ہیں اور کھبی حق خودارادیت وغیرہ کھبی ملاء ازم کے زریعہ اسلامی ملک جیسے مفروضہ کے نام سے پراپیگنڈے کرتے ہیں یہ سارے پروپیگنڈے جنہیں بلوچ رائے عامہ سمیت بلوچ محاز آزادی نے دو ٹوک مسترد کیا ہے یہ ریاست اور ان کے خیمہ برداروں کے شکست خوردگی کی اعتراف ہے جو اپنے زوال پزیری اور ناکامی کو چھپانے کے لئے جواز کے طور پر گھڑتے ہیں
مزکورہ سیاسی پاکٹز جو ہمیشہ قابض کی دائیں جیب میں ہوتے ہیں اوروہ ہرصورت سے ایک دوسرے کے جسم کی سر دھڑ ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کو کچھ لو اور زیادہ دو کی بنیاد پر سپورٹ کرتے ہیں اور قابض ریاست عقب میں اپنی طاقت آزمائی اور وحشیانہ پن کوبھی برا بر جاری رکھتا ہے بلکہ وہ اپنی بد معاشی اور دہشت گردی میں کئی گنا ہ اضافہ کرکے دوطرفہ تشدد کا سلسلہ جا ری رکھتا ہے جو ایک طرف بندوق سے اور دوسرے طرف غیر مسلح سلسلہ تشد د کو جاری رکھتا ہے جس کے لئے وہ ان پارٹیوں کو سستے قیمت پر استعمال کرتا ہے یہ ان کے لے خاموش دستے کا کام کرتے ہیں گوکہ ان کا اس طرح سے آزادی کی جدوجہد کو دبانے کا تخمینہ اور اندازہ غلط نکلتاہے اور تحریک کے دوران تو کھبی بھی ان کے اور ان کے سستے کارندوں کے لئے صورتحال کھبی بھی ساز گار نہیں ہوتا اسلئے وہ تشد د کو تیز کرتا ہے اور اس کی مثال بلوچ نوجوان کی مسخ شدہ لاشیں ہے جو قابض پنجاپی ریاست کے دہشت گردی اور وحشیانہ پن کو ظاہر کرتے ہیں ساڑھے چار سو کے قریب بلوچ نوجوان، دانشور، شاعر، ادیب ،گلوکا ر، جہدکار، قلم کار، آزادی کے معلم، بلوچ سکلڈ اور ہنرمند افراد کی حراستی قتل اور آزادی کے سپوتوں کی قتل عام شامل ہے قتل شہادت کے بعد ان کی سینوں کو گولیوں سے چھلنی کرنا انہیں ویرانو ں میں پھینکنا ان کے ہاتھ پاؤں توڑنا ان کے جسم پر تیزدار آلہ سے مخالف نعرے اور سلوگن لکھنا جو ان کی بوکھلاہٹ اور وحشت کا ایسا اظہار ہے کہ اگر دیگر نو آبادیاتی حملہ آوروں کی جنگی جرائم کا بھی مطالعہ کریں جس میں انگریز کا ہندوستاں اور افریقہ میں جرمنوں کی درندگی بھی قابض ریاست کے دہشت گردی کے سامنے ہیچ نظر آئیں گے ہزاروں بلوچوں کو لاپتہ کرنا فائرنگ اسکواڈ کے زریعہ ان کو شہید کرنا گاؤں کے گاؤں کو آگ لگا کر بھسم کرنا، بلوچ آبادیوں کو ہراسان کرنا آئے روز چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھنا عورتوں بچوں او بوڑھوں کو زندہ آگ کے الاؤ میں ڈالنا بلوچ رہائشی مکانات کو بلڈوز کرنا فضائی بمباری اور کارپٹ بمنگ کے زریعہ ہزاروں بلوچوں کو شہید کرنا زہریلی اور کیمیائی ہتھیاروں کو فضاء میں چھوڑنا بلوچ آزادی کے سپوتوں کو اغواء کرنا اور انہیں ٹارچر کرنے کے بعد شہید کرنا کئی کو مفلوج کرکے چھوڑدینا، انہیں سلوپوائزن دینا بلوچ عورتوں کا اغواء کرنا، خالی ہاتھ منظر عام بلوچ جہد آزادی کی کارکنون کو شہید کرنا جلسوں اور ریلیوں پر بم پھوڑنا یہ ریاستی دہشت کی ایسی مثالیں ہیں جو انگریزوں کے جلیانہ والاباغ اور ویت نام میں امریکی دہشت گردی سے بھی کئی گناہ زیادہ ہے اس کے علاوہ معاشی اور سیاسی قتل عام الگ ہے جن کا ذکر میں نے اس سے پہلے کے پیرگرافوں میں کی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے دہشت گردی کے پیچھے ریاست کی مجرمانہ سوچ کیا ہے؟ جو اس قدر تشدد پر اتر آئی ہے اور اس زاویہ سے وہ بلوچ قوم کی نسل کشی کیوں کررہاہے؟ اس کا جواب سادہ اور آسان ہے کہ وہ بلوچ قوم کو جھکانے اور غلام بنانے کے لئے یہ پست عمل کررہا ہے کہ بلوچ اس کا دائمی ماتحت اور غلا م بن جا ئے اور وہ اس غلامی کو اپنے زندہ رہنے کے لئے بطور ایندھن استعمال کرے کیونکہ بلوچ کے قوم کے پاس بیش بہا وسائل ہے۔بلو چ ایک امیر ترین خطہ کا مالک ہے بلوچ کے پاس جو زمین کا رقبہ ہے وہ دنیا کے ایک سو گیارہ ممالک کے پاس بھی اتنا وسیع عریض رقبہ نہیں بلوچ تیل اور گیس کا مالک ہے بلوچ کے پاس اتنا وسائل ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ اور امیر ممالک بھی اس کی محتاج بن سکتے ہیں بلوچ گلزمین کے سینے میں اتنی وسائل مدفن ہے کہ یہ دنیاکے لڑکھڑاتے ہوئے معیشت اور ڈوبتی ناؤ کو آکسیجن دیکر ان کی سانس میں سانس ڈال کر انکی زندگی کو بچانے کا سبب بن سکتی ہے اس لئے وہ ان سب کا مالک بلوچ قوم کو آج اپنے تشد د اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے تاکہ بلوچ آزاد نہ ہو اور وہ بلوچ سرزمین کا مصنوعی وارث بن کر دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر مملکت بلوچ کو اپنی جغرافیہ کا حصہ ظاہر کرکے اس کے نام پرعالمی دنیا کے ساتھ سودا گری اور لوٹ مار کرے کیونکہ پنجاپی اور مہاجر جب ہندوستاں سے نووارد ہو کر نام نہاد جھوٹ اور دھوکہ پر مشتمل جس ”دوقومی نظریہ“ کے نام اورتقسیم ہند کی بنیاد پر ایک الگ خطہ کی غیر فطری بنیادیں گھاڑ دی تو ان کے پاس کچھ نہیں تھا صرف ساڑھے چار لاکھ انگریزوں کے رنگروٹ زادے باقیات تھیں نہ ان کے پاس وسائل تھے نہ کہ بڑا رقبہ اور نہ ریاست آج بھی اگر ان کے پاس زراعت ہے تو وہ بھی انڈیا کی مرہون منت ہے اگر انڈیا اپنی پانی بند کرے تو پنجاپ ایک غیر آبا د اور اجڑاہوا کھنڈرات بن کر پتھر کے زمانہ کے ایک ویران علاقہ مین ڈھل کرمٹ سکتا ہے اور دوسری طرف بلوچ وسائل اور تیسری طرف امریکہ کی پراکسی وار کے نام پر انہیں کچھ ملتا رہا ہے خیرات امداد،بھیک اور ہرجائی دوست یا پھر ایک ویشیا پیشہ کے روپ سے بھی ان کے منہ میں ڈالا جا رہاہے لیکن پچھلے ساٹھ سال سے وہ بلوچ وطن کو اپنی معاشی ایندھن کا سب سے بڑے زریعہ کے طور پر استعمال کرتے آرہے ہیں قبضہ اور لوٹ مار سے ملنے والے بلوچ قوم کا سرمایہ ان کے لئے تر نوالہ اور زود ہضم رہا اس لئے وہ بلوچ وسائل کی بے دیغ لوٹ مار کی بلوچ سرزمین کی کوکھ سے پیدا ہونے یہ وسائل جس کے موجودگی میں بلوچ قوم کا ایک ایک بچہ بھوکا سوتا رہا اور پنجاپی اپنی موج مستیوں میں بلوچ وسائل کو پانی کی طرح اڑاتا رہا اگر بلوچ آمدنی کا موازنہ اور پرکھ بلوچ مصنوعی غربت سے کیا جائے تو کیا اس کا حساب اس طرح آتا ہوگا؟ یا اس سے کچھ مختلف، یقینا مختلف۔ آج سمند کنارے بلوچ بھو کاسوتا ہے جو کہ خوراک کا سب سے اہم زریعہ ہے لاکھوں ایکڑ رقبہ کے زمین کا اصلی اور دیسی باشندہ روٹی کے ایک نوالہ کے لئے اپنا خون پسینہ بہاکر بمشکل دووقت کی روٹی حاصل کرتا ہے پانی کے ایک بوند کیلئے ترستاہے جوہڑوں اور تعفن زدہ تالابوں کا پانی پینے پر مجبور ہے چالیس کیوبک فٹ گیس پیدا کرنے والی زمین کامالک بلوچ جو اپنی جنگلات کو بطور چراگاہ استعمال کرتا رہاہے اور آج انہیں بطور ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہے زیر زمین تیل کے دریا بہتے ہیں لیکن اسی زمین کی اوپر غربت اور بیماریوں کا راج ہے بلوچ کے پاس اتنی بڑی زرعی زمین ہے کہ وہ تین کروڑ بلوچ آبادی کی سالانہ گندم کی ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ وہ دوسرے ممالک کو بھیج سکتا ہے لیکن اس کے باوجود بلوچ قوم کو آٹے کے ایک تھیلے کے لئے گھنٹوں لائنوں میں کھڑا کیا جاتا ہے بلوچ دھکے کھا کھا کر بمشکل اپنی بچوں کی کفالت کرتا ہے سونے کی کانوں کی مالک بلوچ آج مزدوری اور نوکری کے لئے دھکے اور ٹوکریں کھا رہا ہے اس کی ذہن میں ریاست نے صرف نوکری کو بھٹادی ہے کہ وہ نوکر بن جائیں مزدور بن جائیں اسے صرف نوکری کے لئے رام کیا جارہا ہے کہ وہ نسل در نسل اسی طرح سر جھاکر غلام بنے پھرے ریاست کے ساتھ اس”مہم“ میں بلوچ ریاستی جماعتیں بھی شامل ہے کہ وہ بلوچ قوم کو سہلانے اور بہلانے کی کوشش کررہے ہیں وہ بلوچ قوم کو لوری دے کر سلا رہے ہیں کہ وہ اس قابض ریاست کا ایک نوکر بن جائیں مزدور بن جائیں اور بلوچ وطن ایک مزدور کیمپ بن جا ئیں اور جب بھی بلوچ آزادی کی بات کرتا ہے یا جنگ میں تیزی آتی ہے تو قابض ریاست فورا نوکریوں کی پیش کش کرتا ہے کہ بلوچوں کو نوکریاں دیں جائیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچ نوکری کے لئے جدوجہد کرہا ہے؟کیا بلوچ لڑ کر اپنی جان نوکری کے لئے دے رہاہے؟کیا یہ غیر منطقی نہیں کہ بلوچ اس سے کہے کہ مجھے نو کر رکھو جو خود ڈکیت ہے جو کوئی حملہ آور بلوچ قومی وسائل پر ڈاکہ ڈال کر بلوچ سے کہے کہ خاموش ہوجاؤ اور نوکری قبول کرو۔؟کیا بلوچ کا خون اس حد تک سفید ہوگیا ہے کہ وہ ایک مالک ہوتے ہو ئے نوکری اور غلامی قبول کرے اور پشت در پشت قابض حکومت کے مشینری کو چلانے کا ایک پرزہ بن کر اسے مضبو ط کرے کیا اس کا حق یہی ہے کہ وہ مشینی انداز میں زندہ رہے دوسرے کے تابع اور ماتحتی مین زندگی گزارےکیا اس کے پاس صلاحیت اور تخلیق نہیں کیا اس کی رگوں میں خون نہیں بہتا؟کیا اسے آزاد رہنے کا حق نہیں غلامی کے اس سانچے کو مضبوط کرنے میں بلوچ ریاستی جماعتیں بھی آباکار کے پست خیال پر رقص کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ کھبی بھی سنجیدگی سے جدوجہد کا حصہ بننے کے بجائے وہ ہمیشہ ریاست کے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں اور بلوچ قوم سے قوم پرستی کا ٹوپی ڈرامہ کرتے ہیں جب کہ ایک طرف قابض اور ان کا نسل بلوچ وسائل کو کاغذ کے ایک کرنسی کی شکل میں لپیٹ کر لوٹتے ہیں اور دوسری طرف یہ سیاسی دستے ان کے قبضہ اور لوٹ مار کو تحفظ دیتے ہیں جو کہ ریاست ان کو اس لوٹ مار میں کچھ حصہ دینے کی شرائط پراپنی حمایت اور دلالی کے عوض منتخب کرتا ہے۔غلامی کا یہ تناظرہم سے تقاضا کرتا ہے ہم اس داغ غلامی کو مٹانے کے خلاف آزادی کی جدوجہد کریں قابض ریاست اور ان کے ٹھگ دستوں کے مصنوعی حاکمیت کو سبو تاژ کریں کیونکہ کوئی بھی انسان غلامی پر اکتفا نہیں کرتا کوئی بھی علم،نظریہ غلامی کا درس نہیں دیتا بلکہ علم سائنس منطق اور،فلسفہ سب آزادی کے لئے تر بیت کرتے ہیں دنیا کی تین تہائی تاریخ انقلابات سے بھری ہوئی ہے جن کا لمحہ بہ لمحہ شہداء کی خون کی آمیزش سے تکمیل پائی ہے کوئی بھی انسان کسی دوسر انسان کے تسلط پر راضی نہیں ہوا کوئی بھی قوم کسی قابض کی دہیو ہیکل وسائل اور طاقت بربریت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی آزادی پر کمپرو مائز نہیں کیا بلکہ ایک ایک قدم سفر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی آزادیوں کی تکمیل کی قربانیاں بھی دیں شہادتیں بھی سامنے آئے لیکن انہوں نے اپنی ارادے اور منزل سے نہیں ہٹے۔۔اور آج بلوچ جدوجہد آزادی بھی ان انقلابی تحریکوں کا ایک تسلسل ہے جنھوں نے سامراج اور قابض کے خلاف اپنی آزادیوں کی دفاع کی ہر جنگ آزادی اٹوٹ طور پر دوسرے اقوام کی آزادیوں کا جنگ کاایک تسلسل ہے یہ نہ صر ف ایک قومی سوچ ہے بلکہ یہ عالم انسان کا فکر اور بین الاقوامی سوچ ہے جو کہ کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے وطن پر قبضہ کرے اس کی وسائل کو ان کی مرضی کے بغیر ہتھیا لئے کیونکہ دنیا کو مربوط کرنے اور عالمی اتحاد کو قائم کرنے کے لئے قوموں نے کچھ ضوابط اور قاعدہ بھی بنائے ہیں ان ضوابط کی خلاف ورزی کا کسی کو بھی اجازت نہیں کہ وہ عالمی اتحاد کے ضوابط کو توڑے اور آج بلوچ وطن جس پر پاکستانی ریاست نے قبضہ کیا ہے اور اس قبضہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنا قطعا دہشت گردی نہیں بلکہ بلوچ جنگ آزادی بیرونی دہشت گردی کو روکنے کے لئے ایک مدافعتی جنگ ہے اور آج بلوچ جو قومی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اور وہ اپنے منطقی نتیجہ حاصل کرنے میں فتح کی جانب گامزن ہے جو بلوچ قوم کو نئی امید دی ہے جو بلوچ قوم کو بوسیدہ غلامی سے نکالنے کے لئے ایک مشعل راہ ہے بلوچ اس جنگ کو اپنی نجات سمجھتے ہیں لوگ صف در صف اس میں شامل ہورہے ہیں ایک لاش گرنے کے بعد دوسرا لاش گرتا ہے لیکن بلوچ کی وابسطگی اپنی تحریک سے ٹوٹنے کے بجائے مضبوط ہورہا ہے بیرونی سرمایہ کار جس للچائی ہوئی ارادوں سے یہاں آئے تھے آج وہ اپنے سرمایہ نکا ل کر جارہے ہیں عالم اقوام نے بھی اس تنازعہ کا ادراک کرچکا ہے اور پاکستان کی مصنوعی حاکمیت کا پردہ چاک ہواہے کہ بلوچ وطن پنجاپی کا فطری حصہ اور ملکیت نہیں بلکہ وہ ایک قابض ہے آج عالم اقوام کھل کرآزاد بلوچ ریاست کی حمایت کررہے ہیں اس حمایت پر ہم ان کے احسان مند نہیں کہ وہ ہماری موقف کی حمایت کررہے ہیں بلکہ یہ ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ آزادی کی تحریکوں کی حمایت کرے اور اس سے قابض ریاست کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے اوروہ اس کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بلوچ جہد کاروں کو ”ہٹ“کررہی ہے شہید کررہی ہے اور ابھرتے ہوئے انقلاب کا جانی دشمن بن چکاہے اور رد انقلابی قوتون کی زبان میں رٹے رٹائے مٹھو کی طرح یہ جملہ ٹھونس دیا ہے کہ بلوچ آزادی کے لئے تیار نہیں یا یہ اوباش اور جذباتی نوجوان ہے یا بعض جگہ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ آج جو لاشیں گررہی ہیں یہ غلط جنگی حکمت عملی کا نتیجہ ہے یاہم آزادی کی بات نہ کریں تو ہم ریاستی دہشت گردی سے محفوظ ہوسکتے ہیں اس طرح کے کئی قسم کے نام نہاد تھیسز اور باشن کے ذریعہ بوسیدہ جواز پیدا کرکے جدوجہد کے فکری دشمن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں لیکن یہ دلیلیں آزادی پسندوں کے لئے گلی سڑی دلیلیں ہیں اور اس قابل نہیں کہ ان پر ہم یہاں مزید تبصرہ کریں یہ اس بچے کی دلیل کی طرح ہے کہ جو رات کوشور سن کر اپنا سر کمبل میں چھپالیتا ہے اور اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر یہ سمجھتاہے کہ اس سے باہر کی آوازیں تحلیل ہو سکتے ہیں اور خطرہ ٹل جائیگا لیکن باشعور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خطرے کا مقابلہ آنکھیں بند کرکے نہیں کیا جاسکتا فطری طور پرصرف بلوچ نہیں کوئی بھی انسان ہو وہ نہیں چائے گا کہ کسی سے تصادم اور محاز آرائی ہو یا خون بہنے پر و ہ خوش نہیں ہوتا کہ وہ بلوچ کا ہو یا کسی اور کا لیکن ہماری نزدیک اور دنیا کے بڑے بڑے دانشور اور عالموں کے نزدیک بھی یہ کوئی فکری جواز نہیں کہ کوئی رد انقلابی قوتوں یا قابض کی وعظ و نصیحت پر عمل کریں کیونکہ وہ اس نقطہ نگاہ کی بات کرتے ہیں جو ان کی مفادات کو وارے کھاتی ہے اور نہ ہی فلسفہ کا فکری جواز یہ ہے کہ ہم ان قوتوں کی غیر فطری تاویلوں پر اکتفا ء کرکے اپنی غلامی کے پروانے پر دستخط ثبت کریں اور قابض کو مزید مداخلت کا موقع دیں کیونکہ غلامی کے زنجیریں اس وقت ٹوٹیں گے جب ہم اپنے آپ کو آزاد شخص سمجھیں گے چائے وہ کوئی بھی ہوکسی فرد کی غلامی ہو یا کسی قابض قوم کی وہ سب غلامی کی شکلیں ہیں اور نہ ہی ہماری نظر میں وہی بلوچ قوم کی مستند قیادت ہے جو گزشتہ پچاس سال سے قوم پرستی کے نام پر ہمارے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ہمیں غلام بنانے میں ان رہزنوں کا بھی ہاتھ ہے جو غیر فطری دشمن کی طرح ہماری غیر فطری قیادت بنے بھیٹے تھے بلوچ ان بتوں کی اصلیت اپنی قربانیوں کے ذریعہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قوم دوست نہیں قوم دشمن ہے غلامی انسانی سوچ نہیں بلکہ حیوانی سوچ ہے کیونکہ حیوانات محض پیٹ بھرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن انسان اپنی آزادی اور عزت کو مقدم سمجھتا ہے بقول لیلی خالد کہ ”کتا وفادا ر نہیں بلکہ غلام جانور ہوتا ہے “لیکن اس کے برعکس انسان غلام بن کر نہیں رہ سکتا اس لئے بلوچ نہ پنجابی کی غلامی کو قبول کرسکتا ہے نہ ریاستی سرداروں اور نہ کہ نام نہا د بلوچ مڈل کلاس سیاست کی اب بلوچ قوم کو کوئی نہیں بہکا سکتا اور بلوچ کیڈروں نے بلوچ سماج سے بھیڑ چال کی بیخ کنی کرکے ان سرکاری دانشوروں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے کہ اب بلوچ قوم باشعور ہوچکاہے اب وہ دانش خوری کے زریعہ اسے ریوڑ کی صورت ہانکا نہیں جا سکتا اب بلوچ کندھے سے کندھے ملاکر اور صف در صف جدوجہد کرہا ہے لاشیں گرنے سے ارادے متزلزل نہیں پختہ ہوتے ہیں بلوچ شہداء کی روحیں دشمن سے مخاطب ہیں کہ آپ ہماری جسم کو مسخ کرسکتے ہیں لیکن ہماری آزادی کو مسخ نہیں کرسکتے آپ کسی جسم کو مارسکتے ہیں گولیوں سے چھلنی کرسکتے ہیں لیکن ہماری فکر کی کوکھ سے جنم آزادی کی پیدائش کو نہیں رو سکتے یہ سائنس ہے کہ پانی کو ایک خاص درجہ حرارت پر گرم کرنے سے وہ بھاپ میں تبدیل ہو جاتا ہے اگر اس کا درجہ حرارت مسلسل گرایا جائے تو وہ برف میں تبدیل ہو جاتا ہے جس طرح پانی کو بھاپ میں تبدیل کرنے کے لئے اسے گرم کرنا پڑے گا اسی طرح انقلاب اور جدوجہد کو آزادی کے جوہر میں تبدیل کرنے کے لئے شہادتیں ایندھن اور گرم درجہ حرارت ثابت ہوتی ہے
جیسے کہ ایک شاعر نے اس کی منظر کشی اس پیرائے میں کی ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلاہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
خون چلتاہے ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھا تاہے تو دبتا نہیں آئنوں سے
سازشیں لاکھ اڑھاتی رہی ظلمتوں کے نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ


