مئی میں شہید ہونے والے بلوچ شیرزال شہید ہائی رہیسانی شہید مالک ریکی بلوچ شہید رزاق گل بلوچ شہید عمر جان بلوچ شہید سعود بلوچ شہید وہاب بلوچ کو شاندار قربانی اور شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ
25.5.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں ماہ مئی میں شہید ہونے والے بلوچ شیرزال شہید ہائی رہیسانی ایرانی بلوچستان کے جہد کارشہید مالک ریکی بلوچ شہید رزاق گل بلوچ شہید عمر جان بلوچ شہید سعود بلوچ شہید وہاب بلوچ کو ان کی شاندار قربانی اور قومی شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ تحریک آزادی کی شدت وسعت اور بلوچ نیشنلزم کے سوال نے ریاست اور ان کے لے پالک اتحادیوں کو نہ صرف داخلی طور پر سنگین شکست سے دوچار کردیا ہے بلکہ تحریک کے عالمی پزیرائی نے ریاست کے لئے بین الاقوامی حوالہ سے ان کے خارجی تعلقات میں مشکلات کا باعث بھی بن چکی ہے جس کی وجہ سے قابض فوج تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے کاؤنٹرحربوں اور پالیسیوں پر مشتمل ریاستی دہشت گردانہ کا روائیوں کوتیز کرکے اپنی مجرمانہ جارحیت میں اضا فہ کردیا ہے حالیہ چند دنوں میں مارو اور پھینکو پالیسی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے قابض فورسز نے کئی مغوی بلوچ نوجوانوں کو شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پینکھ کر حراستی قتل عام کا سلسلہ تیز کردیا ہے بلوچ تحریک آزادی کی شکل میں ریاست کو بلوچستان میں ایک چیلنج کا سا منا ہے جس کی وجہ سے بلوچ قومی تحریک اور آزادی کی نظریہ سے وابسطہ سیاسی نوجوانوں کو اغواء کرکے ریاستی فورسز پاکستان کی غیر فطری اور نام نہاد علمدار ی کو قبول کروانے کے لئے نہ صرف شہید کررہی ہے بلکہ آزادی خواہ عوام اور شہری آبادیوں کو حراساں کیا جارہا ہے گومازی کے حالیہ واقعہ ریاست کی مکروہ عزائم کی واضح علامت ہے جس میں سول آبادی کو نشانہ بنایاگیاگھروں پر بمباری کی گئی ہے لوگوں کی نقدی اور مال مڈی لوٹی گئی اور گھروں کو آگ لگادی گئی اور کئی نوجوانوں کو اغواء کرکے انہیں لاپتہ کردیا گیانام نہاد اسلامی ریاست اور ان کی فوج نے گھروں میں موجود قران مجید کو بھی جلادیا گیا جو ان کی مصنوعی اسلامی ماسک سے پردہ ہٹانے کے لئے کافی ہے ترجمان نے کہاکہ تہران اور اسلام آبادمل کر بلوچ قوم کی نسل کشی کررہے ہیں مغربی اور مشرقی بلوچستان ایک ہی جسم کے دوحصہ ہے مغربی بلوچستان میں قابض ایرانی ریاست نے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے اب تک کئی بلوچ نوجوانوں علماء اور تحریک آزادی کے علمبرداروں کو شہید کرکے جدوجہد آزادی کو دبانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بلوچ قومی تحریک کے ابھار کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں مغربی بلوچستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے رحیم زردکوئی شہید بی بگر زرد کوئی شہید شہید داداشاہ سردار عبدی خاں علامہ ضیائی سمیت مبارکی قبیلہ کے کئی آزادی پسند سپوتوں نے اپنی جانیں نچھاور کرکے اپنی زاتی زندگیوں کو قومی آزادی کی ہمہ گیر نعمت کی نذر کردیاقومی جہد کار شہید مالک ریکی بھی مغربی بلوچستان کے آزادی کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے شہید کئے گئے انہیں کٹر شیعہ عقیدہ رکھنے والے قابض ریاستی سربراہ زرداری نے ایران کے حوالہ کیا جو گیس پائپ لائن معائدہ کا تحفہ تھا ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم اپنی مستقبل کی تمام مشکلات سے آگاہ دونوں قابض ریاست سے آزادی چاہتا ہے اور اس سلسلے میں بلوچ قوم جدوجہد کے ناگزیر مرحلے سے گزر کراپنی قومی حیثیت شناخت اورجغرافیہ کے حوالہ سے عالمی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کا میاب ہو چکی ہے جب کہ ریاست عالمی دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے بلوچ تحریک آزادی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دے کر ناراض بلوچ کا اصطلاح استعمال کرکے زمینی حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں جب ان کی گماشتہ پارلیمانی پارٹیوں کی جانب سے بھی اب بلوچ قوم کے لئے یہی اصطلاح استعمال کرکے ریاست کی ہم زبان بن کر بلوچ موقف کو آلودہ کرنے کے لئے گھناؤنے کوششیں کرہی ہین لیکن عالمی دنیا بلوچ تحریک آزادی کا مکمل اداراک رکھتے ہوئے ریاست کی سفاکیت کوجانتے ہین یورپی ممالک سمیت عالم دنیا قابض فوج اور ان کی جنگی جرائم سے متعلق حقائق سے باخبر ہے امریکی سینٹ میں بلوچستان کی آزادی کے حق مین قرادردا د تحریک آزادی کی جیت ہے جبکہ بعض ممالک جو اپنے سٹریٹیجک مفادات کے باعث اس مسئلہ میں غیر جانبدار ہے تاہم انہیں بلوچ قومی جدوجہد کی حساسیت کا علم ہے اور اس خطے میں ریاست کے ساتھ بلوچ سرزمیں کے حوالہ سے سرمایہ کاری اور دیگر معاملات میں پیچھے ہٹ گئے ہیں جو یقیناًتحریک کی جیت ہے جب کہ چیناء جو بلوچ قومی مرضی و منشاء اور بلوچستان کی مقبوضہ حیثیت کو نظر انداز کرکے گوادر پورٹ کو اپنے تحویل میں لے کر ملکی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے قوموں کے درمیان بین الاقومی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی کرکے بلوچ قوم کے لئے ایک دشمن ملک کا کردار ادا کررہا ہے تاہم گوادر پورٹ ان کے لئے جنت نہیں بلکہ ان کی تبا و بربادی کے سامنے پیدا کریگی ان کا مستقبل بھیٹنا یو ٹو پیائی خواب ہوگا


