×

ماہ جون کے شہداء شہید ماسٹر نذیر احمد بلوچ شہیدمرید بگٹی شہید خالد کرد شہید خالد لانگو شہید سنگت ابراھیم صالح بلوچ شہید کریم بخش مری شہید ستار بلوچ شہید بی بگر بلوچ شہید قدیر بلوچ شہید رمضان بلوچ شہید عبدالخالق بلوچ اور دیگر شہداء کو جدوجہد آزادی اور قوم

ماہ جون کے شہداء شہید ماسٹر نذیر احمد بلوچ شہیدمرید بگٹی شہید خالد کرد شہید خالد لانگو شہید سنگت ابراھیم صالح بلوچ شہید کریم بخش مری شہید ستار بلوچ شہید بی بگر بلوچ شہید قدیر بلوچ شہید رمضان بلوچ شہید عبدالخالق بلوچ اور دیگر شہداء کو جدوجہد آزادی اور قوم

28.6.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں ماہ جون کے شہداء شہید ماسٹر نذیر احمد بلوچ شہیدمرید بگٹی شہید خالد کرد شہید خالد لانگو شہید سنگت ابراھیم صالح بلوچ شہید کریم بخش مری شہید ستار بلوچ شہید بی بگر بلوچ شہید قدیر بلوچ شہید رمضان بلوچ شہید عبدالخالق بلوچ اور دیگر شہداء کو جدوجہد آزادی اور قومی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کا خون اور بلیدان رائیگاں نہیں جائے گا شہداء نے اپنی قربانیوں سے ثابت کردیا ہے کہ جان جیسے انمول چیزکی بھی آزادی کی مقابلہ میں کوئی اہمیت نہیں انہوں نے بلوچ قوم کو غلامی کی ذلت آمیززندگی سے نکالنے کے لئے اپنی جان سے گزر کر انقلابی فکر کا علم بلند رکھا ان کی خون اور قربانیوں کا نعم البدل آزادی ہے ان کا جدوجہد چند مراعات معمولی ملازمت روڈ نلکہ نالی اور شہری حقوق کے لئے نہیں تھا ان کا فکری وراثت ہمارے پاس امانت ہے جن کا محور و مقصد آزادی ہے انہوں نے جن اہداف کا انتخاب کرکے غلامی کی زندگی پر شہادت کو ترجیح دی ان کی خوں کا نعم البدل آزاد بلوچ قومی ریاست ہے ترجمان نے کہا کہ آزادی ہی بلوچ قوم کی اصل منزل اور وت واجہی ہے کٹھ پتلی گورنمنٹ اپنے آپ کو بلوچ قوم کا نمائندہ گردان کر بلوچ شہداء کی قربانیوں کو اپنے نام نہاد اقتدار سے نتھی کرکے شہداء کی جدوجہد کی توہیں کی ہے جو ناقابل معافی جرم ہے بلوچ شہداء نے پاکستانی پارلیمنٹ تک رسائی کے لئے جدوجہد نہیں کی بلکہ ان کامنزل ایک روشن صبح کے لئے تھی جوآزادی کی صورت میں طلوع ہوگا تیسرے درجہ کے گماشتہ حکومت بلوچ قوم کی اقتدار اعلی نہیں بلکہ قبضہ گیر کی نمائندہ حکومت اور سابقہ کٹھ پتلی حکومتوں کے تسلسل ہے جو ریاستی قبضہ اور لوٹ مار کو تحفظ دینے کے لئے خونریزی اور بلوچ نسل کشی کے سلسلہ میں شدت پیدا کرکے کاؤنٹر انسر جنسی کا حصہ ہے کسی گماشتہ نام کے ساتھ بلوچ کا لاحقہ لگاکراسے بلوچ قوم کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا نام کے بلوچ ہونے سے کوئی بلوچ قوم کا نمائندہ نہیں ہوسکتا ترجمان نے بلوچ قومی جدوجہدکو2006کے شورش قرار دینا آزادی کی جدوجہد اور مطالبہ سے آنکھیں چرانے کی مترادف ہے ریاست کی جانب سے کسی ایک شخص کو بلوچ قوم کا قاتل اور دشمن قرار دینا مضحکہ خیز اور جھوٹ ہے بلوچ قوم کا دشمن کوئی ایک شخص نہیں بلکہ قابض ریاست کا کل وجود بلوچ قوم کا دشمن ہے بلوچ شہداء اور لاپتہ افراد کی شہادت اور اغواء اور اس کے پس پردہ محرکا ت کیا ہے یہ محض انسانی حقوق کی پائمالی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے جڑی بلوچ قومی آزادی کی پائمالی کا مسئلہ بھی ہے قبضہ گیر اور ان کے گماشتہ حکومت بلوچ قومی جدوجہد کو محض حقوق کے چند مطالبات قرار دے کر بلوچ قومیء آزادی کے مطالبہ سے خوف زدہ ہے بلوچ مطالبہ سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے یہ لوگ آزادی کی تحریک کی دباؤ اور اثرات کو کم اور زائل نہیں کرسکتے ترجمان نے کہا کہ گماشتہ حکومت بلوچ قوم سے ہمدردانہ اور معذرت خواہانہ جیسے الفاظوں کے زریعہ کنفیوژن پھیلانا بند کردے اور بلوچ شہداء کے جدوجہد کو پارلیمنٹ کے رسائی سے منسلک کرنے جیسے مجرمانہ دروغ بیانی کا سلسلہ بند کردے شہیدمہراب خان سے لے کر اب تک بلوچ شہداء اپنی آزادی وقار شناخت اور دفاع کے لئے قربان ہوگئے شہید بالاچ شہید غلام محمدشہید سفر خان اور بابو شیرو مری سمیت تمام بلوچ شہداء نے پارلیمنٹ کو ٹھوکر مارکر پہاڑوں کا رخ کرکے واضح کیا کہ پارلیمنٹ ہماری منزل نہیں ہے گماشتہ حکومت بلوچستان میں قبضہ گیر کا وکیل بن کر ان کی دہشت گردی کو نظریاتی بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش کرکے سابقہ گماشتوں سے دو قدم آگے ہیں

Previous post

فدا بلوچ کو شہید کرنے والے جان لیں کہ ایک انقلابی و نظریاتی سپوت کو جسمانی طور پر اگر چہ علیحدہ کیا جاسکتاہے لیکن اس کی فکر و فلسفہ اور نظریات کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بلوچ جانثار اپنی جرائت اور عزم سے تاریخ کی کسوٹی پر ثابت کردیا ہے کہ آزادی کی تحریک ایک زندہ حقیقت ہے جسے دہشت گردی اور خوف پھیلانے کی روایتی اور گھناؤنے طریقوں سے سرنگوں نہیں کیا جاسکتا بلوچ سالویشن فرنٹ